’حتمی بائیکاٹ کا فیصلہ اجلاس میں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے بعض لوگ بائیکاٹ کے خلاف ہیں اور بے نظیر بھٹو اور مولانا فضل الرحمان انتخابات کے بائیکاٹ پر راضی نہ ہوئے تو پھر حتمی بائیکاٹ کا فیصلہ اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ وہ سنیچر کی شام اپنی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے جو انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جانے کے ردعمل میں بلائی تھی۔ شہباز شریف نے واضح طور پر کہا کہ انتخابات کے جزوی بائیکاٹ کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور ان کی پارٹی کے بعض لوگوں کی رائے ہے کہ اگر پیپلز پارٹی بائیکاٹ نہیں کرتی تو مسلم لیگ نون کو بھی الیکشن میں حصہ لینا چاہیے۔ میاں شہباز شریف نےصرف لاہور سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے جو سنیچر کی دوپہر مسترد ہوچکے ہیں اور اگر ان کی پارٹی نے اپیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا تو شہباز شریف موجود انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ شہباز شریف نے کاغذات نامزدگی رد کیے جانے کو ایک سیاسی فیصلہ قرار دیا اور کہا ہے کہ اس کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ ان کی جماعت کرے گی ۔ ان سے پوچھا گیا کہ جب ان کی جماعت نے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے تو وہ کاغذات نامزدگی کے لیے کیوں لڑ رہے ہیں تو شہباز شریف نے کہا کہ بائیکاٹ کا اعلان مشروط ہے اور اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم کرلیے تو وہ انتخابات میں حصہ لیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عدلیہ کو دو نومبر والی صورتحال پر بحال کردیا گیا اور دیگر مطالبات بھی تسلیم کرلیے گئے تو پھر انتخابات کا بائیکاٹ کرنا ملک کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ شہباز شریف نے مختلف سوالات کے جواب میں کہا کہ ان کے کاغذات کو مسترد کرنا انتخابی دھاندلی کے اس تاریخی پروگرام کا حصہ ہیں جس کا سٹیج سجایا جاچکا ہے۔ شہباز شریف کے کاغذات نامزدگی ان کے خلاف درج مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے ایک ایسے مقدمے کی بنیاد پر رد کیے گئے ہیں جس میں مقامی عدالت نے انہیں مفرور اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ محض ایف آئی آر درج ہونے کی بنیاد پر کسی کو الیکشن کے لیے ناابل نہیں کیا جاسکتا انہوں نے کہا کہ اس طرح تو جتنے مرضی امیدواروں کو ان کے خلاف جھوٹے سچے مقدمات درج کرکے نااہل کیا جاسکتا ہے۔ جب شہباز شریف سے پوچھا گیا کہ اگر بینظیر اور مولانا فضل الرحمان بائیکاٹ پر راضی نہ ہوئے تو کیا مسلم لیگ نواز انتخابات میں حصہ لے گی تو انہوں نے جواب دیا کہ پیر کو نواز شریف بینظیر بھٹو سے ملاقات کر رہے ہیں جس کا وقت اور مقام طےکیا جاچکاہے۔ اس کےعلاوہ وہ مولانا فضل الرحمان سے بھی ملیں گے اور انہیں منانے کی کوشش کریں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ اگر وہ نہ مانے تو پھر اے پی ڈی ایم کا اجلاس ہوگا جس میں فیصلہ کیا جائےگا۔ شہباز شریف کے ہمراہ ان کے وکیل خواجہ حارث بھی موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ نااہلی کے فیصلہ کے خلاف ایک ہفتےتک اپیل کی جاسکتی ہے۔شہباز شریف کے بڑے بھائی اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے کاغذات نامزدگی بھی چیلنج کیےجا چکے ہیں اور ان کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ پیر کو سنایا جا سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں نواز اور شہباز پر انتخابی اعتراضات30 November, 2007 | پاکستان شہباز کی گرفتاری کا عدالتی حکم07 September, 2007 | پاکستان الیکشن کا بائیکاٹ: نواز شریف29 November, 2007 | پاکستان بائیکاٹ کا آپشن کھلا ہے: بینظیر30 November, 2007 | پاکستان بائیکاٹ پرنظرثانی کریں: فضل الرحمان30 November, 2007 | پاکستان کاغذات کی جانچ پڑتال شروع27 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||