سوات: طالبان کے مورچے خالی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں اطلاعات ہیں کہ شدت پسند مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے حامی سید شریف ائر پورٹ کے قریب چار مقامات پر قائم مورچے خالی کر کے کسی نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ مولانا فضل اللہ کے حامی امام ڈھیری مرکز ، چار باغ، گلی باغ، خوازہ خیلہ اور مٹہ کے علاقے بھی چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق پیر کی شب شوریٰ کے اجلاس کے بعد سوات میں مقامی طالبان کی تمام اہم قیادت نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہوگئی ہے۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیر کی رات مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ نے بھی ایف ایم ریڈیو پر اعلان کیا تھا کہ مورچے خالی کرنے کا فیصلہ شورٰی کے اجلاس کے بعد اتفاق رائے سے کیا گیا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ مولانا فضل اللہ کے ایم ایف چینل کے نشریات بند ہوگئی ہیں تاہم گزشتہ رات مذہبی رہنما نے سید و شریف ائر پورٹ کے قریب واقع مورچے خالی کرنے کا اعلان اپنے ایف ایم چینل ہی سے کیا تھا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق تین دن قبل حکومت نے بھی سوات میں ایک ایف ایم ریڈیو چینل قائم کیا ہے جس سے کی وجہ سے مولانا فضل اللہ کی ایف ایم نشریات میں خلل پڑنے کی اطلاعات ہیں۔ ادھر منگل کی صبح ڈھیرئی، کوزہ بانڈئی اور براہ بانڈئی کا دورہ کرنے والے مقامی صحافی شرین زادہ کانجو نے بی بی سی کو بتایا کہ سید و شریف ائرپورٹ کے قریب واقع تمام علاقوں کو عسکریت پسندوں نے خالی کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل شام تک ان علاقوں پر مقامی جنگجوؤں کا قبضہ تھا تاہم مولانا فضل اللہ کے طرف سے رات گئے اعلان کے بعد صبح کے وقت وہاں قائم تمام مورچے خالی تھے۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار کسی بھی وقت ان علاقوں کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے صدر مقام مینگورہ میں عسکریت پسندوں کے کچھ حامیوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔ تاہم علاقے میں موبائل ٹیلی فون سروس کی بندش کی وجہ سے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ ادھر سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے کچھ علاقوں میں آج چوتھے روز بھی غیرمعینہ مدت تک کرفیو نافذ رہا۔ منگل کی صبح مقامی انتظامیہ کی طرف صبح آٹھ سے لے کر بارہ بجے تک کرفیو میں نرمی دی گئی۔ کرفیو کے باعث علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء کی قلت پیدا ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق کرفیو میں نرمی کے دوران مٹہ، خوازہ خیلہ اور کبل تحصیلوں سے لوگوں نے بڑی تعداد میں محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کی ہے۔ واضح رہے کہ سوات میں حالیہ کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب تقریباً ایک ماہ قبل حکومت نے سکیورٹی فورسز کے ڈھائی ہزار اہلکار سوات کے مختلف علاقوں میں تعینات کرکے وہاں غیر اعلانیہ اپریشن کا اغاز کیا تھا۔ دریں اثناء پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ رات سوات میں ایک کارروائی کے دوران 20 عسکریت پسند مارے گئے۔ ان کے مطابق حملے میں مٹہ میں جنگجوؤں کے ایک اہم کمانڈر خان خطاب بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے بھی دو دفعہ حکومت خان خطاب کی ہلاکت کا دعویٰ کرچکی ہے تاہم دونوں بار اطلاع غلط ثابت ہوئی۔ |
اسی بارے میں حکومت کی ذمہ داری عوام نے نبھائی26 November, 2007 | پاکستان بارہ سوسکول بند، تقریباً دو لاکھ طلباء متاثر25 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||