’فوجی بمباری،گیارہ شہری ہلاک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں بدھ کی شب سکیورٹی فورسز کی جانب سے طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں پر ہونے والی بمباری کے دوران خواتین اور بچوں سمیت گیارہ عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ حکومت نے بھی اس واقعے کی تصدیق کی ہے تاہم ہلاک شدگان کی تعداد کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب کو سکیورٹی فورسز نے چہار باغ،گلی باغ اور سالنڈہ میں مشتبہ طالبان کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس میں مقامی لوگوں کے بقول عام آبادی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق بمباری کے نتیجے میں بعض خواتین اور بچوں سمیت گیارہ عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ سوات میڈیا سینٹر کے ترجمان میجر امجد اقبال نے مینگورہ میں پریس بریفنگ کے دوران گزشتہ شب کے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی تاہم انہوں نے مرنے والوں کی تعداد بتانے سے گریز کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان کی جانب سے چھاپہ مار جنگ کی دھمکی کے بعد حکومت نے سوات میں آپریشن بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے جمعرات کو بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ شب کو عام آبادی پر کوئی بمباری نہیں کی گئی ہے البتہ طالبان کے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے توپخانے کا استعمال کیا گیا تھا۔
میجر جنرل وحید ارشد نے سوات میں مقامی طالبان کے سربراہ مولانا فضل اللہ کے بھائی کی گرفتاری کا دعوٰی بھی کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ جمعرات ہی کو چکدرہ کے مقام پر طالبان کے سر براہ مولانا فضل اللہ کے بھائی کو اپنے چند ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا گیا ہے۔ان کے مطابق’گرفتار شخص کا نام فضل ہادی ہے اور انہوں نے خود کو مولانا فضل اللہ کا بھائی ظاہر کیا ہے‘۔ ادھر بمباری میں شہریوں کی مبینہ ہلاکت کے خلاف جمعرات کی صبح چھ سو سے زیادہ افراد نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ طالبان کی جانب سے علاقہ چھوڑنے کے بعد سکیورٹی فورسز شہری آبادی کو مزید نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ لڑائی کے دوران انہیں نہ صرف جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے بلکہ کافی تعداد میں ان کے گھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرے کی کوریج کے لیے جانے والے صحافیوں کو بھی فضاء گٹ کے مقام پر روک دیا گیا ہے۔ دریں اثناء بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے میجر جنرل وحید ارشد کا مزید کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے ضلع شانگلہ کے تمام علاقوں کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے دعوٰی کیا کہ سوات میں کئی ہفتوں سے جاری آپریشن کے دوران ایک تقریباً ایک سو بیس مشتبہ طالبان کو ہلاک کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ دس دنوں کے دوران سکیورٹی فورسز کے پندرہ اہلکار ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ تاہم طالبان نے اس سے قبل اتنی بڑی تعداد میں اپنے ساتھیوں کی ہلاکتوں کے بارے میں حکومتی دعوی کی تردید کی تھی۔
حکومت نے سوات کے صدر مقام مینگورہ اور آس پاس کے علاقوں میں جمعرات کو دوپہر بارہ بجے تک کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم حکومت نے جمعہ سے کرفیو کے اوقات میں اضافے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ شورش زدہ علاقوں میں صبح سات سے دو بجے تک جبکہ مینگورہ اور آس پاس کے علاقوں میں صبح سات سے چار بجے تک کرفیو میں نرمی کی جائے گی۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مولانا فضل اللہ کے ایم ایف چینل کے نشریات بند ہوگئی ہیں تاہم پیر کی رات مذہبی رہنما نے سید و شریف ائر پورٹ کے قریب واقع مورچے خالی کرنے کا اعلان اپنے ایف ایم چینل ہی سے کیا تھا۔سرکاری ذرائع کے مطابق تین دن قبل حکومت نے بھی سوات میں ایک ایف ایم ریڈیو چینل قائم کیا تھا جس سے کی وجہ سے مولانا فضل اللہ کی ایف ایم نشریات میں خلل پڑنے کی اطلاعات ہیں۔ | اسی بارے میں سوات: مزید پچاس ہلاکتوں کا دعویٰ28 November, 2007 | پاکستان سوات میں ووٹنگ، ایک بڑا چیلنج27 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان کے مورچے خالی27 November, 2007 | پاکستان سوات: چار مقامات پر مورچے خالی 27 November, 2007 | پاکستان حکومت کی ذمہ داری عوام نے نبھائی26 November, 2007 | پاکستان فوج :سوات میں کامیابی کا دعویٰ25 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||