ایم ایم اے کا سیاسی اتحاد ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کے اجلاس کی منسوخی اور دوبارہ طلب کرنے سے واضع ہوگیا ہے کہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے پر اتحاد کے اندر اختلافات دور کرنے کی گنجائش تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ تاہم اتحاد کو غیر سیاسی فورم کے طور پر برقرار رکھنے پر فریقین میں اتفاق دیکھا جا رہا ہے۔ متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے آج صبح اچانک اتحاد کی سپریم کونسل کے اسلام آباد میں اجلاس کی منسوخی کا اعلان کر دیا۔ تاہم بعد میں جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ اور مجلس کے سیکٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے یہ اجلاس دوبارہ وقت مقررہ پر طلب کرکے تمام جماعتوں کو شرکت کی دعوت دے دی۔ ان کا کہنا تھا کہ سب پارٹی سربراہان موجود تھے لہٰذا منسوخی مناسب نہیں تھی۔ لاہور بار میں آج صبح خطاب کے بعد قاضی حسین احمد نے صحافیوں کے ایم ایم اے کے مستقبل سے متعلق سوالات کا جواب دینے سے انکار کیا۔ اس سے بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی اور جمیعت علمائے اسلام کے درمیان کم از کم عام انتخابات کے معاملے پر اب مزید کسی بات چیت کی گنجائش نہیں رہی۔ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ ہفتے ایم ایم اے کے ایک اجلاس میں جماعت کو قائل کرنے کی آخری کوشش کا اعلان کیا تھا تاہم اس کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا تھا۔ دونوں جماعتیں ایم ایم اے کو توڑنے پر ابھی تیار دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ اس بارے میں قاضی حسین احمد کا موقف تھا کہ سیاسی اور انتخابی اتحاد نہ سہی لیکن دینی اتحاد کی ضرورت پھر بھی موجود ہے۔ ’اس اتحاد نے مسلکی اختلافات کو کم کرنے میں مدد دی ہے۔ اس کی ضرورت پہلے بھی تھی اور اب بھی ہے۔‘ قاضی حسین احمد کے آج کے اجلاس میں شرکت کا امکان بہت کم ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کسی نمائندے کو بھیج دیں گے۔ ’وہ اتحاد کے سیکٹری جنرل ہیں انہوں نے اگر دوبارہ طلب کیا ہے تو ہم بھی کسی نمائندے کو بھیج دیں گے۔‘ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے اتحادوں میں تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ قابل تشویش ہے لیکن وہ اختلافات کے باوجود اس دینی اتحاد کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ ’ہمارا منشور ایک ہے۔ ہم سب اس پر متفق ہیں کہ اختلاف صرف انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے پر ہے۔ اگر یہ ٹوٹتا ہے تو یہ بہت بڑی زیادتی ہوگی اپنے مقاصد، اہداف کے ساتھ۔‘ دو بڑی جماعتوں کے درمیان انتخابات پر واضع دو ٹوک موقف اختیار کرنے کے بعد ایم ایم اے اب سیاسی یا انتخابی اتحاد نہیں رہا جس سے انتخابات میں جے یو آئی کو فائدہ ہونے کے ساتھ ساتھ نقصان کا بھی احتمال ہے۔ | اسی بارے میں ’بائیکاٹ جذباتی فیصلہ ثابت ہوا‘10 December, 2007 | پاکستان مسلم لیگ (ن) انتخاب لڑے گی09 December, 2007 | پاکستان قاضی، فضل: مختلف بیانات04 December, 2007 | پاکستان باہمی اختلافات پر قابو پالیں گے:قاضی 08 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||