سارک کو فعال بنانا ہوگا:شوکت عزیز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرا عظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء کے ملکوں میں باہمی اعتماد کی کمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان دونوں ممالک کے لیے بنیادی سوال ہے اور اسے حل کرنا ہی ہوگا۔ دلی میں سارک سربراہی اجلاس سے خطاب کے بعد مدیروں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ سارک دیگر علاقائی تنظیموں کی طرح کامیاب نہیں ہو سکا ہے اور اس کی وجہ باہمی تنازعات، خطے میں باہمی اعتماد کی کمی اور کشیدگی رہی ہے جس میں سارک کی توانائي صرف ہوتی رہی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب تقریروں سے نکل کر ایک عملی ایسوسی ایشن بنانے کی ضرورت ہے ۔ مسٹر عزیز نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’ کشمیر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بنیادی سوال ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ بات کچھ لوگوں کو ناگوار گزرے لیکن اسے حل کرنا ہوگا،۔ انہوں نے مدیروں کو بتایا کہ تجارت کا معاملہ بھی کشمیر سے منسلک ہے لیکن آزاد تجارت کا معاہدہ سافٹا ایک راستہ فراہم کر رہا ہے اور اس میں پیش رفت ہوئی ہے۔ ملک کی داخلی صورت حال سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نےبتایا کہ پاکستان ایک آزاد ملک ہے اور وہاں جسٹس افتخار محمد چودھری اور وکلاء سمیت سبھی کو احتجاج کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا اتنا کبھی آزاد نہیں رہا ہے جتناکہ آج ہے۔ |
اسی بارے میں سارک: کشمیری عوام کی توقعات02 January, 2004 | صفحۂ اول مشرف، واجپئی ملاقات کا امکان02 January, 2004 | صفحۂ اول آزاد تجارت کا معاہدہ 02 January, 2004 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||