BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 November, 2007, 18:43 GMT 23:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عدلیہ کی بحالی کے لیے تحریک

قاضی حسین احمد
قاضی حسین احمد کے مطابق ملک میں نہ عدلیہ ہے اور نہ ہی انصاف۔
حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں نے کہا ہے کہ جنرل مشرف کا وردی اتارنا بڑی بات نہیں، اصل مسئلہ آزاد عدلیہ کی بحالی ہے۔

صدر مشرف کے سویلین صدر بننے کے بارے میں فیصلہ آئندہ پارلیمان کرے گی جبکہ ملک میں آئین، عدلیہ اور جمہوریت کے بحالی کے لیے تحریک چلائی جائے گی۔اِن خیالات کا اظہار سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے صدر پرویز مشرف کے سویلین صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔

قاضی حسین احمد نے کہا کہ ’اللہ کرے کہ صدر کے طور پر بھی ان سے جلدازجلد ہماری جان چھوٹے۔ انہوں نے جو کام کیے ہیں ان کا کوئی جواز نہیں‘۔ ان کے بقول ملک میں انصاف مر چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا: ’جب آدمی چیف جسٹس کے عہدے پر فائز ہو اور کہہ دے کہ چیف آف آرمی سٹاف کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ آئین معطل کرے تو اس طرح کے چیف جسٹس پر کون اعتماد کرے گا اور اس کا کیا بھرم رہ جائے گا‘۔ ان کے مطابق اب متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی آئین، عدلیہ اور جمہوریت کے بحالی کے لیے بڑی تحریک چلائی گی۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا موقف ہے کہ ابھی پاکستان پیپلز پارٹی کو پرویز مشرف کو بحیثیت سویلین صدر تسلیم کرنے کی کوئی جلدی نہیں ہے کیونکہ صدر مشرف کے سویلین کے طور پر صدر بننے کا فیصلہ آئندہ پارلیمان پر ہوگا۔ ان کے بقول ’پارلیمان صدر مشرف کے صدر بننے پر فیصلہ کرے گی او پارلیمان جو فیصلہ کرے وہ ہمیں منظور ہوگا۔‘

ان کا کہنا کہ ہے جہاں تک پرویز مشرف کی اس بات کا تعلق ہے کہ اب پی پی پی اور مسلم لیگ نواز انیس سو نوے کی دہائی کی سیاست کو بھول کر افہام و تفہیم کی سیاست کریں، اس کا دارومدار خود جنرل پرویز مشرف پر ہے جنہوں نے ملک میں ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے، ایک آئین کو معطل کیا ہے، سپریم کورٹ اور عدلیہ کی چھٹی کرا دی ہے۔انہوں نے کہا: ’ اس لیے جب تک وہ ایسے اقدامات کرتے رہیں گے تو افہام و تفہیم کی فضا پیدا نہیں ہو سکتی۔‘

احتجاج
جب تک تین نومبر سے پہلےکی عدلیہ بحال نہیں ہوتی پاکستان کا موجودہ بحران ختم نہیں ہوگا، حزب مخالف۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے کہا ہے کہ جنرل مشرف کا وردی اتارنا بڑی بات نہیں، اصل مسئلہ آزاد عدلیہ کی بحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ جنرل مشرف نے سویلین صدر کی حیثیت سے نہیں بلکہ سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے۔ چونکہ وردی اتارنے سے پہلے انہوں نے ایمرجنسی سے متعلق آرمی چیف کے اختیارات صدر کو منتقل کر دیے تھے، لہذا جب تک تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ بحال نہیں ہو جاتی اس وقت تک پاکستان کا موجودہ بحران ختم نہیں ہوگا۔‘

انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل کا یہ کہنا کہ ’جنرل مشرف تہتر کے آئین کے تحت حلف لیں گے‘، قوم سے بڑا مذاق ہے، چونکہ سب کو معلوم ہے کہ جنرل مشرف تین نومبر کو اپنے ماورائے آئین ایکشن سے آئین معطل کر چکے ہیں، لہذا آئین کے تحت حلف اٹھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جہاں ان کی مرضی ہوتی ہے وہ آئین زندہ کر لیتے ہیں اور انہوں نے کہا ’جہاں مشکل پیش آتی ہے وہاں آئین کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ عدلیہ کے ججوں کو تو پی سی او پر حلف اٹھوایا گیا لیکن اپنے لیے انیس سو تہتر کا آئین نکال لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وردی اتارنے اور ایمرجنسی ختم کرنے کے اعلانات عالمی برادری کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ہے لیکن یہ اقدامات اصل مسئلے کا حل نہیں۔‘

اسی بارے میں
لندن سازش کیسے پکڑی گئی؟
12 August, 2006 | صفحۂ اول
لندن سازش کیسے پکڑی گئی؟
12 August, 2006 | صفحۂ اول
جواب کتاب میں ملے گا؟
22 September, 2006 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد