بند چینل اب ’جنتا کی عدالت‘ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بات سادہ سی ہے۔ کسی کی آواز دبائی تو شاید جاسکتی ہے لیکن بند ہرگرز نہیں کی جاسکتی۔ اس کی مثال اس پائپ کی سی ہوسکتی ہے کہ جس کو اگر زبردستی بند کر دیا جائے تو پانی محض دباؤ کی وجہ سے کئی کمزور مقامات پر چھید کرتا ہوا بالآخر باہر نکل آتا ہے۔ یہی سب کچھ جنرل پرویز مشرف کی جانب سے نجی نیوز چینلز پر تین نومبر کے بعد سے عائد پابندیوں کے بعد سے واضع ہوکر سامنے آیا ہے۔ سیاسی بحث مباحثے کے جن پروگراموں پر شرانگیزی اور بےجا تنقید کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ٹی وی سکرینز سے بند کر دیا گیا وہ اب سٹوڈیوز سے نکل کر سڑکوں پر فٹ پاتھوں پر آگئے ہیں۔ ہر دوسرے روز ’آج‘ یا ’جیو‘ کے معروف میزبان اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاجی میلہ کہلوانے والے یہ شو باقاعدگی سے منعقد کر رہے ہیں۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے علاوہ عام شہری جمع ہو جاتے ہیں۔ غرض یہ کہ مظاہرین کو ایک فورم مل گیا ہے اپنے جذبات کے اظہار کا۔ کوئی سیاہ پٹی باندھے تو کوئی جسٹس افتخار چوہدری کی تصویر اٹھائے وہاں آن پہنچاتا ہے۔ پروگرام کے مہمانوں کو سننے والوں کے علاوہ وہاں سنانے والے بھی آن پہنچتے ہیں۔ کبھی سابق اقلیتی رکن قومی اسمبلی جے سالک درجن دو درجن مظاہرین کے ساتھ شور مچاتے، حکومت مخالف نعرے لگاتے آن پہنچتے ہیں تو کبھی کوئی اور۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’کیپٹل ٹاک‘ جو اب ’کیپٹل ٹاک آن فٹ پاتھ‘ کا رنگ اختیار کرچکا ہے کے میزبان حامد میر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ اس کے بعد راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں بھی اپنا پروگرام منعقد کریں گے چاہے اسے دیکھنے دس لوگ آئیں یا دس ہزار۔ ’ہمارا مقصد اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا اور یہ بتانا ہے کہ کوئی بھی پابندی ہمیں نہیں روک سکتی۔‘ ٹی وی پر تو محض تندوتیز بحث دیکھنے کو ملتی ہے لیکن فٹ پاتھ پر ان پروگراموں میں تو نعرے بازی اور تالیاں بھی شامل ہوگئی ہیں۔ جہاں حاضرین کو کسی مہمان کی بات پسند آئی وہیں تالیاں یا نعرے لگا کر اپنی رائے بھی ریکارڈ کرا دی۔ ایسے ہی ایک عام شہری محمد طاہر نے وہاں آنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اچھی روایت ہے جو شروع کی گئی ہے۔ ’بوٹ والوں کو معلوم ہو جائے کہ ایک ہی شخص صدر، کونسلر، جج اور چیف جسٹس نہیں ہوسکتا۔‘ ان احتجاجی میلوں نے گلی کوچوں میں ماضی کی ایک اہم روایت یعنی نوٹنکی کو زندہ کر دیا ہے۔ سینئر صحافی نصرت جاوید کے بقول نوٹنکی میں ایک ویلن پاٹے خان ہوا کرتا تھا اب یہ کردار جنرل مشرف نے اختیار کر لیا ہے۔ پریس کلب کے سامنے پولیس کی بھی ایک بڑی تعداد احتجاجی میلے پر نظر رکھنے کے لیے موجود ہوتی ہے۔ لیکن آج تک یہ میلے پرامن ہی رہے۔ ان احتجاجی میلوں میں ٹی وی سٹوڈیو کے برعکس مشرف مخالف باتیں کافی زور و شور سے کی جاتیں ہیں۔ ہر کوئی دل کی بھڑاس نکالتا نظر آتا ہے۔ بعض اوقات صحافت کا بنیادی اصول یعنی توازن اور جائز تنقید کا دامن ہاتھ سے کھسک جاتا ہے۔ لیکن ذرائع ابلاغ کے خلاف جس قسم کے یک طرفہ اقدامات مشرف حکومت نے اٹھائے، اس کا جواب شاید اسی طرح بہتر انداز میں دیا جاسکتا تھا۔ |
اسی بارے میں چینل کی بندش کے خلاف مظاہرہ17 November, 2007 | پاکستان ٹی وی چینلوں کی نشریات معطل29 September, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان سندھ میں احتجاجی مظاہرے، گرفتاریاں14 November, 2007 | پاکستان پا کستان:ٹی وی چینلز پر نیا سنسر02 June, 2007 | پاکستان پیمرا کا ’آج‘ ٹی وی کو نوٹس23 April, 2007 | پاکستان نجی ٹی وی چینل پر پولیس کا ’حملہ‘16 March, 2007 | پاکستان ’سندھ ٹی وی‘ پر پابندی کا تیسرادن12 November, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||