رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مٹہپشاور |  |
 | | | سوات میں عسکریت پسندوں نے پہلے بھی سکیورٹی اہلکاروں کو اغو کر لیا تھا |
پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں سیکورٹی فورسز کے مزید ساٹھ اہلکاروں نے مقامی طالبان کے سامنے مبینہ طورپر ہتھیار ڈال کر اپنے آپ کو اسلحہ سمیت ان کے حوالے کردیا ہے۔ سوات میں مقامی عسکریت پسندوں کے ترجمان سراج الدین نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ مٹہ تحصیل کے علاقے دروش میں قائم فرنٹیر کانسٹبلری کی ایک پوسٹ پر تعینات ساٹھ اہلکاروں نے کئی گھنٹوں کے کامیاب مذاکرات کے بعد مقامی طالبان کے سامنے پیش ہوئے اور اپنا اسلحہ بھی ان کے حوالے کردیا۔ ان کے مطابق اہلکاروں نے اس شرط پر ہتھیار ڈالے ہیں کہ انہیں مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا۔ سراج الدین نے مزید بتایا کہ ایف سی اہلکاروں کو معاہدے کے مطابق کچھ نہیں کہا جائے گا اور انہیں جلد ہی غیر مشروط طورپر آزاد کرکے ان کے گھروں تک بحفاظت پہنچا دیا جائے گا۔ سوات میں سرکاری ذرائع نے بھی ایف سی اہلکاروں کے ہتھیار ڈالنے کے واقعہ کی تصدیق کی ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ہتھیار ڈالنے والے اہلکاروں میں اکثریت دو ماہ کے بعد ریٹائرڈ ہونے والے تھے۔ تاہم سرکاری اہلکار نے مزید تفصیلات دینے سے انکار کیا۔ سوات میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے دو سو سے زائد اہلکاروں نے مقامی طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالے ہیں۔ ان میں فرنٹیر کور کے اڑتالیس اہلکار بھی شامل ہیں جنہیں تقریباً ایک ہفتہ قبل چارباغ کے علاقے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے بھی پیش کیا گیا تھا۔ یاد رہے کے سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف حکومتی کاروائی شروع ہونے کے کچھ روز بعد مقامی طالبان نے سکیورٹی فورسز کے اٹھ اہلکاروں کو گلہ کاٹ کر ہلاک کیا تھا۔ ادھر دوسری طرف سوات میں گزشتہ دو دنوں سے حالات پرسکون ہے اور کسی علاقے سے فائرنگ کی اطلاعات نہیں ملی ہے۔ واضح رہے کہ سوات میں دو ہفتے قبل سکیورٹی فورسز کے ڈھائی ہزار اہلکاروں کی تعیناتی کے بعد وہاں مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامیوں اور سکیورٹی فورسز کے مابین جھڑپیں شروع ہوئی تھیں جس میں اب تک کئی افراد مارے جاچکے ہیں۔ |