سوات، شانگلہ میں لڑائی، متعدد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی وادی سوات سے ملحق ضلع شانگلہ سے اطلاعات کے مطابق سکیورٹی فورسز اور مقامی طالبان کے مابین شدید جھڑپیں جاری ہیں جس میں کم سے کم دونوں طرف سے پچیس افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف سوات میں بھی گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مقامی طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے تاہم اس حملے میں ہلاکتوں کی مصدقہ اطلاعات نہیں ہے۔ شانگلہ سے ملنے والی اطلاعات میں عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بدھ سے شروع ہونے والی لڑائی میں سکیورٹی فورسز نے توپ بردار ہیلی کاپٹروں اور توپ خانے کا آزادانہ استعمال کیا ہے جس میں زیادہ تر گولے شہری آبادی پر گرے ہیں۔ شانگلہ کے تحصیل ناظم طیب خان نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ کل سے جاری جھڑپوں میں پندرہ افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے جس میں زیادہ عام شہری بتائے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں فوجی اور طالبان جنگجو بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی میں دونوں جانب سے بھاری ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں جس سے ہلاکتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شانگلہ کے صدر مقام الپوری پر مقامی جنگجوؤں کا قبضہ آج دوسرے روز بھی برقرار ہے۔ پاکستان فوج کےترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے شانگلہ میں جمعرات کو ہونے ولے جھڑپوں میں بارہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں سوات میں مقامی طالبان کے ترجمان سراج الدین نے پچاس فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ شانگلہ سے ایوان بالا کے رکن سنیٹر راحت حسین کے مطابق جھڑپوں میں دو فوجیوں اور دو عسکریت پسندوں کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑائی سے علاقے میں سخت خوف و ہراس ہے، تمام بازار، کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند ہیں جبکہ علاقے سے لوگ بڑی تعداد میں محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ راحت حسین نے مزید بتایا کہ شانگلہ کے علاقے شاہ پور میں آج علاقے کے عمائدین اور مشران کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں علاقے میں جاری آپریشن کو فوری طور پر بند کرنےاور مسئلے کا حل مذاکرات کے ذریعے سے طے کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ادھر سوات میں بھی آج گن شپ ہیلی کاپٹروں نے کوزہ بانڈے اور کبل میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ جاری رکھی جس میں ہلاکتوں کی مصدقہ اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ سوات میں امن وامان بحال کرنے کے لئے آج دیر میں چکدرہ کے مقام پر مالاکنڈ امن جرگے کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ جرگے کی سربراہی جمعیت علماء اسلام (ف) صوبہ سرحد کے امیر سنیٹر گل نصیب خان نے کی۔ جرگے میں فیصلہ ہوا کہ سوات میں امن و امان بحال کرنے کے لئے عوامی سطح پر ریلیاں اور امن کانفرنسز منعقد کیے جائیں گے۔ جرگے کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ اکیس نومبر کو مالاکنڈ ایجنسی میں امن ریلی اور کانفرنس منعقد ہوگا جبکہ 22 اور 23 نومبر کو دیر کے دو اضلاع میں، 24 کو بونیر اور25 نومبر کو مالاکنڈ ڈویژن کے تمام اضلاع سے لوگ مینگورہ میں جمع ہونگے جہاں وہ ایک بڑی عوامی ریلی اور امن کانفرنس میں شرکت کرینگے۔ |
اسی بارے میں مالاکنڈ ڈویژن: کچھ علاقوں میں کرفیو13 November, 2007 | پاکستان سوات:انتظامی کنٹرول فوج کے پاس12 November, 2007 | پاکستان سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا09 November, 2007 | پاکستان ساٹھ اہلکاروں نے ہتھیار ڈال دیئے08 November, 2007 | پاکستان ’مزید ایک سو اہلکاروں کا اغوا‘03 November, 2007 | پاکستان سوات: نقل مکانی کرنے والوں کا المیہ01 November, 2007 | پاکستان سوات: سکیورٹی اہلکاروں کا اغوا اور رہائی02 November, 2007 | پاکستان سوات میں مزید ہلاکتوں کا دعوٰی01 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||