انتخابی ریلی پر خودکش حملہ، بینظیر زخمی، کم سے کم پندرہ افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی میں سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی جلسہ گاہ کے باہر خود کش حملے میں کم سے کم پندرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بینظیر بھٹو اور ان کی ساتھی شیری رحمان بھی زخمی ہوئے ہیں اور انہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال لےجایا گیا ہے۔ ہپستال میں بینظیر بھٹو کی حالت کے بارے میں متضاد اطلاعات ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب بینظیر بھٹو لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب کر کے جا رہی تھیں۔ اس بارے میں متضاد اطلاعات ہیں کہ بینظیر جائے وقوع سے کتنی دور تھیں۔ پیپلز پارٹی کے ایک رہنماء فرحت االلہ بابر کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب ان کی گاڑی صرف پچاس میٹر کے فاصلے پر تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل حامد نواز کے مطابق یہ ایک خود کش حملہ تھا۔ لیاقت باغ کے صدر دروازے کے باہر، جہاں یہ دھماکہ ہوا، چاروں طرف انسانی اعضاء بکھرے پڑے ہیں۔ مرنے والوں میں سکیورٹی کے اہلکار بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ دھماکہ سے چند لمحے قبل تین گولیاں چلنے کی آواز بھی سنی گئی۔ زخمیوں کو مختلف سپتالوں میں منتقل کیا جارہا ہے۔ |
اسی بارے میں غیرملکی ماہرین بلائے جائیں: بینظیر26 October, 2007 | پاکستان تحقیقات: غیرملکی ماہرین پر تنازعہ26 October, 2007 | پاکستان بینظیر حملہ، مشتبہ افراد کی تصاویر26 October, 2007 | پاکستان کراچی حملے، سپریم کورٹ کا نوٹس31 October, 2007 | پاکستان بینظیر، نیگروپونٹے کی بات چیت16 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||