ایف سی کے دو اہلکار رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت کو مطلوب مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں نے جمعرات کی سہ پہر فرنٹیئر کانسٹیبلری کے دو اہلکاروں کو چھبیس روز تک اپنی تحویل میں رکھنے کے بعد رہا کردیا۔ رہا کیے جانے والے اہلکاروں میں صوبہ سرحد کے ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے صوبیدار امیر زمین اور کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے نائیک ربنواز شامل ہیں۔ ضلع سوات میں مام ڈھیری کے علاقے میں واقع مولانا فضل اللہ کے مدرسہ میں بی بی سی بات کرتے ہوئے نائیک ربنواز نے بتایا کہ اُن دونوں کو اٹھائیس اکتوبر کو سوات کے علاقے منگلور سالنڈہ کے مقام پر پکڑا گیا تھا۔ اُنھوں نے ہتھیار ڈالنے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ وہ دونوں شام کے وقت گشت کر رہے تھے کہ فائرنگ شروع ہوگئی جس کی وجہ سے انہوں نے قریب ہی ایک نالے میں پناہ لی اور بعد میں ہتھیار ڈال دیئے۔
ربنواز نے ہتھیار ڈالنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’مسلمان تھے، مسلمان لوگوں کے ساتھ کیسے مقابلہ کرتے ہم، مسلمان جب مسلمان کو مارتا ہے تو یہ دنیا بھی خراب ہوتی ہے اور آخرت بھی خراب ہوتی ہے‘۔ جس جگہ انھیں اور ان کے ساتھی کو محبوس رکھا گیا اُس کے بارے میں ربنواز کا صرف یہی کہنا تھا کہ ’ہمیں اچھی اور محفوظ جگہ پر رکھا گیا تھا، نماز اور قرآن شریف پڑھنے کی اجازت تھی‘۔ البتہ ربنواز اپنے مستقبل کے حوالے سے کوئی زیادہ پُراعتماد نظر نہیں آئے، جب اُن سے پوچھا کہ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ واپسی پر اُن کے اعلیٰ افسران اُن سے کیا سلوک روا رکھیں گے؟ اُنھوں نے کہا کہ وہ کچھ زیادہ یقین سے نہیں کہہ سکتے۔ اُنھوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ چونکہ اُن کے پاس واپسی کے پیسے نہیں لہذٰا اُن کے ’بھائی‘ اُنہیں رقم دیں گے تاکہ وہ اپنے گھروں کو جا سکیں۔ اس موقع پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین نے کہا کہ ’ ان اہلکاروں کو نہ ہی کسی معاہدے کے تحت اور نہ ہی حکومت کی طرف جذبہ ءِ خیر سگالی کے طور پر چھوڑا جا رہا ہے‘۔ البتہ انھوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اب حکومت بھی فوجی آپریشن کے دوران گرفتار کیے گئے اُن کے ساتھیوں اور عام شہریوں کو فوراٌ رہا کردے گی ۔ سراج الدین نے کہا کہ ان دو اہلکاروں کو زندہ سلامت چھوڑنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انھوں نے ’ہمارے ساتھیوں پر ہتھیار نہیں اٹھائے اور ہم نے محسوس کیا کہ یہ تو ہماری طرح ہیں‘۔ جب اُن سے پوچھا کہ کیا اب بھی مزید اہلکار اُن کی تحویل میں ہیں تو اُنھوں نے ’ہاں‘ میں جواب دیتے ہوئے اُن کی تعداد بتانے سے گریز کیا۔ گزشتہ دو روز سے سراج الدین نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اُن کے پاس قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موجود ہیں ۔ تاہم اُن کے اس دعوی ٰ کی حکومتی ترجمان کی جانب سے سختی سے تردید کی گئی ۔ دو روز پہلے سراج الدین نے بی بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران چند فوجی افسران کی وردی میں لی گئی تصاویر بھی دکھائیں۔ اُن میں سے ایک تصویر کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ ’اس افسر کو شانگلہ کے محاذ پر قبضہ میں لیا گیا ہے‘۔ تاہم اُن کے اس دعوے کی تصدیق سرکاری ذرائع سے تاحال نہیں ہوسکی۔ | اسی بارے میں ’یرغمالوں کو نقصان نہ پہنچائیں‘11 November, 2007 | پاکستان طالبان کا لشکر تیار کرنے کا اعلان17 November, 2007 | پاکستان طالبان نے 6 افراد کےگلے کاٹ دیے12 October, 2007 | پاکستان باجوڑ میں دو قبائلی ملک قتل20 October, 2007 | پاکستان مقامی سطح پر رابطوں کے فقدان کی شکایت 30 October, 2007 | پاکستان ’سوات کو اب میں بھی ٹھیک نہیں کر سکتا‘31 October, 2007 | پاکستان ’بینظیر پر ہمارا قرض ضرور رہتا ہے‘03 November, 2007 | پاکستان وزیرستان آپریشن روکا جائے: قاضی10 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||