BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 November, 2007, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شدت پسندی کا سیاسی مقابلہ

جنرل مشرف کے دور میں طالبانائزیشن پر قابو نہ پایا جاسکا
فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف نے سبکدوش ہوتے وقت سویلین صدر پرویز مشرف کے لیے جو نامکمل کام چھوڑے ہیں ان میں ملک میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی یا طالبانائزیشن پر قابو پانا بھی شامل ہے۔

ملک کو جمہوریت کی پٹری پر واپس ڈالنے کے صدر کے بظاہر طویل منصوبے پر ابھی بھی عمل درآمد جاری ہے اور ان کے بقول وہ تو تیسرے مرحلے میں ہے لیکن ان کے سکیورٹی پلان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کس فیز میں ہے۔

صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے جمعرات کو حلف برداری کی تقریب میں صوبہ سرحد میں دہشت گردوں کی کمر توڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے بندوبستی اضلاع میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کی کمر توڑ دی ہے۔ ’انشاء اللہ تعالیٰ آپ صوبہ سرحد سے اب اچھی خبریں سنتے رہیں گے۔‘

یہ صدر کے الفاظ کا غلط استعمال تھا یا محض اس حقیقت کا اقرار کہ شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں پیش رفت صرف سرحد میں ہی ہو رہی ہے۔ قبائلی علاقوں کا کیا بنے گا؟ کیا وہاں سے اچھی خبریں آنے میں وقت لگے گا؟

سرکاری دعوے اپنی جگہ لیکن وزیرستان میں مقامی طالبان اب بھی حاوی ہیں جبکہ صوبہ سرحد کی وادیِ سوات میں وہ وقتی طور پر بظاہر زیر زمین منتقل ہوگئے ہیں۔ پسپا ہونے والے سوات کے شدت پسند دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ دوبارہ لوٹیں گے۔ اطلاعات ہیں کہ شدت پسند قریبی اضلاع میں روپوش ہوگئے ہیں۔

قامی طالبان اب بھی حاوی
 سرکاری دعوے اپنی جگہ لیکن وزیرستان میں مقامی طالبان اب بھی حاوی ہیں جبکہ صوبہ سرحد کی وادیِ سوات میں وہ وقتی طور پر بظاہر زیر زمین منتقل ہوگئے ہیں۔ پسپا ہونے والے سوات کے شدت پسند دھمکی دے رہے ہیں کہ وہ دوبارہ لوٹیں گے۔ اطلاعات ہیں کہ شدت پسند قریبی اضلاع میں روپوش ہوگئے ہیں۔
نئے فوجی سربراہ جنرل اشفاق کیانی کے لیے اس مسئلہ کا مستقل حل یقیناً ان کی نئی ترجیحات میں شامل ہوگا۔ اب جبکہ وہ ’آل ان آل‘ ہیں فوجی حکمت عملی میں تبدیلی ضروری ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ تبدیلی میں تاخیر ہوئی ہے تو شاید غلط نہیں ہوگا۔

شدت پسندی کا حل بےدریغ طاقت کے استعمال کے ذریعے نکالنے کا فارمولہ انتہائی متنازعہ رہا ہے۔ عام شہری تو اسے اچھی نظر سے نہیں دیکھتے لیکن جنوبی وزیرستان کے مقامی طالبان بھی یہی رائے رکھتے ہیں۔ ایک ایسے گروہ کی جانب سے تشدد کی مخالفت جس کے لیے مارنا مرنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں طاقت کے استعمال کی مخالفت نہ صرف حیران کن بلکہ معنی خیز بھی ہے۔

بیت اللہ محسود کے ترجمان ذوالفقار محسود کہتے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم اپنی قوم کو ہی توپ اور گولوں کا نشانہ بنانے میں کون سی سیاست کار فرماں ہے۔ ’یہ کشمکش حکومت اور عوام دونوں کے لیے مفید نہیں۔‘

عسکری تجزیہ نگار لیفٹینٹ جنرل طلعت مسعود بھی کہتے ہیں کہ دنیا کی بہترین فوج کبھی بھی اپنی قوم کو فتح نہیں کر پائی۔ ان کا کہنا ہے کہ فوج کو آخری حربے کی طور پر جب تمام سیاسی و انتظامی حل ناکام ہوجائیں، استعمال کرنا چاہیے۔

