بائیکاٹ پرنظرثانی کریں: فضل الرحمان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’لیٹر پیڈ جماعتوں‘ کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو یرغمال بنانے کا الزام لگاتے ہوئے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ اے پی ڈی ایم کا عام انتحابات کا بائیکاٹ غیرمؤثر ثابت ہوگا، لہذا وہ اس پر نظرثانی کریں۔ قومی اسمبلی میں سابق قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے، جو متحدہ مجلس عمل کے سیکٹری جنرل بھی ہیں، سنیچر کو اسلام آباد میں دینی جماعتوں کے اتحاد کا سربراہی اجلاس طلب کیا ہے تاکہ بقول ان کے اتحاد کے کسی متفقہ فیصلے پر پہچنے کی ’آخری کوشش‘ کی جاسکے۔ جمعہ کو وفاقی دارالحکومت میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے متعلق اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ججوں کی بحالی کی بجائے عدلیہ کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ’بات اصول کی ہے۔ عدلیہ پر شب خون مارا گیا تو ہم سڑکوں پر آئے لیکن بات واضح ہونی چاہیے۔ جس نے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف لیا وہ مجرم ہیں لیکن جنہوں نے پہلے حلف اٹھایا تھا وہ بھی تو یہی جج تھے۔‘
’جب انتخابی اتحاد ہی ہو تو اس بارے میں اس میں بات کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔‘ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان جماعتوں نے جنہیں حلقوں کے لیے امیدوار بھی دستیاب نہیں نواز شریف کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ ’یہ جماتیں بائیکاٹ میں زیادہ دلچسپی لی رہی ہیں۔‘ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ اجلاسوں کے فیصلے ان مطالبات سے مشروط تھے کہ ہنگامی حالت اور پی سی او کا خاتمہ، آئین کی بحالی اور عدلیہ کو آزادی دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب صدر انہیں مطالبات سے متعلق اعلانات کر رہے تھے اے پی ڈی ایم نے فیصلہ دے دیا۔ جمعیت کے سربراہ نے کہا کہ بائیکاٹ کا فیصلہ ووٹروں کو اپیل نہیں کرے گا، لہذا وہ اس پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے بتایا کہ ان سے رابطے کے لیے جو کمیٹی قائم کی گئی ہے اس نے اب تک ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے۔ تاہم ان کا اس کمیٹی کے لیے پیغام تھا کہ وہ انہیں قائل کرنے کی بجائے ان کے موقف سے قائل ہونے کی گنجائش لے کر آئیں۔ ایم ایم اے کے انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے مشروط تھا کہ اگر تمام جماعتیں بائیکاٹ پر متفق ہوں گی تو بائیکاٹ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایم اے تو انتخابی منشور کی منظوری بھی دے چکی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اتحاد کا اجتماعی موڈ انتخابات میں حصہ لینے کا تھا۔ انتخابات میں حصہ لینے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کے کسی بھی اتحاد میں بائیکاٹ پر اتفاق نہیں پایا جاتا، چاہے وہ ایم ایم اے ہو یا اے پی ڈی ایم۔ ان کا موقف تھا کہ استعفوں کا فیصلہ ماضی میں بھی اور اب بائیکاٹ کا فیصلہ غلط اور غیرمؤثر ہوگا۔ صدر کو تسلیم کرنے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ سویلین صدر ہونے کے باوجود ان کے ان کے بارے میں آئینی تحفظات موجود ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کی اخباری کانفرنس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ اب کسی بھی طرح بائیکاٹ کو تیار نہیں ہوں گے۔ |
اسی بارے میں اکیلے بائیکاٹ نہیں :اے این پی30 November, 2007 | پاکستان الیکشن کا بائیکاٹ: نواز شریف29 November, 2007 | پاکستان 13,490 کاغذاتِ نامزدگی وصول30 November, 2007 | پاکستان عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک29 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||