باجوڑ میں دو قبائلی ملک قتل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں سنیچر کو دو مختلف وارداتوں میں نامعلوم مسلح افراد نے دو قبائلی عمائدین کو قتل کر دیا ہے ۔ مقامی قبائلی ذرائع کے مطابق قتل کی ان وارداتوں میں مبینہ طور پر مقامی طالبان اور شدت پسند عناصر کا ہاتھ ہے۔ تاہم باجوڑ ایجنسی کے پولیٹیکل ایجنٹ کے دفتر کے ایک اہلکار نے قتل کی ان وارداتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے بعد واضح ہوسکے گا کہ قاتل کون ہیں ۔ پہلی واردات میں باجوڑ ایجنسی کی ایجنسی کونسل کے رُکن مولانا گُل شیر کو سیوائی کے علاقے میں فائرنگ کرکے قتل کیا گیا ۔ مقامی صحافی انوارن اللہ کے مطابق مولاناگل شیر ایجنسی میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے بنائے گئے ایک سو پچاس ارکان پر مشتمل ’گرینڈ ’ قبائلی جرگہ کے رکن تھے۔ اطلاعات کے مطابق مولانا گل شیر موٹرسائیکل پر ایجنسی کے صدر مقام خار سے تقریباٌ اٹھارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع اپنے گاؤں سیوائی جا رہے تھے جب سڑک کے کنارے پہلے سے گھات لگائے مسلح افراد اور موٹر سائیکل سواروں نے اُن پر جدید ہتھیاروں سے فائرنگ کی جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہلاک ہو گئے ۔ ایک دوسرے واقعہ میں ، نامعلوم حملہ آورں نے باجوڑ ایجنسی کے ملک اخونزادہ کو سہ پہر کے وقت خار کے قریبی گاؤں ’عنایت کلے’ کے قریب فائرنگ کر کے قتل کردیا ۔ ملک اخونزادہ بھی حکومت کے بنائے ہوئے جرگہ کے رکن تھے ۔ وہ گاڑی میں جارہے تھے جب اُنھیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا۔ قتل کی دونوں وارداتیں جن جگہوں پر ہوئیں وہ باجوڑ ایجسنی کے علاقے ماموند میں واقع ہیں جہاں مقامی طالبان اور عسکریت پسندوں کے لیے بھر پور حمایت پائی جاتی ہے اور جہاں ایک سے زیادہ مرتبہ حکومت نے حالات کو قابو میں رکھنے اور ایک واقعہ میں عسکریت پسندوں کی مبیینہ تربیت گاہ کو ختم کرنے کے لیے فضائی حملے بھی کیے گئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں قبائلی ملکوں کو نشانہ بنائے جانے کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ اس سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں پچھلے دو سالوں کے دوران دو سو کے لگ بھگ قبائلی عمائدین کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہوئے قتل کیا جا چکا ہے جس کے بعد علاقے میں حکومت کے اثر و رسوخ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے ۔ | اسی بارے میں ’غیر ملکیوں‘ کی مدد پر گھر مسمار20 October, 2007 | پاکستان بنوں: مزید چھ سکیورٹی اہلکار رہا17 October, 2007 | پاکستان وزیرستان: جنگ بندی ابھی نہیں16 October, 2007 | پاکستان میرعلی: کرفیوختم، فوج ہٹا لی گئی15 October, 2007 | پاکستان میرعلی جھڑپ: افراد3 ہلاک14 October, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||