انتہا پسندی میں اضافے کی ایک وجہ تـجزیہ نگار ایک طویل عرصے تک فوج اور ملک کی قیادت ایک شخص کے پاس رہنے کو قرار دے رہے ہیں۔ فوج اور عسکری حکمت عملی دونوں متاثر ہوئے۔ اب امکان ہے کہ شاید صدر ریاستی جبکہ جنرل کیانی فوجی امور پر مکمل توجہ پر دے پائیں گے۔

جنرل مشرف کی فوجی پالیسیوں میں جنرل کیانی کی رائے بھی شامل تھی
نئی کمان فوج کی کاؤنٹر انسرجنسی میں تربیت پر بھی زور دے گی جس کی کمی محسوس کی گئی ہے۔ بدھ کو فوجی کمان میں تبدیلی سے قبل ہی حکومت شدت پسندی کے مقابلے کے لیے ایک نئے منصوبے پر عمل درآمد کر رہی ہے جس کے تحت فوج کو ثانوی حیثیت دیتے ہوئے نیم فوجی ملیشیا فرنٹئر کور کو قبائلی علاقوں میں قیام امن کی ذمہ داریاں دی جا رہی ہیں۔

یہ ایک مؤثر قدم ہے لیکن اس بات کی تشہیر کہ یہ سب کچھ بھی امریکی ایماء اور مدد سے ہو رہا ہے فرنٹئر کور کے لیے علاقے میں حالات خراب کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ مبینہ امریکی جاسوسوں اور حکومت نواز قبائلیوں کا حشر تو لوگ دیکھ چکے ہیں، لہذا اس بابت احتیاط ضروری ہے۔

امریکی مدد سے چلائے جانے والے اس منصوبے کے بارے میں وزارت داخلہ کے ترجمان برگیڈئر ریٹائرڈ جاوید اقبال چیمہ کہتے ہیں کہ ناصرف فرنٹئر کور بلکہ کنسٹیبلری کی بھی تربیت کی جا رہی ہے۔

ایک کمزور صدر کو دیکھتے ہوئے شدت پسندوں نے بھی بظاہر گزشتہ چھ ماہ میں اپنی کارروائیوں میں بے تحاشہ اضافہ کر دیا تھا۔ اس کا مقصد ان کی حکومت کو کمزور کرنا تھا۔ وہ کمزور کرنے میں تو کامیاب رہے لیکن گرانے میں نہیں۔ البتہ انہوں نے عام لوگوں کی تشویش میں بھی کافی اضافہ کیا۔

جنرل مشرف ’یونیٹی آف کمانڈ‘ کے کٹر پیروکار رہے ہیں۔ ان کے لیے اب اختیارات کا جنرل کیانی اور عام انتخابات کے نتیجے میں آنے والی حکومت کے ساتھ تقسیم مشکل دکھائی دے رہی ہے۔

پرویز مشرف اگرچہ فوجی سربراہ نہیں رہے لیکن بطور صدر افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ضرور ہیں۔ ان کی سکیورٹی پالیسی میں دیگر اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے علاوہ جنرل کیانی کی سوچ شامل رہی ہے۔

اسی وجہ سے شدت پسندی سے نمٹنے کے طریقۂ کار میں کسی اہم یا ڈرامائی تبدیلی کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔

پہلے فوجی صدر ہونے کی وجہ سے شاید مسئلے کے حل کے لیے عسکری پہلوؤں پر زیادہ زور تھا تو اب شاید سویلین صدر ہونے کے ناطے شدت پسندی کا مقابلہ سیاسی طریقے سے کرنے پر وہ زیادہ زور دیں۔

 لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعودفوج اور سیاست
’جنرل کیانی فوج کو سیاست سے الگ رکھیں‘
مشرفوہ بانس کی چھڑی
’بجھے بجھے مشرف اور فوجی کمان کی علامت‘
جنرل پرویز مشرفصدر پھر صدر
چیف آف آرمی سٹاف کا دور اقتدار
مشرفچیف کی تبدیلی
راولپنڈی میں کمان کی تبدیلی کی تقریب
آئین اور آرمی چیف
ساٹھ برس: تیرہ آرمی چیف، چار سویلین صدر
مشرفچھری اور خربوزے
نواز شریف، بینظیر اور صدر مشرف کا ساتھ
اسی بارے میں
سوات: طالبان کے مورچے خالی
27 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد