’آپ کی خدمت کے لئے، طالبان سٹیشن‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی وادی سوات میں مقامی طالبان کے زیر کنٹرول علاقے تحصیل مٹہ میں عسکریت پسندوں نے ’اسلامی قوانین‘ کے تحت تمام معاملات چلانے کے لئے عملی کوششیں شروع کردی ہیں جس سے مقامی آبادی میں ان کی حمایت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سوات کے صدر مقام مینگورہ سے مشرق کی طرف مٹہ روانہ ہوئے تو سب سے پہلے مبینہ مقامی طالبان کے زیر کنٹرول علاقے ڈھیرے پہنچے جو مقامی عسکریت پسندوں کا پہلا مورچہ بتایا جاتا ہے۔ یہ مورچہ سید و شریف ایئرپورٹ میں قائم فوج اور نیم فوجی دستوں کے مورچوں سے چند فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔ ایئرپورٹ کا رن وے طالبان کے مورچے سے ملتا ہے۔ ڈھیرے میں عسکریت پسند سڑک کے کنارے بنائے گئے مورچوں میں راکٹ لانچر، جی تھری، ایم سیکسٹین اور کلاشنکوف جیسے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے مسلح دکھائی دیے۔ کچھ جنگجو سڑک پر باری باری گاڑیوں کو چیک کرتے رہے ۔ لوگ بھی مسلح افراد کے ساتھ تعاون کرتے نظر آئے۔
ڈھیرے سے مٹہ تک تیس کلومیٹر کے اس فاصلے پر مختلف علاقوں کوزہ بانڈہ، براہ بانڈہ، نینگ ولیئے، شکردرہ اور شیر پلم میں طالبان نے سڑک کے کنارے اور پہاڑوں پر مورچے قائم کیے ہوئے ہیں۔ نینگ ولیئے میں ایک مورچے پر رکے تو وہاں عسکریت پسند ہاتھوں میں واکی ٹاکی اور وائر لیس سیٹ لیے ہوئے اپنے ساتھیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ مسلح طالبان کسی باقاعدہ فوج کی طرح مختلف کوڈ ناموں سے سڑک کے حالات سے دوسرے علاقوں میں بیٹھے ساتھیوں کو آگاہ کرتے رہے۔ نینگ ولیئے سے مٹہ بازار پہنچے تو وہاں زندگی معمول کے مطابق نظر آئی۔ جمعہ کی چھٹی کے باوجود بازار میں بڑی تعداد میں دکانیں کھلی رہیں اور لوگ خرید و فروخت میں مصروف نظر آئے۔ بازار کے مرکزی چوک میں ٹریفک کانسٹیبل کی جگہ ایک طالب چمنے خان کھڑے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے اس چوک میں چار بھتہ خور پولیس اہلکار ہوتے تھے۔ لیکن آج کل میں اکیلا ہوں اور صبح وشام یہاں ہوتا ہوں لیکن سارا نظام اچھے طریقے سے چل رہا ہے، نہ بازار میں گاڑیوں کا رش ہے اور نہ اور کوئی بدنظمی۔ پولیس اہلکار پیسوں کے لئے کام کرتے تھے اور ہم اللہ کی رضا کی خاطر کام کر رہے ہیں۔‘
تھانے کے باہر عسکریت پسندوں نے کالے رنگ کا ایک بورڈ بھی نصب کیا ہوا ہے جس پر لکھا ہے ’امر باالمعروف ونہی عن المنکر‘ آپ کی خدمت کے لئے ہر وقت کوشاں، طالبان سٹیشن مٹہ ۔‘ تھانے کے گیٹ پر ڈیوٹی دینے والے ایک طالب مجاہد محمد امین خاکسار نے بتایا کہ مٹہ میں تاحال شریعت کے نفاذ کا اعلان تو نہیں کیا گیا ہے لیکن اس سلسلے میں صلاح و مشورے جاری ہیں۔ ان کے مطابق علاقے سے پولیس اہلکاروں کے جانے کے بعد اب لوگوں کے چھوٹے موٹے مسائل مٹہ کے مقامی کمانڈر خان خطاب اسلامی قوانین کے مطابق حل کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان اطلاعات میں کوئی حقیقت نہیں کہ طالبان اپنے زیر انتظام علاقوں میں لوگوں کو داڑھی رکھنے اور نماز پڑھنے کے لئے مجبور کر رہے ہیں۔ ’ ہم زبردستی لوگوں پر اسلامی نظام نافذ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اسلام میں جبر نہیں۔ ہم تو ایک ایسا نظام قائم کرنا چاہتے جس میں امیر غریب سب کو انصاف ملے۔‘ مٹہ بازار میں لوگوں سے بات چیت کی تو ایسا لگا کہ سب لوگ طالبان کے آنے پر خوش ہیں۔ کسی نے بھی کوئی شکایت نہیں کی، سب لوگ مطمئن نظر آئے۔ اس کے علاوہ بازار میں کہیں بدنظمی بھی دیکھنے میں نہیں آئی، سب معاملات معمول کے مطابق دکھائی دیے۔ تاہم یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ مٹہ کے لوگ واقعی عسکریت پسندوں کو دل سے چاہتے ہیں یا ان کے خوف سے ان کے خلاف کوئی بات کرنے کے لئے تیار نہیں۔ |
اسی بارے میں سوات میں عسکریت پسند کہاں کہاں؟08 November, 2007 | پاکستان سوات: سکیورٹی قافلے پر بم حملے09 November, 2007 | پاکستان سوات: میجر سمیت سات اغواء10 November, 2007 | پاکستان جنگجوگروہوں کا مضبوط نیٹ ورک11 November, 2007 | پاکستان سوات:انتظامی کنٹرول فوج کے پاس12 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان ٹھکانوں پر فائرنگ 13 November, 2007 | پاکستان مالاکنڈ ڈویژن: کچھ علاقوں میں کرفیو13 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||