فوج :سوات میں کامیابی کا دعویٰ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فوجی حکام نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب ایک بڑے فوجی آپریشن کے دوران مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے خلاف خاطر خواہ کامیابیوں کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ رات بھر کی گولہ باری کے نتیجے میں تیس عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار کے روز پریس کانفرنس کے دوران سوات میڈیا انفارمیشن سینٹر کے انچارج امجد اقبال کا کہنا تھا کہ گذشتہ شب کے فوجی آپریشن کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عُثمانی سر ، ناجیہ ٹاپ ، جل کوٹ ، ننگولئی کے علاوہ مولانا فضل اللہ کا گڑھ سمجھا جانے والا امام ڈھیری کا علاقہ بھی ’عسکریت پسندوں‘ سے خالی کرالیا ہے ۔ ’اب عُثمانی سر اور ناجیہ ٹاپ پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں‘۔ ان دو اونچے پہاڑوں پر پہلے مبیینہ عسکریت پسندوں نے مورچے بنا رکھے تھے اور سڑک پر سے گزرنے والی ٹریفک اُن کی فائرنگ کی زد میں تھی ۔ جبکہ ڈھیری کے مقام پر بھی ، جہاں بڑی شاہراہ پر مولانا فضل اللہ کے حامیوں نے مورچے اور چیک پوسٹ بنا رکھی تھی ، حکومت کی عملداری بحال کر لی گئی ہے ۔ سرکاری ترجمان کے مطابق مسلح افراد چیک پوسٹ اور مورچے کو چھوڑ کر جا چکے ہیں ۔ اُن کا کہنا تھا کہ ننگولئی کے مقام پر حاصل ہونے والی کامیابیوں کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں مورچہ زن ’عکسریت پسندوں‘ کا ایک دوسرے سے رابطہ کٹ گیا ہے اور اُن کے بقول ، مٹہ تحصیل ، جو کہ مسلح افراد کے کنٹرول میں ہے وہاں سے اب افرادی کمک نیچے کے مورچہ زنوں کو نہیں مل سکتی ۔ ’صرف ایک مقام پر دریائے سوات کے بیچ میں سے عکسریت پسندوں کے بھاگنے کا راستہ باقی بچا جس کو اب قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے وہاں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں‘ ۔ تاہم حکومتی دعووں کی تصدیق غیر سرکاری ذرائع سے یا ان علاقوں میں جا کر خود دیکھنے سے کرنا ممکن نہیں تھی ۔ مینگورہ سمیت سوات کے دیگر علاقوں میں سنیچر کے روز دو بجے چوبیس گھنٹوں کے لیے کرفیو نافذ کیا گیا تھا ۔ لیکن اب فوجی حکام نے فوجی آپریشن کی ضروریات کے پیشِ نظر کرفیو کے دورانیے میں غیر مُعینہ مدت کے لیے اضافہ کردیا ہے ۔ ’حکومت نہیں چاہتی کہ پسپائی پر مجبور عسکریت پسندوں کو بھاگنےکا یا عام شہریوں میں شامل ہوجانے کا موقع ملے‘۔ سرکاری ترجمان نے کرفیو کے دورانیے میں اضافے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب فوج نے بھاری اسلحے کا بڑے پیمانے پراستعمال کیا اور عینی شاہدین کے مطابق ناجیہ ٹاپ پر مسلح افراد کے ٹھکانوں پر کی جانے والی گولہ باری سے پہاڑی کے ایک مقام پر آگ کے شعلے بلند ہوتے دیکھے گئے ۔ ’پہاڑوں میں بنائے گئے مورچوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عکسریت پسند عکسری حربوں کے اعتبار سے نہایت تربیت یافتہ تھے‘۔ معتبر ذرائع سے بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ مبیینہ عسکریت پسندوں میں سے چند ایک کے درمیان گذشتہ شب کو وائرلیس پر ہونے ہونے والی گفتگو سے ، جو کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سُنی ، یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ’ ایک تو اُن کو کافی جانی نقصان ہوا اور دوسرا یہ کہ وہ مایوسی کا شکار تھے اور گذشتہ شب ہونے والے نقصانات کا ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرا رہے تھے‘ ۔ مولانا فضل اللہ کے حامیوں کو ہونے والے جانی نقصان کے حوالے سے سرکاری ترجمان کا پریس بریفنگ کے دوران کہنا تھا کہ ’ ہم صرف اتنا کہہ سکتےہیں کہ اُن کے کافی سارے لوگ مارے گئے ، مارے جانے والوں کی تعداد کیا تھی اس حوالے سے ہم کچھ نہیں کہہ سکتے‘۔ البتہ آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پہنچنے والے جانی نقصان کے بارے میں امجد اقبال نے کہا کہ ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ۔ اس کے علاوہ ، اُن کے بقول ، گذشتہ شب بلو گرام کے علاقے میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ۔ جبکہ مینگورہ سے کچھ دور ، مردان کی جانب ، بریکوٹ کے مقام پر سڑک ہر کھڑی ایک سوزوکی پک اپ میں نصب دھماکہ خیز مواد کے پھٹنے سے ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا ۔ کوزہ بانڈہ میں ، جہاں مولانا فضل اللہ کی کافی عوامی حمایت پائی جاتی ہے ، گذشتہ شب قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گولہ باری سے ایک سکول کی عمارت میں بنایاگیا عکسریت پسندوں کا اسلحہ کا ذخیرہ تباہ ہوا۔ جبکہ مسلح افراد کے زیرِ کنٹرول مٹہ کے علاقے میں جس پولیس سٹیشن پر عکسریت پسندوں نے قبضہ کررکھا تھا اُس کی عمارت کو بھی گذشتہ شب بھاری اسلحہ سے نشانہ بنایا گیا ۔ سرکاری ترجمان نے حکومت کی جانب سے سوات کے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ’ اب مزید خوف میں مبتلا نہ رہیں کیونکہ اب کسی کو ذبح کیے جانے کا واقعہ دوبارہ پیش نہیں آئے گا ، مام ڈھیری عکسریت پسندوں سے خالی کرلیا گیا ہے لہذٰا قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں اور اُن میں سے بھاگنے پر مجبور کسی زخمی کو پناہ نہ دیں‘ ۔ سرکاری ترجمان کے مطابق اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گولہ باری کے نتیجے میں کسی بےگناہ شہری کے گھر یا نجی عمارت کو نقصان پہنچے تو حکومتی اداروں اور فوجی حکام کو مطلع کیا جائے ’ تاکہ غلطی کے تدارک کے لیے راست اقدام کیا جا سکے‘ ۔ دریں اثناء اتوار کے روز بھی مینگورہ کے گردو نواح کے علاقوں میں فوجی ہیلی کاپٹروں نے پروازیں جاری رکھتے ہوئے وقتاٌ فوقتاٌ مسلح افراد کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ۔ تاہم کرفیو کے دوران تاحال مینگورہ شہر سمیت سوات کے دیگر علاقوں میں موبائل ٹیلیفون کمپنیوں کا نظام اور کیبل ٹیلیویژن کی سہولت تاحال تعطل کا شکار ہے ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||