’ توجہ ہٹانے کے لیے القاعدہ کا نام ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے القاعدہ کی جانب سے مبینہ طور پر بینظیر بھٹو پر حملے کی ذمے داری قبول کرنے والی اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس طرح کی باتیں ممکن ہے اس لیے کہی جارہی ہوں تاکہ اصل چہروں کو چھپایا جاسکے۔ پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا کہ اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد بھی اسی طرح کا ایک بیان جاری ہوا تھا اور قبائلی علاقے کے ایک گروہ کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ اس نے ذمہ داری قبول کی ہے لیکن اگلے ہی روز نے اسی گروہ نے اس کی تردید کردی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے یہ بھی غلط بیان دیا گیا ہو۔’جو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ یہ القاعدہ یا طالبان کی جانب سے حملہ ہے وہ اصلی چہرے بے نقاب کرنا نہیں چاہتے، انہوں نے توجہ ہٹانے کے لیے یہ بات کی ہے۔‘ دوسری طرف ذرائع ابلاغ کے مطابق القاعدہ کی قیادت نے بینظیر بھٹو پر قاتلانہ حملے کی ذمے داری قبول کرلی ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سلیم شہزاد نے بتایا کہ حملے کے فوری بعد ترجمان نے نامعلوم مقام سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے کہا کہ ’ہم نے بینظیر بھٹو کو مار دیا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ ترجمان کا کہنا تھا: ’ہم نے امریکہ کے قیمتی اثاثے کو ختم کر دیا ہے جو یہاں امریکہ کی جنگ لڑنے آئی تھی ۔‘ مصری مصطفیٰ ابو الیازد سابق بینکر ہیں جو القاعدہ کے دوسرے بڑے رہنما ایمن الظواہری کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں افغانستان میں القاعدہ کا کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔ مقامی ٹی وی چینلز کے مطابق حکومت پاکستان نے بھی القاعدہ کے اس دعویٰ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ |
اسی بارے میں پیپلز پارٹی، قسمیں اور حلف نامے12 December, 2007 | پاکستان لیاری میں تیر جیتے گا یا فٹبال 18 December, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو کی آخری تقریر27 December, 2007 | پاکستان ایک اور بھٹو کا قتل27 December, 2007 | پاکستان انتخابی ریلی پر خودکش حملہ، بینظیر زخمی، کم سے کم پندرہ افراد ہلاک27 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||