BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 November, 2007, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سوات میں حکومتی کارروائی میں دیر کیوں؟

سوات کے گھروں میں فائرنگ کے نشانات
سوات کے گھروں میں فائرنگ کے نشانات
صوبہ سرحد کی وادی سوات میں مقامی طالبان کی طرف سے کچھ علاقوں میں پولیس تھانوں اور دیگر سرکاری عمارات پر بغیر کسی مزاحمت کے قبضہ کرنے اور وہاں اپنی عملداری قائم کرنے کو پڑھے لکھے حلقوں میں شک و شبے کی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔

سوات میں تقریباً تین ہفتے قبل مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامیوں نے سب سے پہلے صدر مقام مینگورہ سے چند ہی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع چار باغ کے علاقے میں قائم تھانے کو آگ لگائی اور وہاں کا کنٹرول سنبھالا۔

اس کے دیکھتے ہی دیکھتے عسکریت پسندوں نے آئندہ دو دنوں میں فرنٹیئر کور کے اڑتالیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا اور اس کے ساتھ ساتھ مٹہ اور خوازہ خیلہ تحصیلوں میں قائم پولیس تھانوں کو بھی قبضے میں لیکر وہاں مرکزی سڑکوں پر چیک پوسٹیں بنائی اور مسلح گشت شروع کردی۔

سوات کے بعد مالاکنڈ ڈویژن کے ایک اور ضلع شانگلہ میں بھی منگل کے روز مقامی عسکریت پسندوں نے صدر مقام الپوری میں پولیس ہیڈ کوارٹرز اور دیگر سرکاری عمارتوں کا کنٹرول سنبھالا ہے۔

سوات میں ہر جگہ پڑھا لکھا طبقہ یہ ایک ہی سوال اٹھا رہا ہے کہ آخر وہ کیا وجوہات ہیں کہ جن کی وجہ سے پولیس اور سکیورٹی فورسز نے پہلے بغیر مزاحمت کے تھانوں کا کنٹرول عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں دیا اور پھر ان کے آگے ہتھیار ڈالے؟

کیا حکومت کمزور ہوگئی ہے؟
 کیا حکومت کمزور ہوگئی ہے، سکیورٹی فورسز کا مورال گر گیا ہے، ان کے پاس اسلحہ نہیں، وہ جنگجوؤں کا مقابلہ نہیں کرسکتے یا اس کے در پردہ کوئی اور مقاصد کارفرما ہیں؟
کیا حکومت کمزور ہوگئی ہے، سکیورٹی فورسز کا مورال گر گیا ہے، ان کے پاس اسلحہ نہیں، وہ جنگجوؤں کا مقابلہ نہیں کرسکتے یا اس کے در پردہ کوئی اور مقاصد کار فرما ہیں؟

مینگورہ میں کئی طالب علموں سے بات چیت کے بعد ہر طالب علم صرف ایک ہی سوال دہراتا رہا کہ کل جب شانگلہ پر مقامی طالبان قبضہ کر رہے تھے تو حکومت کو اس بات کا کوئی علم نہیں تھا؟ اگر علم تھا تو کارروائی کیوں نہیں کی، ایکشن میں اتنی دیر کیوں لگائی گئی اور اس میں کیا مصلحت کار فرما تھی؟

طالب علم یہ سوالات بھی کرتے رہے کہ شانگلہ چھوڑنے والے اعلیٰ سرکاری اہلکار اگر اپنے آپ کو بچانے کے لئے طالبان کے آنے سے ایک دن پہلے علاقہ چھوڑ سکتے تھے تو عسکریت پسندوں کو روکنے کے انتظامات بھی تو کر سکتے تھے، کیوں نہیں کیے گئے ؟

سید و شریف میڈیکل کالج کے ایک طالب علم سجاد کا کہنا تھا کہ طالبان کے زیر کنٹرول علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سوات میں حکومت نام کی کسی شئے کا وجود ہی نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’ایسا لگتا ہے کہ ہم پاکستان میں نہیں بلکہ افغانستان کے کسی شہر میں آگئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ بدھ کے روز کالام میں طالبان کے زیراہتمام ایک بڑے جلسۂ عام کا اہتمام کیا گیا جس میں کوئی پندرہ سو کے قریب جنگجوؤں نے شرکت کی۔ سجاد کے بقول ’حکومت نے جلسے کو روکنے کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی حالانکہ وہ اس جلسے کو روک سکتے تھے اور اسی طرح ہی شدت پسندوں کے حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کل کالام میں انہی لوگوں کے اثر و رسوخ میں جب اضافہ ہوگا تو پھر حکومت ان کے خلاف کارروائی کریگی جس میں پھر بے گناہ لوگ بھی مریں گے اور تباہی بھی ہوگی۔‘

سوات میں ویسے تو مذہبی شدت پسندی کا آغاز نوے کے عشرے میں ہوا تاہم اس میں حالیہ شدت مالاکنڈ ڈویژن میں غیرقانونی ایف ایم ریڈیو چینلز کی بھر مار سے شروع ہوئی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ یہ شدت پسندی بڑھی کیسے اورحکومت نے اس کو شروع میں کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کیوں نہیں کیے؟ کیا حکومت خود تو اس کی ترویج میں ملوث نہیں رہی ہے یا درپردہ کوئی بڑا کھیل کھیلا جا رہا ہے؟ یہی وہ سوالات تھے جو طالب علم بحث کے دوران بار بار پوچھتے رہیں۔

ایک اور طالب علم نے سوال کیا کہ ’حکومت نے خود اس سال کے شروع میں مولانا فضل اللہ سے باقاعدہ ایک معاہدہ کیا اور ان کو ایف ایم ریڈیو چلانے کی اجازت دی۔ اب ہم اس معاہدے کو کس چیز کا نام دیں؟ حکومت کیوں معاہدے پر مجبور ہوئی؟ اگر شروع میں اس کے چینل کو کنٹرول کیاجاتا تو مولانا صاحب آج اتنے طاقتور نہ ہوتے کہ اب حکومت مجبوراً ان سے تحریری معاہدے کر رہی ہے۔‘

سوات میں حکومتی عملداری کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ مسائل کو سنجیدگی سے نہ لینا اور اس کے حل کے لئے بروقت اقدامات نہ کرنا بتایا جا رہا ہے جبکہ اب اس رٹ کو بحال کرانے کے لئے سینکڑوں بےگناہ عوام کی قربانی دینی ہوگی۔

سواتسوات میں بدامنی
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ
سواتسوات کا مسئلہ
مقامی سطح پر رابطوں کے فقدان کی شکایت
میاں گل اورنگزیب سوات قابو سے باہر
اب اسے میں بھی ٹھیک نہیں کر سکتا: ولی عہد
سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
اہلکار یرغمال
سوات میں فوجی آپریشن پر سوال
سواتعسکری جغرافیہ
ضلع سوات میں شدت پسند کہاں کہاں؟
سوات میں عسکریت پسند(فائل فوٹو)سوات کے جنگجو
جنگجوگروپ ’نیٹ ورک‘ کی صورت سرگرم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد