اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | پاکستانی تفتیش کاروں کو جدید سہولیات میسر نہیں: بینظیر بھٹو |
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کو خط لکھ کر باضابطہ طور پر انیس اکتوبر کے حملوں کی تحقیقات کے لیے امریکہ اور برطانوی ماہرینِ تفتیش کی مدد حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جمعہ کو پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ بینظیر بھٹو نے اس خط کی کاپیاں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، پاکستان کے صدر، سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹسز کو بھی ارسال کی ہیں۔ ’پیپلز پارٹی آپ سے کہتی کہ پاکستان کی کم تر تیکنیکی اہلیت رکھنے والی تحقیقاتی پولیس کی مدد کے لیے جدید ترین اور سائنسی تحقیق کی سہولیات سے آراستہ سکاٹ لینڈ یارڈ اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن یعنی ایف بی آئی سے تعاون حاصل کیا جائے، تاکہ مجرموں کو کٹہڑے میں لایا جاسکے۔‘ بینظیر بھٹو نے یہ خط صدر جنرل پرویز مشرف کی جانب سے غیر ملکی تفتیش کاروں کو شامل نہ کرنے کے اعلان سے محض ایک روز بعد جاری کیا ہے۔ صدر نے جمعرات کی شب وزیراعظم ہاؤس میں حکومت کے حامی اراکین پارلیمان سے خطاب میں کہا تھا کہ انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ برگیڈیئر اعجاز شاہ کو ہٹایا جائے گا اور نہ ہی غیر ملکی تفتیش کاروں کی مدد لی جائے گی۔ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے وطن آنے سے دو روز قبل یعنی سولہ اکتوبر کو صدر جنرل پرویز مشرف کو ایک خط میں کہا تھا کہ برگیڈیئر اعجاز شاہ سمیت تین حکومتی شخصیات ایسی ہیں جن سے انہیں جان کا خطرہ لاحق ہے۔ بینظیر بھٹو نے صدر کو یہ بھی کہا تھا کہ اگر انہیں (بینظیر) کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری ان تین شخصیات پر عائد ہوگی۔ تاہم انہوں نے دو دیگر افراد کے نام تاحال ظاہر نہیں کیے۔
 | مزید خطرات  بینظیر بھٹو نے خط میں لکھا ہے کہ صوبہ سندھ کی حکومت سے انہیں ایک خط موصول ہوا ہے جس سے وہ مزید خطرات سے دوچار ہوگئیں ہیں۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے انکی رنگین شیشوں والی گاڑی اور مسلح محافظوں کی درخواست رد کردی ہے  |
سیکرٹری داخلہ کو لکھے گئے خط میں سابق وزیراعظم نے بائیس اکتوبر کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی جانب سے انیس اکتوبر کے حملوں کے خلاف منظور کردہ اس قرار داد کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں کونسل نے بم حملوں کی مذمت کرتے ہوئے تمام ریاستوں سے تفتیش میں پاکستان کی مدد کا کہا تھا۔بینظیر بھٹو نے خط میں لکھا ہے کہ صوبہ سندھ کی حکومت سے انہیں ایک خط موصول ہوا ہے جس سے وہ مزید خطرات سے دوچار ہوگئیں ہیں۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت نے انکی رنگین شیشوں والی گاڑی اور مسلح محافظوں کی درخواست رد کردی ہے۔ ’سندھ حکومت نے کہا ہے کہ دوران سفر شفاف شیشوں والی گاڑی استعمال کریں اور عوامی جگہوں پر نجی مسلح محافظوں کے بغیر جائیں۔‘ بینظیر بھٹو نے لاحق خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے تئیس اکتوبر کو اپنے وکیل فاروق نائک کو موصول ہونے والے اس خط کا بھی ذکر کیا ہے جس میں فاروق نائک اور بینظیر بھٹو کو ایک نامعلوم شدت پسند گروہ کی جانب سے بکری کی طرح ذبحہ کیے جانے کی دھمکی موصول ہوئی تھی۔ وفاقی سیکرٹری داخلہ کو لکھے گئے خط میں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو نے یاد دلایا ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان، فوجی صدر جنرل ضیاءالحق، آرمی چیف آصف نواز اور ان کے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے واقعات کا معمہ بھی پاکستان کے تفتیش کار حل نہیں کرسکے۔ سابق وزیراعظم نے خط میں مزید کہا ہے کہ پاکستانی تفتیش کاروں کو جدید سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے دہشت گردوں کا پتہ نہیں چل پایا جس سے ان کے حوصلے بڑھ گئے ہیں کیونکہ وہ انصاف کے کٹہرے میں آنے سے بچ گئے۔ سابق وزیر اعظم نے خط کے آخر میں لکھا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں کہ معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ایمرجنسی بنیاد پر مطلوبہ مہارت حاصل کی جائے گی کیونکہ ان حملوں میں ایک سو چالیس افراد ہلاک اور پانچ سو دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
|