احمد رضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | آر ایس ایف صحافیوں کے حقوق کی دفاع کرتی ہے |
صحافیوں کے حقوق کا دفاع کرنے والی ایک معروف عالمی تنظیم نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا بھر میں عراق اور صومالیہ کے بعدصحافیوں کے لئے خطرناک ترین ملک بن گیا ہے۔ فرانس میں قائم آر ایس ایف یعنی رپورٹرز سانس فرنٹئرز (سرحد بناء صحافی) نامی تنظیم نے یہ بات پیرس سے جاری کردہ اپنے تازہ بیان میں کہی ہے۔ آر ایس ایف نے پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے شہر میرپورخاص میں روزنامہ جنگ کے صحافی زبیر احمد مجاہد کے قتل کی مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ زبیر احمد مجاہد اس سال پاکستان میں قتل ہونے والے چھٹے صحافی ہیں جس کے بعد پاکستان صحافیوں کے لئے دنیا کا تیسرا خطرناک ترین ملک بن گیا ہے۔ پہلے دو خطرناک ترین ملکوں میں عراق اور صومالیہ شامل ہیں۔ ضلع میر پور خاص کے قصبے جھڈو کے ایک سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی زبیر احمد مجاہد کو 23 نومبر کو میر پور خاص میں موٹرسائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے گولیاں مارکر قتل کردیا تھا۔ وہ اس وقت میر پور خاص پریس کلب کے نائب صدر واحد حسین کے ہمراہ اپنی کار میں گھر واپس جا رہے تھے۔ علاقے کی پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا لیکن اب تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ زبیر احمد مجاہد میر پور خاص میں روزنامہ جنگ کے نامہ نگار کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ آر ایس ایف کے مطابق مقتول کے بڑے بھائی محمد افتخار کا کہنا ہے کہ انہیں ان کی تحریروں کی بناء پر قتل کیا گیا جس سے بعض سیاسی حلقے ناخوش تھے۔ ان کے مطابق زبیر احمد مجاہد اور ان کے گھر والوں کی کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ آر ایس ایف نے پاکستان کے وفاقی اور صوبائی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیکر قاتلوں کا پتہ چلائیں اور انہیں گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دلائیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مجاہد ایک پرعزم اور کھرے صحافی تھے۔ اگر ان کے قتل کے پیچھے کارفرما افراد پوشیدہ رہے تو اس سے پاکستان کے تمام صحافیوں میں خوف بڑھے گا۔‘ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس افسوسناک واقعے سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ پاکستانی حکام صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ |