بھٹو کی ہلاکت، ملک گیر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کی راولپنڈی میں ایک خود کش حملے میں ہلاکت کے بعد ملک کے مختلف صوبوں سے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
پنجاب پنجاب کے تقریبا تمام بڑے شہروں میں بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کی اطلاع ملتے ہی کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند کر دی گئی ہیں۔ لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق سرگودھا میں مسلم لیگ ق کے اس پنڈال میں آگ لگا دی گئی جہاں جمعرات کو مسلم لیگ ق کا جلسہ عام ہونا تھا۔ سینکڑوں مشتعل افراد نے سٹیج، کرسیوں، بینر اور پوسٹروں کو آگ لگا دی۔ اس کے علاوہ مسلم لیگ ق کے تین انتخابی دفاتر کو بھی آگ لگائی گئی ہے۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی احتجاج اور ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کی اطلاعات ملی ہیں۔ بیشتر شہروں میں پٹرول پمپ، سنیما گھر، تھئیٹر بند کر دئیے گئے ہیں۔ لاہور میں پولیس کی دوگاڑیوں کو جلا دیا گیا جبکہ تیسری کو پولیس اہلکاروں سمیت اغوا کر لیا گیا۔ بعد میں پولیس اہلکاروں کو تشدد کے بعد رہا کر دیا گیا۔ گوجرانوالہ میں دکانیں بند کرنے میں تاخیر کرنے والوں کی دکانوں میں توڑ پھوڑ کی گئی ہے۔ ملتان میں چوک رشید آباد میں سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا، توڑ پھوڑ کی اور ٹائر جلا کر آگ لگائی۔ ملتان کے ڈیرہ دار چوک اور کنٹونمنٹ کے علاقے سے ہوائی فائرنگ کی اطلاع ملی ہے۔ پنجاب کے مختلف شہروں سے آنے والی اطلاعات میں کہا گیا ہے پیپلز پارٹی کے کارکن مشتعل ہیں اور متعددنے انتقام کی بات کی ہے۔ اندرون سندھ لاڑکانہ اور سکھر میں رینگرز طلب کر لیے گئےہیں۔ دادو میں سابق وفاقی وزیر لیاقت جتوئی کے گھر کو آگ لگا دی گئی ہے۔ لاڑکانہ میں ان کے ایک رشتہ دار کا ہوٹل بھی چلا دیا گیا ہے۔ سکھر میں مشرف حکومت کے حامی ضلع ناظم ناصر حسین شاہ کے گپر کو بپی آگ لگا دی گئی۔ اس کے علاوہ سکھر میں ضلع کونسل ہال اور ضلع ناظم دفتر اور جنرل پوسٹ آفس بھی نذر آتش کر دئیے گئے۔ پنوں عاقل سٹیشن پر فوج کی کھڑی گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی اور وہاں فو ج طلب کر لی گئی ہے۔ دوسری جانب بےنظیر بھٹو کے آبائی شہر نوڈیرو سے قریب گزرتی ہوئی ریل گاڑی خوشحال خان کھٹک ایکسپریس کو لوگوں نے آگ لگا دی۔ یہ ریل گاڑی کراچی سے کوئٹہ جا رہی تھی۔ سکھر کے قریب قومی شاہ راہ پر مشتعل لوگوں نے ٹرالرز، ٹرکوں اور دوسری گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ کراچی سے باقی ملک کی طرف جانے والی دو بڑی شاہ راہوں انڈس ہائی وے اور قومی شاہ راہ کو بند کر دیا گیا ہے اور ٹریفک معطل ہے۔ سڑکوں اور شہروں کا کنٹرول مشتعل افراد نے سمبھالا ہوا ہے۔ پولیس کہیں بھی نظر نہیں آ رہی۔ پشاور پولیس ذرائع کے مطابق جی ٹی روڈ پر بعض مشتعل افراد نے ایک گاڑی کو آگ لگائی اور سڑک پر نصب درجنوں سائن بورڈ اور گاڑیوں کے شیشے توڑے۔ پولیس نے مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے گولے فائر کیے۔ کوئٹہ لورالائی شہر میں سب سے پہلے توڑ پھوڑ شروع کی گئی جہاں گاڑیوں کے شیشے توڑے گئے ہیں اور عمارتوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مکران ڈویژن کے شہر تربت سے مشتعل افراد نے ہوائی فائرنگ کی ہے اور ایک دھماکے کی آواز سنی گئی ہے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ جعفر آباد اور نصیر آباد کے علاقوں میں مشتعل افراد نے ٹائر جلا کر روڈ بلاک اور دکانیں بند کرا دیں ہیں۔ کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر علاقوں میں غم و غصہ کی فضا پائی جاتی ہے۔ پیپلز پارٹی کے صوبائی صدر لشکری رئیسانی کی رہائش گاہ پر بڑی تعداد میں کارکن جمع ہو گئے ہیں لیکن اب تک کسی تشدد کے واقعے کی اطلاع نہیں ہے۔ کوئٹہ میں آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کا اجلاس ہوا ہے جس میں اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔ اے پی ڈی ایم کے صوبائی صدر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ یہ فوجی حکمرانوں کا کیا دھرا ہے جو سیاست اور سیاسی جماعتوں کو برداشت نہیں کر رہے۔ کوئٹہ میں پولیس حکام کے مطابق تمام اہم مقامات پر پولیس کی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے۔ لسبیلہ سے پیپلز پارٹی کے مقامی رہنماؤں کے مطابق بیلہ میں دکانیں اور بازار بند کر دئیے گئے ہیں اور تین دن کے سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ پاکستانی زیر انتظام کشمیر مشتعل مظاہرین نے کئی مقامات پر ٹائر جلا کر شہر کی اندرونی اور شہر کی طرف آنے والی سڑکیں بند کر دیں۔ مظاہرین نے بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ وہ پاکستان کے صدر رٹیائرڈ جنرل پرویز مشرف کے خلاف بھی نعرے لگا رہے تھے۔ بےنظیر بھٹو کے کئی حمائیتیوں کی آنکھیں پرنم تھیں۔ اس دوران کسی بھی صورت حال سے نپٹنے کے لیے پولیس کی بھاری جمعیت مظاہرین کے ساتھ رہی تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے بعض دوسرے علاقوں میں بھی بےنظیر بھٹو کی ہلاکت کے خلاف مظاہرے کئے گئے۔ کشمیر کے اس علاقے کی پیپلز پارٹی نے اپنی رہنما کی ہلاکت پر غیر معینہ مدت کے لیے سوگ منانے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ اعلان کیا کہ جمعہ کے روز کشمیر کے اس علاقے میں وسیع پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں بینظیر بھٹو قاتلانہ حملے میں ہلاک27 December, 2007 | پاکستان سیاسی واقعات: کب کیا ہوا27 December, 2007 | پاکستان ہنگامے، توڑ پھوڑ، غم و غصے کی لہر27 December, 2007 | پاکستان یہ ٹارگٹ کلنگ ہے: بابر اعوان27 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||