پیپلز پارٹی، قسمیں اور حلف نامے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی نے عام انتخابات کے لیے اپنے امیدواروں سے حلف نامے اور قرآن پر قسم لی ہے کہ وہ پارٹی سے وفادار رہیں گے اور اسمبلیوں میں پارٹی قیادت کی ہدایت پر ووٹ دیں گے۔ پارٹی قیادت کے مطابق ایسا فلور کراسنگ سے بچنے کے لیے کیا گیا ہے۔ امیدواروں سے حلف لیا گیا ہے کہ وہ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے وفادار رکن رہیں گے اور سختی سے پارٹی کے آئین، منشور، قوائد اور ضوابط کی پابندی کریں گے۔ اس حلف نامے میں مستقبل میں کسی دباؤ سے بچنے کی راہ بھی تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ حلف نامے کے مطابق:’ اگر میں قومی یا صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہوگیا تو کسی ذاتی فائدے یا عہدے کے لیے پارٹی قیادت پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالوں گا اور دیانتداری اور ایمانداری سے اپنے فرائض سر انجام دوں گا‘۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور الیکشن سیل کے رکن نفیس صدیقی کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت پہلے بھی امیدواروں سے حلف نامے لیتی رہی ہے مگر پہلے یہ اسٹامپ پیپر پر نہیں لیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل سینٹ کے انتخابات میں انہوں نے قرآن پر حلف نہیں دیا تھا مگر ان کی پارٹی کے ووٹ فروخت ہوئے اسلیے اخلاقی یا مذہبی جتنا دباؤ رکھ سکتے ہیں وہ رکھے رہے ہیں۔ کچھ امیدواروں سے قرآن پر بھی قسم لی گئی ہے حن کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما تاج حیدر کا کہنا ہے کہ :’ کچھ نے خود قرآن اٹھایا ہوگا۔۔۔ کچھ دوست اپنی سچائی دکھانے کے لیے قرآن بیچ میں لے آئے ہوں گے‘۔ پاکستان کے آئین میں پارٹی وفادری تبدیل کرنے والے اراکین اسمبلی کی رکنیت معطل کرنے کی تجویز شامل ہے لیکن گزشتہ انتخابات میں اس شق کو معطل کردیا گیا تھا۔ بعض سیاسیتدانوں کی طرف سے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے خاتمے کے بعد بھی اسی شق کو بحال نہیں کیا جائیگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی اس شق کی بحالی کا بھی مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی رہنما نفیس صدیقی کا کہنا ہے کہ حکمران اور سابق حکمران جماعت منتشر ہیں اس لیے دھاندلی بھی زیادہ ہوگی اور فلور کراسنگ کی بھی کوشش کی جائےگی۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ نتائج آنے کے ایک ہفتے کے اندر اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جائے اور جس جماعت کے پاس اکثریت ہو اسے حکومت سازی کی دعوت دی جائے۔ گزشتہ عام انتخابات کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کے اراکین کی ایک بڑی تعداد منحرف ہوگئی تھی۔ ان میں بیس اراکین قومی اسمبلی اور دس اراکین سندھ اسمبلی بھی شامل تھے۔ ان میں سے کچھ نے پاکستان پیپلز پارٹی پیٹریاٹ اور کچھ نے پیپلز پارٹی شیرپاؤ بنائی اور صدر مشرف کی حمایت کی تھی۔ |
اسی بارے میں قاف لیگ پر دھاندلی کا الزام11 December, 2007 | پاکستان انتخابی مہم ابھی تیز نہیں11 December, 2007 | پاکستان ایم ایم اے کا سیاسی اتحاد ختم11 December, 2007 | پاکستان اعتزاز انتخابات سے دستبردار12 December, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||