BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 December, 2007, 11:37 GMT 16:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اب یہ علم کون اٹھائےگا؟

بینظیر بھٹو کی تصاویر دنیا کے تمام اخبارات کے سرورق پر شائع کی گئی ہیں
جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی تھی تو یہ علم ان کی پنکی بینظیر بھٹو نے اٹھایا تھا۔ اس وقت بینظیر بھٹو کی عمر 26 برس تھی۔ اور انہوں نے اپنی والدہ بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ مل کرضیاالحق کی فوجی آمریت کے خلاف جدوجہد کا علم بلند کیا تھا۔

اب یہ علم کون اٹھائیگا؟ اور یہ ذمہ داری کس حد تک نبھا پائےگا؟ ہر ذہن میں یہ ہی سوال اٹھ رہے ہیں۔

بینطیر بھٹو کے بیٹے بلاول کم عمر ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری بیٹی صنم بھٹو سیاست سے دور ہیں۔ آصف زرداری کی صحت ان کو کتنی اجازت دیتی ہے۔ کارکن اور عوام انہیں کس حد تک تسلیم کرتے ہیں یہ چند سوالات ہیں۔ جن پر پی پی کے مستقبل کے بارے میں فکرمند لوگ سوچ رہے ہیں۔

بھٹو خاندان کا المیہ بھارت کے نہرو خاندان جیسا لگتا ہے۔ جیسے کانگریس کے لئے نہرو خاندان ناگزیر ہے، اسی طرح پی پی کے لیے بھٹو خاندان بھی ناگزیر ہے۔ ضیاء دور میں بھٹو خواتین کو کونے سے لگانے کے لیے بارہا کوششیں کی گئی۔ پارٹی کو توڑنے اور اس کی قیادت کسی اور فرد کے حوالے کرنے کی کوشش کی گئی یہ ہی مشق صدر مشرف کے دور میں بھی دہرائی گئی لیکن یہ سب کچھ ناکام رہا ۔

جس طرح جواہر لال نہرو نے اپنی جانشین کے طور پر اندرا گاندھی کو تیار کیا تھا اسی طرح بھٹو نے بے نظیر کو تیار کرنے کی کوشش کی یہ اور بات ہے کہ بھٹو کو اتنا وقت نہیں مل سکا جتنا نہرو کو ملا تھا۔ لیکن بعد میں بینظیر نے جدوجہد اور سیاسی چیلنجوں کے ذریعے سب کچھ سیکھا۔

نہرو خاندان میں اندرا گاندھی اپنے چھوٹے بیٹے سنجے گاندھی کو سیاست میں آگے لانا چاہتی تھیں لیکن وہ ایک ہوائی حادثے میں ہلاک ہوگئے۔


اندرا گاندھی کے قتل کے بعد راجیو گاندھی جن کی سیاست میں کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی۔ ان کو کانگریس میدان میں لے آئی۔ راجیو گاندھی کی خود کش حملے میں ہلاکت کے بعد ان کی بیوہ سونیا گاندھی نے کانگریس کی باگ ڈور سنبھالی اور آگے چل کر اس نے یہ ذمہ داری راجیو گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی کے حوالے کی۔

بینظیر بھٹو نے اپنے کارکنوں کے درمیان دم توڑا جو اس کو ’مارئی ملیر جی‘ اور ’مشرق کی بیٹی‘ اور بہن قرار دیتے تھے۔ یہ وہ کارکن ہی تھے جو اس کی طاقت کا سرچشمہ تھے۔ یہ کارکن اور جیالے جب بھی پی پی یا بینظیر پر برا وقت آیا آڑے آئے اور انہوں نے اپنی جان دی۔ کوڑے کھائے، قید کی صعوبتیں بھگتیں۔

پھانسیوں کو سجایا اور بعد میں آہنی دیوار بن کر کھڑے رہے اور اس کو بچاتے رہے ۔

بینطیر بھٹو کی ملک واپسی سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت مخدوم امین فہیم نے سنبھالی ہوئی تھی اور اس وقت بھی تنظیمی طور پر وہ ہی سینئر ہیں۔

بھٹو کی بہو غنویٰ بھٹو اور پوتی فاطمہ سیاست میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ غنویٰ بھٹو کو پارٹی کارکنان اور لوگ بینظیر کی جگہ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

شاید بینظیر کی غیر موجودگی میں مرتضی بھٹو کی بیٹی فاطمہ کو کچھ جگہ مل سکے۔ لیکن اس کے لئے دونوں فریقین کو بہت کچھ کرنا پڑے گا۔

پیپلز پارٹی کے کارکن بھٹو خاندان کے شیدائی ہیں اس لیے ان کی نظر اسی خاندان پر ہے جس کا آخری فرد ذوالفقار علی بھٹو کی چھوٹی اور آخری بیٹی صنم بھٹو ہی ہے۔

بینظیرگڑھی خدا بخش
’ آخر کتنے بھٹوز کی میتیں آتی رہیں گی؟‘
اخبارات’بینظیر بھٹو شہید‘
بینظیر کو اخبارات کا بعد از موت خراج عقیدت
عوام کی ملکہ
اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو!
قتل کے بعدسوگ، غم، غصہ
بےنظیر کے قتل پر پاکستان کا کیا حال ہے؟
بینظیر بھٹوبینظیر بھٹو کا قتل
پیچھےکون؟ القاعدہ، طالبان یا کوئی اور
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد