| | جیو کے مطابق اس کی نشریات حکومت پاکستان کے دباؤ میں بند کی جارہی ہیں |
دبئی سے نشر ہونے والے پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل ’جیو‘ کی بین الاقوامی نشریات بھی ’حکومتِ پاکستان کے دباؤ ‘ کے تحت بند کی جا رہی ہیں۔ جیو کے پریسیڈنٹ عمران اسلم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ چینل کی نشریات حکومت کے دباؤ میں بند کی جارہی ہیں۔ ’ جیو کی پاکستان میں نشریات شروع کرانے کے لیے حکومت سے بات چیت ہوئی لیکن جو شرائط ہمارے سامنے رکھی گئیں، وہ ہمیں منظور نہ تھیں۔‘ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے جیو کی نشریات پر پاکستان میں پہلے سے ہی پابندی عائد تھی۔ کراچی ڈیٹ لائن سے ’جیو‘ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے خبر میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان ایک غیرملکی حکومت پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر رہی ہے کہ جیو کو بند کردیا جائے۔ مسٹر اسلم نے کہا کہ انہیں باضابطہ طور پر تو کوئی اطلاع نہیں لیکن خدشہ یہ ہے کہ جیو کے تمام چینل بند کر دیئے جائیں گے۔ ’پاکستان میں تو ہماری نشریات کیبل آپریٹرز پر دباؤ ڈال کر پہلے ہی بند کر دی گئی تھیں، اب کچھ دنوں سے دبئی کی نشریات بند کرنے کے لیے بھی دباؤ بڑھ رہا تھا۔‘ اگرچہ مسٹر اسلم کا کہنا تھا کہ نشریات پاکستانی وقت کے مطابق رات بارہ بجے سے بند کر دی جائیں گی لیکن تادم تحریر( پاکستانی وقت کے مطابق رات بارہ بجکر بیس منٹ تک) بیرون ملک نشریات جاری تھیں۔ ’یہ واضح ہے کہ دبئی کی حکومت پر دباؤ ڈالا جارہا تھا اور آخر کار انہوں نے ( حکومت پاکستان کے دباؤ کے سامنے) گھٹنے ٹیک دئیے۔ |