دبئی: جیو کی نشریات بحال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دبئی کی حکومت نے پاکستان کے نجی نیوز ٹیلی ویژن چینل جیو کی نشریات تقریباً دو ہفتے بند رکھنے کے بعد جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات بحال کرنے کی اجازت دے دی۔ تاہم حکومتِ پاکستان نے کیبل آپریٹروں کو ان نشریات کو دکھانے کی تاحال اجازت نہیں دی ہے۔ جیو چینل کی انتظامیہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے جیو کی نشریات پر بندش کا نوٹس لیا تھا جس کے بعد دبئی میڈیا سٹی کی انتظامیہ نے سیٹالائٹ نشریات بحال کرنے کی اجازت دے دی۔ پاکستان سمیت دیگر ممالک میں یہ نشریات ڈش انٹینا کے ذریعے دیکھی جاسکتی ہیں جبکہ جیو کی ویب سائٹ پر بھی ان نشریات کا لنک موجود ہے۔ تاہم ملک میں کیبل آپریٹر ابھی اس انتظار میں ہیں کہ حکومت کب ان کو جیو کی نشریات دکھانے کی اجازت دیتی ہے۔
کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر خالد آرائیں نے کہا کہ ابتداء میں سینتالیس چینلوں پر پابندی عائد کی گئی تھی اور اب باقی تمام چینلوں پر سے پابندی اٹھالی گئی ہے لیکن جیو پر پابندی برقرار ہے۔ جیو اور دیگر نجی ٹی وی چینلوں کی نشریات تین نومبر کو ہنگامی حالت کے نفاذ کے ساتھ ہی کیبل پر بند کردی گئیں تھیں۔ کیبل پر چینلوں کی بندش کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں جب لوگوں نے ڈش انٹینا خریدنے شروع کیے تو حکومت نے ڈش انٹینا سمیت دیگر نشریاتی آلات کی فروخت پر بھی پابندی عائد کردی۔ حکومت کے مطابق یہ چینل سرکاری طور پر نافذ کردہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ حکومت نے یہ باور کرایا تھا کہ جن چینلوں کے مالکان ضابطہ اخلاق کی پابندی کا معاہدہ کریں گے ان چینلوں کی نشریات کو دکھانے کی اجازت دے دی جائے گی۔ جن چینلوں نے حکومت کی شرائط کو تسلیم کرلیا، بارہ نومبر سے ان کی نشریات بحال کردی گئیں لیکن چند مالکان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے چینلوں کو بغیر کسی معاہدے کے کھولا گیا ہے۔ البتہ جیو اور اے آر وائی کی نشریات پر سولہ نومبر کی رات کو دبئی کی حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اے آر وائی چینل کی نشریات کو چند ہی دنوں بعد کھول دیا گیا تھا اور حکومت نے کیبل آپریٹروں کو بھی اے آر وائی چینل دکھانے کی اجازت دے دی تھی تاہم جیو تاحال پابندی کا شکار ہے۔ جیو ٹی وی نیٹ ورک نے پیمرا آرڈیننس میں ترامیم اور پابندی کے خلاف آئینی درخواستیں سندھ ہائی کورٹ میں دائر کی ہیں جن کی ابتدائی سماعت چار دسمبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ میڈیا پر مختلف پابندیوں اور پیمرا یعنی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس میں ترامیم کو صحافی برادری اور سول سوسائٹی کے ارکان نے سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور پیمرا آرڈیننس میں ترامیم کو کالا قانون بھی قرار دیا گیا۔ میڈیا پر مختلف سرکاری پابندیوں کے خلاف صحافیوں نے ملک بھر میں متعدد احتجاجی مظاہرے بھی کیے اور گرفتار بھی ہوئے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ |
اسی بارے میں بند چینل اب ’جنتا کی عدالت‘ میں26 November, 2007 | پاکستان دو نجی چینلز کو نشریات کی اجازت15 November, 2007 | پاکستان ’جیو‘ ٹیلی ویژن کی بین الاقوامی نشریات بھی بند ہو رہی ہیں16 November, 2007 | پاکستان نشریات کے بعد اب ڈش بھی بند13 November, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||