انتخاب لڑنے کی دوڑ میں بریکیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کل جماعتی جمہوری تحریک نے اپنے باغی ساتھی مولانا فضل الرحمان اور اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے عام انتخابات میں حصہ لینے کی دوڑ میں کسی حد تک بریکیں لگا دی ہیں۔ یہ بریکیں وقتی سہی لیکن اس سے حزب اختلاف کی تقسیم در تقسیم اور اختلافات کے بڑھنے کا عمل بھی رک گیا ہے۔ زرداری ہاؤس میں اے پی ڈی ایم اور اے آر ڈی کے رہنماؤں نواز شریف اور بینظیر بھٹو میں ساڑھے تین گھنٹے سے طویل ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ مکمل ’ذہنوں کا ملاپ‘ تو یقیناً نہیں ہوا لیکن وقتی مصالحت ضرور ہوئی ہے۔ خود بینظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ دونوں اتحادوں کے فیصلے کو وہ بریک تھرو تو نہیں کہہ سکتیں لیکن اعتماد سازی کی جانب ایک قدم ضرور قرار دے سکتی ہیں۔ یہاں سے حزب اختلاف کے ایک مشترکہ موقف کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ اب یہ ممکن ہے کہ حزب اختلاف مشترکہ طور پر یا تو انتخابات میں حصہ لے یا انہیں مسترد کر دیں۔ سیاست نام ہی ممکنات کا ہے اور پاکستانی سیاست میں تو یہ اس کی روح رواں ہے۔ پیر کی رات بھر اے پی ڈی ایم کی کوششوں اور ملاقاتوں کے بعد پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام نے عام انتخابات میں شرکت کرنے یا نہ کرنے سے متعلق اب حتمی فیصلہ دونوں اتحادوں کی آٹھ رکنی کمیٹی کے مطالبات کی فہرست کو دیکھنے کے بعد تک مؤخر کر دیا ہے۔ اے آر ڈی کا کہنا ہے کہ وہ ان مطالبات پر حکومت کے ردعمل کا انتظار کرے گی لیکن جے یو آئی کے مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ وہ مطالبات کی فہرست کو دیکھ کر ردعمل ظاہر کریں گے۔
بےنظیر سے ملاقات سے قبل اے پی ڈی ایم کے سربراہان کا ایک اجلاس قاضی حسین احمد کی رہائش گاہ پر ہوا جس میں ’چارٹر آف ڈیمانڈ’ کی تجویز کے ذریعے پیپلز پارٹی کو گھیرنے کی کوشش کی گئی۔ تجویز ایسی تھی جس سے فرار اے آر ڈی کے لیے ممکن نہیں تھا۔ اس دوران زرداری ہاؤس میں نواز شریف کی آمد کے منتظر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے جو بات ہوئی تو انہوں نے انتخابات میں حصہ لینے کے اپنے فیصلے پر ڈٹے رہنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایک کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کو اپنی سیاست کرنےدیں اور ہمیں اپنی۔ اخباری کانفرنس میں جو واحد نکتہ جس پر دونوں سابق وزراء اعظم متفق نظر آئے وہ انتخابات میں دھاندلی کا تھا۔ دونوں کو خدشہ نہیں بلکہ اس بات کا یقین تھا اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے میر حاصل بزنجو نے بقول بےنظیر بھٹو ثبوت بھی فراہم کیے۔ تاہم عمومی تاثر یہی ہے کہ پیپلز پارٹی انتخابات لڑ کر دھاندلی کو ناکام بنانے جبکہ نواز شریف بائیکاٹ کر کے مقابلہ کرنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کو بھی یہی یقین ہے کہ دھاندلی ہوگی لیکن وہ اس مقصد سے پھر بھی انتخاب لڑنا چاہتے ہیں کہ ان انتخابات کے بعد شاید پھر پانچ سال انہیں ایوانوں سے باہر بیٹھنا پڑے۔ یہی پاکستانی سیاست کی خوبصورتی ہے۔ سیاستدان کے پاس اپنا موقف منظور کروانے کے لیے ایک نہیں کئی جواز اور وجوہات موجود ہوتی ہیں۔ اور جب وہ غلط ثابت ہوتے ہیں تو پھر اپنی ناکامی کا دفاع بھی اسی دھڑلے سے کرتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ آٹھ رکنی کمیٹی صدر پرویز مشرف کے لیئے کتنے مشکل مطالبات کی فہرست تیار کرتی ہے۔ بیظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کے دباؤ کی وجہ سے ہی حکومت ان کے انتخابات کی تاریخ دینے، ہنگامی حالت کے خاتمے اور وردی اتارنے پر رضامند ہوئی ہے۔ اور کل کے فیصلوں سے لگتا ہے کہ انہیں لگتا ہے اس دباؤ سے وہ صدر صاحب سے مزید رعایات حاصل کر سکتی ہیں۔ | اسی بارے میں بائیکاٹ کا آپشن کھلا ہے: بینظیر30 November, 2007 | پاکستان بائیکاٹ پرنظرثانی کریں: فضل الرحمان30 November, 2007 | پاکستان ’حتمی بائیکاٹ کا فیصلہ اجلاس میں‘01 December, 2007 | پاکستان شفاف الیکشن وگرنہ بائیکاٹ: بینظیر، نواز03 December, 2007 | پاکستان ’نواز الیکشن نہیں لڑ سکتے‘03 December, 2007 | پاکستان الیکشن: جانچ پڑتال کا مرحلہ مکمل03 December, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||