مسلم لیگ (ن) انتخاب لڑے گی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) میں شامل جماعتیں آٹھ جنوری کے عام انتخابات کا اجتماعی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں تاہم مسلم لیگ (ن) نے ان انتخابات میں ’احتجاجاً‘ حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پر اتوار کو منعقد ہونے والا اے پی ڈی ایم کا یہ اجلاس تقریباً سات گھنٹے جاری رہا لیکن اتحاد میں شامل جماعتیں انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کی تجویز پر متفق نہیں ہو سکیں۔
اجلاس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عدلیہ کی تین نومبر کی حالت میں بحال کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے الیکشن میں حصہ لینے یا اس کا بائیکاٹ کرنےکے بارے میں کیئے جانے والے سوال کا جواب دینے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر فیصلہ پارٹی سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سوموار کے دن ان تمام جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس اپنی لاہور کی رہائش گاہ پر طلب کیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ان کی جماعت اس الیکشن کو ریفرنڈم میں تبدیل کر دے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مسلم لیگ (ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑنا چاہتی۔ اے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد اخبار نویسوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مسلم لیگ کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اتحاد میں شامل جماعتیں انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ انفرادی طور پر کریں۔ راجہ ظفر الحق سے مسلم لیگ کے انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں فیصلہ پارٹی کے اراکین سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ اجلاس میں شرکت سے قبل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جو بائیکاٹ کرنے کے حامی ہیں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ڈی ایم دو مرتبہ انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر چکا ہے اور اب اے پی ڈی ایم میں شامل جو جماعت انتخابات میں حصہ لے گی وہ اس اتحاد سے باہر ہو گی۔ جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا کہ وہ اجلاس سے قبل اس معاملے پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اے پی ڈی ایم نے عدلیہ کی بحالی کے بغیر انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ مسلم لیگ کے رہنما ظفر اقبال جھگڑا نے کہا کہ بائیکاٹ کا فیصلہ تو ہوا تھا لیکن بعض بڑی جماعتوں کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے سے صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے ترجمان احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے اکثریتی کارکن انتخابات کا میدان ’مشرف نواز‘ سیاسی قوتوں کے لیے کھلا نہیں چھوڑنا چاہتے۔ ’اگر جے یو آئی (ف)، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور اے این پی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کے لیے باہر بیٹھے رہنا مشکل ہوگا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ جماعتیں جن کی جنرل (ریٹائرڈ) مشرف سے مفاہمت ہے وہ اسمبلی میں پہنچ کر اٹھارہویں آئینی ترمیم لا کر ’تین نومبر‘ کے اقدام کو تحفظ دے سکتی ہیں۔ تین نومبر کو صدر مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا جس کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ کے بیشتر ججوں کو رخصت ہونا پڑا۔ اے پی ڈی ایم کی ایک اور رکن جماعت جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اتحاد کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے پی ڈی ایم میں دو پارٹیوں کے علاوہ ان قوتوں کا قبضہ ہے جن کی نہ تو کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی ان کی عوام تک رسائی ہے۔ مولانا نے کہا کہ جو دو بڑی پارٹیاں ہیں انہوں نے انہیں پانچ اکتوبر کو چھوڑ دیا تھا۔ ’تو ہم نے انہیں کہا ہے کہ وہ پہلے ہمیں سیاسی ہمسفر بنانے کے قابل تو ہوں۔‘ جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری منور حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ حتمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم کے فیصلے کے مطابق ان کی جماعت کے امیدوار پندرہ دسمبر کے روز اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لینگے۔ منور حسن نے کہا ’اب دیکھنا یہ کہ میاں صاحب (نواز شریف) بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہتے ہیں یا کسی نئے دباؤ کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔‘
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت نے وکلاء اور پی سی او کے تحت برطرف کیے گئے ججوں کا ساتھ دیتے ہوئے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ ’جسٹس افتخار کی شکل میں پہلی دفعہ پاکستانی عوام کو ایسا لگا تھا کہ اب قانون کی حکمرانی ہوگی، الیکشن میں حصہ لینا ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہوگا۔‘ یاد رہے کہ آل پاکستان وکلاء کنونشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹھ جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کا بائیکاٹ کریں اور وکلاء کی عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد میں شامل ہوں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||