BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 November, 2007, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز اور شہباز پر انتخابی اعتراضات

شریف برادران
شریف برادران پر سزا یافتہ ہونے، ٹیکش نادہندگی، مفرور ہونے اور قتل کے الزامات لگائے گئے ہیں
مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کواپنے کاغذات نامزدگی پر مخالف امیدواروں کے اعتراضات کا سامنا ہے۔
نواز شریف کے مخالف امیدوار نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ طیارہ سازش کیس میں سزا یافتہ ہیں۔ ریٹرنگ افسر نے جمعہ کو دونوں طرف کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد سماعت تین دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔

نواز شریف نے لاہور کے حلقہ این اے ایک سو بیس سے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔

ان کے مخالف مسلم لیگ ق کے امیدوار خواجہ طاہر ضیا بٹ نے ان پر اعتراض کیا ہے کہ وہ بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے کے اس طیارے کے مقدمہ میں سزا یافتہ ہیں جس میں چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف سوار تھے۔ درخواست دہندہ کے مطابق الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق چونکہ ایک سزا یافتہ شخص انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا اس لیے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔

نواز شریف کے وکلاء نے جمعہ کو ریٹرنگ افسر سے اعتراض پر مبنی درخواست کی مصدقہ نقل وصول کی ہے اور وہ اس کا جواب تین دسمبر کو داخل کریں گے۔

نواز شریف کے وکیلوں نے مخالف امیدوار خواجہ طاہر بٹ اعتراض پر اعتراض کیا ہے کہ وہ پرائس کنٹرول کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور چونکہ یہ ایک سرکاری عہدہ ہے اس لیے وہ انتخابات لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔ ریٹرنگ افسر نے انہیں بھی جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

شریف بردران تین دسمبر تک جواب
 ریٹرنگ افسروں نے اپنے الگ الگ احکامات میں شہباز شریف کو سنیچر کو اور نواز شریف کو تین دسمبر کو جواب داخل کرانے کی ہدایت کی ہے

ادھرقومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے سابق وزیراعلی شہباز شریف کے مخالف امیدوار طارق بانڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ان پر دو اعتراض کیے ہیں۔ ایک الزام ٹیکس نادہندگی کا ہے اور دوسرا اعتراض ان کے مفرور اشتہاری ملزم ہونے کا ہے۔

ان کے بقول انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پانچ نوجوانوں کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے مقدمے میں ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوئے ہیں۔ یہ نوجوان ستائیس اپریل سنہ انیس سو اٹھانوے کو پولیس فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے اور ہلاک ہونے والے ایک لڑکے کے ضیعف والد کے بیان پر شہباز شریف کے خلاف تھانہ سبزہ زار میں قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔

آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ طارق بانڈے کے علاوہ خود ان کے موکل بھی شہباز شریف کو نااہل قرار دینے میں فریق ہیں اور وہ ان کی جانب سے جمعہ کو ریٹرنگ افسر کے روبرو پیش ہوئے لیکن مختصر دلائل کے بعد سماعت سنیچر تک ملتوی کردی گئی۔

ریٹرنگ افسروں نے اپنے الگ الگ احکامات میں شہباز شریف کو سنیچر کو اور نواز شریف کو تین دسمبر کو جواب داخل کرانے کی ہدایت کی ہے۔

معاہدے میں کیا ہے؟
جلاوطنی کے معاہدے کے متن کی تلخیص
جلاوطنی کے معاہدے کا عکستصاویر میں
نواز شریف اور حکومت کے معاہدے کا عکس
شہباز شریفقربانیوں کا سودا
کیا ڈیل 12 اکتوبر سے پہلے کا آئین بحال کریگی
معافی، پھرمقدمہ کیسا
نیب کیس نہیں کھُل سکتے: ماہرین قانون
شہباز شریفمعاہدہ سے انکار نہیں
’بندوق کے زور پر کروائی گئی چیز کی کیا حیثیت‘
بینظیر کی ’ڈیل‘
نواز شریف نے بینظیر پر شدید تنقید کی ہے
اسی بارے میں
واپسی کی سماعت 16 اگست کو
09 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد