BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 November, 2007, 10:45 GMT 15:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان کا لشکر تیار کرنے کا اعلان

News image
 اگر حکومت نے چند دنوں کے دوران کارروائی نہیں روکی تو دس ہزار جنگجوؤں پر مشتمل لشکر کو سوات میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے زیر کمان دیا جائے گا
مقامی طالبان سربراہ مولانا فقیر محمد
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ، مومند اور ضلع دیر میں سرگرم طالبان نے ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ برسرپیکار طالبان کی مدد کے لیے دس ہزار جنگجوؤں پر مشتمل ایک لشکر تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

باجوڑ میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فقیر محمد نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان شوری کا ایک اجلاس سنیچر کی صبح ایک نامعلوم مقام پر منعقد ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر حکومت نے ضلع سوات میں طالبان کے خلاف جاری مبینہ کارروائی جلد از جلد بند نہیں کی تو باجوڑ، دیر، اور مومند ایجسنی سے تعلق رکھنے والے دس ہزار جنگجوؤں کا ایک لشکر تشکیل دیا جائے گا جس سے سوات میں طالبان کی مدد کے لیے بجھوایا جائے گا۔


ان کے بقول’طالبان کی شوری نے یہ فیصلہ ہنگامی طور پر بلائے گئے ایک اجلاس میں کیا ہے جسے عملی جامہ پہنانے کے لیے ہم نے اپنے تمام جنگجؤوں کو منظم کرنا شروع کردیا ہے۔ اگر حکومت نے چند دنوں کے دوران کارروائی نہیں روکی تو دس ہزار جنگجوؤں پر مشتمل لشکر کو سوات میں طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے زیر کمان دیا جائے گا جس سے وہ اپنی ضرورت کے مطابق جہاں چاہیں تعینات کرسکتے ہیں‘۔

مولانا فقیر محمد کا مزید کہنا تھا کہ یہ محض ایک اعلان نہیں ہے بلکہ انہوں نے آپریشن ختم کرنے کے لیے کافی انتظار کیا تاہم اب ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ہے اور اب اپنے اس فیصلے کو ہرصورت میں عملی جامہ پہنایا جائے گا۔

ان کے بقول’ ہم نہیں چاہتے کہ فوج کے ساتھ لڑائی شروع کرکے اپنے ہی گھر کو آگ میں جھونک دیں مگر حکومت نے سوات کو ایک محاذ میں تبدیل کردیا ہے لہذا مجبوری کی وجہ سے ہمیں اس محاذ پر مقامی طالبان کے شانہ بشانہ لڑنا پڑےگا‘۔

واضح رہے کہ باجوڑ اور مومند ایجنسی کے مقامی طالبان نے ضلع سوات میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تقریباً تین ہفتے قبل حکومت کے ساتھ جرگے کی توسط سے جاری امن مذاکرات کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

درایں اثنا مرکزی وزارت اطلاعات کے ڈپٹی ڈائریکٹر امجد اقبال نے مینگورہ میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات آپریشن میں اب تک 120 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس مسئلے کے حل کے سلسلے میں مقامی جرگوں کی مدد سے بھی کام جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی آبادی کے شریعت کے نفاذ کے مطالبے کے سلسلے میں صوبائی حکومت اقدامات کر رہی ہے۔

سواتعسکری جغرافیہ
ضلع سوات میں شدت پسند کہاں کہاں؟
سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
سواتسوات میں بدامنی
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ
سوات کے ’عسکریت پسند‘’عسکریت پسند‘
سوات: مولانا فضل اللہ کے حامیوں کی چند تصاویر
اسی بارے میں
سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک
14 November, 2007 | پاکستان
سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا
09 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد