BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 December, 2007, 15:00 GMT 20:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلم لیگ (ن) انتخاب لڑے گی

اے پی ڈی ایم قیادت
’الیکشن میں حصہ لینا عدلیہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے برابر ہوگا‘
آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ (اے پی ڈی ایم) میں شامل جماعتیں آٹھ جنوری کے عام انتخابات کا اجتماعی بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرنے میں ناکام ہو گئی ہیں تاہم مسلم لیگ (ن) نے ان انتخابات میں ’احتجاجاً‘ حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن پر اتوار کو منعقد ہونے والا اے پی ڈی ایم کا یہ اجلاس تقریباً سات گھنٹے جاری رہا لیکن اتحاد میں شامل جماعتیں انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کی تجویز پر متفق نہیں ہو سکیں۔

میاں صاحب اور دباؤ
 اب دیکھنا یہ کہ میاں صاحب (نواز شریف) بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہتے ہیں یا کسی نئے دباؤ کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہیں
منور حسن

اجلاس کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے کہا کہ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عدلیہ کی تین نومبر کی حالت میں بحال کرنے کے مطالبے پر قائم ہے۔

جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے الیکشن میں حصہ لینے یا اس کا بائیکاٹ کرنےکے بارے میں کیئے جانے والے سوال کا جواب دینے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر فیصلہ پارٹی سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سوموار کے دن ان تمام جماعتوں کے سربراہوں کا اجلاس اپنی لاہور کی رہائش گاہ پر طلب کیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ ان کی جماعت اس الیکشن کو ریفرنڈم میں تبدیل کر دے گی۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) مسلم لیگ (ق) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے میدان کھلا نہیں چھوڑنا چاہتی۔

اے پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد اخبار نویسوں کو بریفنگ دیتے ہوئے مسلم لیگ کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اتحاد میں شامل جماعتیں انتخابات کے بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ انفرادی طور پر کریں۔

راجہ ظفر الحق سے مسلم لیگ کے انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں فیصلہ پارٹی کے اراکین سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

اجلاس میں شرکت سے قبل تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جو بائیکاٹ کرنے کے حامی ہیں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اے پی ڈی ایم دو مرتبہ انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کر چکا ہے اور اب اے پی ڈی ایم میں شامل جو جماعت انتخابات میں حصہ لے گی وہ اس اتحاد سے باہر ہو گی۔

جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے کہا کہ وہ اجلاس سے قبل اس معاملے پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اے پی ڈی ایم نے عدلیہ کی بحالی کے بغیر انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

مسلم لیگ کے رہنما ظفر اقبال جھگڑا نے کہا کہ بائیکاٹ کا فیصلہ تو ہوا تھا لیکن بعض بڑی جماعتوں کی طرف سے انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے سے صورت حال تبدیل ہو گئی ہے۔

نواز شریف بائیکاٹ کے بارے میں غیر یقینی صورت حال کا شکار ہیں
بائیکاٹ کرنا چاہیے۔

مسلم لیگ (ن) کے ترجمان احسن اقبال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کے اکثریتی کارکن انتخابات کا میدان ’مشرف نواز‘ سیاسی قوتوں کے لیے کھلا نہیں چھوڑنا چاہتے۔ ’اگر جے یو آئی (ف)، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق) اور اے این پی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں تو مسلم لیگ (ن) کے لیے باہر بیٹھے رہنا مشکل ہوگا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وہ جماعتیں جن کی جنرل (ریٹائرڈ) مشرف سے مفاہمت ہے وہ اسمبلی میں پہنچ کر اٹھارہویں آئینی ترمیم لا کر ’تین نومبر‘ کے اقدام کو تحفظ دے سکتی ہیں۔ تین نومبر کو صدر مشرف نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا تھا جس کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ کے بیشتر ججوں کو رخصت ہونا پڑا۔

اے پی ڈی ایم کی ایک اور رکن جماعت جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے اتحاد کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے پی ڈی ایم میں دو پارٹیوں کے علاوہ ان قوتوں کا قبضہ ہے جن کی نہ تو کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی ان کی عوام تک رسائی ہے۔

مولانا نے کہا کہ جو دو بڑی پارٹیاں ہیں انہوں نے انہیں پانچ اکتوبر کو چھوڑ دیا تھا۔ ’تو ہم نے انہیں کہا ہے کہ وہ پہلے ہمیں سیاسی ہمسفر بنانے کے قابل تو ہوں۔‘

جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری منور حسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت کا الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ حتمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم کے فیصلے کے مطابق ان کی جماعت کے امیدوار پندرہ دسمبر کے روز اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لینگے۔

منور حسن نے کہا ’اب دیکھنا یہ کہ میاں صاحب (نواز شریف) بائیکاٹ کے فیصلے پر قائم رہتے ہیں یا کسی نئے دباؤ کے تحت انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔‘

مولانا فضل الرحمٰن اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ ان کی جماعت نے وکلاء اور پی سی او کے تحت برطرف کیے گئے ججوں کا ساتھ دیتے ہوئے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ ’جسٹس افتخار کی شکل میں پہلی دفعہ پاکستانی عوام کو ایسا لگا تھا کہ اب قانون کی حکمرانی ہوگی، الیکشن میں حصہ لینا ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہوگا۔‘

یاد رہے کہ آل پاکستان وکلاء کنونشن نے تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹھ جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کا بائیکاٹ کریں اور وکلاء کی عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد میں شامل ہوں۔

نواز شریف اور بینظیر بھٹوبائیکاٹ، نو بائیکاٹ
انتخابات: اپوزیشن میں اتفاق رائے کا فقدان
معزول جسٹس خواجہ محمد شریف’وکلاء کی قربانی‘
’سیاسی جماعتیں خدا کے لیے وکلاء کا ساتھ دیں‘
نواز شریف اور بینظیر بھٹواےپی ڈی ایم اپرہینڈ
انتخابات میں حصہ لینے کی دوڑ میں بریکیں
ملگ گیر احتجاجملگ گیر احتجاج
اے پی ڈی ایم کے یومِ احتجاج کی تصاویر
راجہ ظفر الحق (فائل فوٹو)ملک گیر احتجاج
الیکشن بائیکاٹ موخر،احتجاج کی کال
’زیرو سم گیم‘
فوج سے شراکتِ اقتدار کی کڑوی گولی
محمود اچکزئی’حقِ حکمرانی‘
فوج اور جاسوسی اداروں کا کوئی کام نہیں: اچکزئی
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد