نواز اور شہباز پر انتخابی اعتراضات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسلم لیگ ن کے سربراہ اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کواپنے کاغذات نامزدگی پر مخالف امیدواروں کے اعتراضات کا سامنا ہے۔ نواز شریف کے مخالف امیدوار نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ طیارہ سازش کیس میں سزا یافتہ ہیں۔ ریٹرنگ افسر نے جمعہ کو دونوں طرف کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد سماعت تین دسمبر تک ملتوی کردی ہے۔ نواز شریف نے لاہور کے حلقہ این اے ایک سو بیس سے کاغذات نامزدگی داخل کیے ہیں۔ ان کے مخالف مسلم لیگ ق کے امیدوار خواجہ طاہر ضیا بٹ نے ان پر اعتراض کیا ہے کہ وہ بارہ اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے کے اس طیارے کے مقدمہ میں سزا یافتہ ہیں جس میں چیف آف آرمی سٹاف پرویز مشرف سوار تھے۔ درخواست دہندہ کے مطابق الیکشن کمیشن کے قواعد کے مطابق چونکہ ایک سزا یافتہ شخص انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا اس لیے نواز شریف کے کاغذات نامزدگی مسترد کیے جائیں۔ نواز شریف کے وکلاء نے جمعہ کو ریٹرنگ افسر سے اعتراض پر مبنی درخواست کی مصدقہ نقل وصول کی ہے اور وہ اس کا جواب تین دسمبر کو داخل کریں گے۔ نواز شریف کے وکیلوں نے مخالف امیدوار خواجہ طاہر بٹ اعتراض پر اعتراض کیا ہے کہ وہ پرائس کنٹرول کمیٹی کے چیئرمین ہیں اور چونکہ یہ ایک سرکاری عہدہ ہے اس لیے وہ انتخابات لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔ ریٹرنگ افسر نے انہیں بھی جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھرقومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں سے سابق وزیراعلی شہباز شریف کے مخالف امیدوار طارق بانڈے نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے ان پر دو اعتراض کیے ہیں۔ ایک الزام ٹیکس نادہندگی کا ہے اور دوسرا اعتراض ان کے مفرور اشتہاری ملزم ہونے کا ہے۔ ان کے بقول انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پانچ نوجوانوں کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے مقدمے میں ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہوئے ہیں۔ یہ نوجوان ستائیس اپریل سنہ انیس سو اٹھانوے کو پولیس فائرنگ سے ہلاک ہوئے تھے اور ہلاک ہونے والے ایک لڑکے کے ضیعف والد کے بیان پر شہباز شریف کے خلاف تھانہ سبزہ زار میں قتل کا مقدمہ درج ہوا تھا۔ آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ طارق بانڈے کے علاوہ خود ان کے موکل بھی شہباز شریف کو نااہل قرار دینے میں فریق ہیں اور وہ ان کی جانب سے جمعہ کو ریٹرنگ افسر کے روبرو پیش ہوئے لیکن مختصر دلائل کے بعد سماعت سنیچر تک ملتوی کردی گئی۔ ریٹرنگ افسروں نے اپنے الگ الگ احکامات میں شہباز شریف کو سنیچر کو اور نواز شریف کو تین دسمبر کو جواب داخل کرانے کی ہدایت کی ہے۔ |
اسی بارے میں جمہوریت اور انصاف کی فتح ہے03 August, 2007 | پاکستان واپسی کی سماعت 16 اگست کو09 August, 2007 | پاکستان تحریری معاہدہ موجود ہے: قیوم17 August, 2007 | پاکستان ’کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا‘17 August, 2007 | پاکستان ’انحراف کی صورت میں سزا بحال‘17 August, 2007 | پاکستان شریف خاندان،نیب مقدمے پھرشروع17 August, 2007 | پاکستان جلاوطنی معاہدے کی نقل عدالت میں22 August, 2007 | پاکستان دستاویزات کے لیے مزید تین ہفتے22 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||