گولہ باری سے ہزاروں نقل مکانی پر مجبور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے شمالی ضلع سوات کی تحصیل کبل میں جاری فوجی آپریشن اور فوج کے خلاف مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کی کارروائیوں سے پیدا ہونے والے خوف کے نتیجے میں بدھ کے روز ہزاروں افراد نے گل جبہ، دیولے شاہ، کالا کلے، سر سنی، گالوچ اور ملوچ سے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی کی ہے۔ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کی جھڑپوں کی وجہ سے حکومت نے بدھ کے روز کبل کو سوات کے ضلعی صدر مقام مینگورہ سے ملانے والی بڑی سڑک کو ہر قسم کے ذرائع آمدورفت کے لیے بند رکھا جس کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
نقل مکانی کرنے والے ایک کُنبے کے فرد فاروق نے بی بی سی کو بتایا کہ ’عام دنوں میں سڑک کے ذریعے کبل سے مینگورہ پہنچنے میں تقریباٌ آدھا گھنٹہ صرف ہوتا ہے لیکن آج مجھے دیہاتوں کے بیچوں بیچ گزرنے والے کچے رستے پر ذرائع آمدورفت کے ہجوم کی وجہ سے مینگورہ پہنچنے میں تقریباٌ تین گھنٹے لگے‘۔ بی بی سی سے بات کرنے والے نقل مکانی پر مجبور افراد میں سے اکثر نے مولانا فضل اللہ کے حامیوں اور پاکستان فوج کے آپریشن سے بیزاری کا اظہار کیا ۔ تحصیل کبل کے گاؤں دیولے شاہ کے رہائشی نے اپنی حفاظت کے پیشِ نظر نام نہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے کُنبے کی حفاظت کے لیے نقل مکانی پر مجبور ہوں اور اپنا گھر بار، کھیت اور کچھ روز پہلے کاٹی گئی ٹماٹر کی فصل پیچھے چھوڑے جارہا ہوں‘۔
سوات میڈیا انفارمیشن سینٹر کے انچارج امجد اقبال نے بی بی سی بات کرتے ہوئے عام شہریوں کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصان کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے ۔اُن کا کہنا تھا کہ اگر کسی بےگناہ شہری کا نقصان ہوا ہے تو اُن سے ہمیں ہمدردی ہے۔ ’لیکن حتیٰ الامکان کوشش کی جارہی ہے صرف اُن ہی جگہوں کو نشانہ بنایا جائے جہاں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے‘۔ تحصیل کبل کےگاؤں کالا کلے ایک گھر میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب فوج کی جانب سے مبیینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی آرٹلری فائر سے شدید نقصان پہنچا اور خاتونِ خانہ سمیت تین بچے جاں بحق ہوئے اور ہلاک شدہ خاتون کے خاوند سردار الملک اور اُن کی بھانجی زخمی ہوئے۔ ہلاک شدگان کو آج کالا کلے میں سُپردِ خاک کیا گیا۔
سردار الملک موبائل فون پر گولہ باری کے بارے میں بتا ہی رہے تھے کہ اُن کا گھر پھر نشانہ بنا جس کی وجہ سے دو کمروں کو شدید نقصان پہنچا اوران کے اندر موجود گھر کے افراد میں سے ’چار جاں بحق اور دو زخمی ہوئے‘۔ اُنھوں نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے علاقے میں نہ تو مقامی اور نہ ہی باہر سے آئے ہوئے ’طالبان‘ یا ’القاعدہ‘ سے تعلق رکھنے والے افراد ہیں۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ’فوج شہری علاقوں کو کیوں نشانہ بنا رہی ہے، جائے اور جہاں طالبان ہیں وہاں جاکر اُن سے لڑے‘۔ جس وقت فضلِ معبود بی بی سی سے بات کررہے تھے ٹھیک اُس وقت فوج کی جانب سے ایک بار پھر قریبی دیہاتوں میں مبیینہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بھاری توپخانے کا استعمال شروع ہوا۔
سرکاری ترجمان امجد اقبال نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا کہ بدھ کے روز آرٹلری فائر، مارٹر گنوں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے ’عسکریت پسندوں‘ کو کبل میں اُن جگہوں سے نکالا گیا جن پر اُنھوں نے گزشتہ رات قبضہ کرلیا تھا۔ کبل سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے سوات میں صحافیوں کو بتایا ہے فوج کی جانب سے سہ پہر کو کی گئی گولہ باری کے نتیجے میں ایک بچی جاں بحق اور متعدد گھروں کو نقصان پہنچا۔ اس حوالے سے جب سرکاری ترجمان امجد اقبال سے رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے نہ تو تردید اور نہ ہی تصدیق کرتے ہوئے لاعلمی کا اظہار کیا۔ کبل میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب فوج کی جانب سے کی گئی گولہ باری کے ساتھ ساتھ حکومت کو مطلوب مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں نے مقامی پولیس سٹیشن اور ’کبل گالف کورس‘ کو نشانہ بنایا۔ ترجمان امجد اقبال نے کہا کہ عسکریت پسندوں نے دستی بموں اور راکٹوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں دو فوجی جاں بحق اور پولیس سٹیشن میں تعینات پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔’لیکن منگل کے روز کارروائیوں کے بعد علاقے کو عسکریت پسندوں سے پاک کرا لیا گیا اور پولیس کی نفری پھی پولیس سٹیش میں پھر سے فرائض سرانجام دے رہی ہے‘۔ انُھوں نے مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین کے ایک دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ’نہ تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بکتر بند گاڑیاں عسکریت پسندوں کے حملے میں تباہ ہوئیں اور نہ ہی اُن کی جانب سے فوجیوں پر خودکش حملہ کیا گیا‘۔ اس سے پہلے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سراج الدین نے کہا تھا منگل کے روز ایک خود کش بم حملے میں دو بکتر بند گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ |
اسی بارے میں چالیس عسکریت پسند ہلاک:فوج21 November, 2007 | پاکستان سوات، مالاکنڈ میں کرفیو نافذ16 November, 2007 | پاکستان سوات میں حکومتی کارروائی میں دیر کیوں؟15 November, 2007 | پاکستان سوات، شانگلہ میں لڑائی، متعدد ہلاک15 November, 2007 | پاکستان سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک14 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان ٹھکانوں پر فائرنگ 13 November, 2007 | پاکستان سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا09 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||