BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 26 November, 2007, 07:40 GMT 12:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت کی ذمہ داری عوام نے نبھائی

شانگلہ میں نقل مکانی
سوات اور شانگلہ میں فوج اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں کئی خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے
صوبہ سرحد کے شمالی اضلاع سوات اور شانگلہ میں فوج اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں نقل مکانی پر مجبور سینکڑوں خاندانوں کی ضلع سوات کے سب سے بڑے شہری آبادی کے حامل علاقے مینگورہ میں چار سرکاری سکولوں کی عمارتوں کو پناہ گزینوں کے لیے عارضی رہائش گاہوں کے طور پر استعمال کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

یہ اقدام بریکوٹ میں قائم کیے گئے ریلیف کیمپ میں نقل مکانی پر مجبور خاندانوں کی عدم دلچسپی کے سبب لیا گیا ہے۔

اپنے گھروں کو چھوڑنے پرمجبور سینکڑوں خاندان صوبہ سرحد کے اس شمالی ضلع میں سرد راتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ان درس د تدریس کے مراکز میں نہایت کسمپرسی کی حالت میں اپنے شب و روز بسر کر رہے ہیں ۔

گورنمنٹ ھائی سکول نمبر تین ، مینگورہ ، اُن چار میں سے ایک سکول ہے جن کو پناہ گزینوں کی عارضی رہائش گاہ کا درجہ دیا گیا ہے۔ تیس کمروں کے اس سکول میں پچھلے دو روز کے دوران لگ بھگ چار سو افراد پر مشتمل چوبیس خاندان پناہ لے چکے ہیں۔

بچے ، بوڑھے ، عورتیں اور مرد غرض پناہ گزینوں میں سے ہر کوئی اس درسگاہ میں صرف اس آس پر دن گزار رہا ہے کہ کب اُن کے علاقوں سے وہاں حالات کے اچھے ہونے کی اطلاع ملے اور کب وہ اس بے سروسامانی کی زندگی کی بجائے اپنے ’اچھے بُرے ’ گھروں کو واپس لوٹ جائیں۔

ذمہ دار کون؟
 ہم جس حالت کو پہنچے ہیں، اُس کی ذمہ داری سراسر حکومت پر عائد ہوتی ہے لہذٰا ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لیے حکومت کو خصوصی انتطامات کرنے چاہیے تھے
نورالبصر
گورنمنٹ ھائی سکول نمبر تین میں قائم کی گئی اس عارضی رہائش گاہ جانے پر بی بی سی کو اتوار کے روز معلوم ہوا کہ سماجی خدمت کا جو کام ضلعی یا صوبائی حکومت کو کرنا چاہیے تھا وہ ذمہ داری دراصل مینگورہ کے عوام سرانجام دے رہے ہیں ۔

گو کہ سرکاری سکول کی عمارت ضلعی حکومت نے نقل مکانی پر مجبور افراد کے لیے مختص تو کردی ہے ، لیکن شاید نقل مکانی پر مجبور ان خاندانوں کی دیکھ بھال کے لیے ضلعی یا صوبائی حکومت کے پاس دینے کو کچھ اور نہ تھا ۔

فضل ودود دُرانی نے، جوکہ ایک سماجی کارکن ہیں اور اس عارضی رہائش گاہ میں قیام پذیر افراد کی دیکھ بھال کے کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ ’سکول کی عمارت کے علاوہ نہ تو ضلعی اور نہ ہی صوبائی حکومت کی جانب سے ان عارضی پناہ گزینوں کے لیے کچھ دیا گیا ہے۔‘

تو پھر گزشتہ اڑتالیس گھنٹوں سے ان سینکڑوں لوگوں کی، جن میں گود میں کھیلنے والے کئی بچے بھی شامل ہیں، نگہداشت اور ضروریاتِ زندگی کا کون خیال رکھ رہا ہے؟ کیا یہ جان بچانے کے لیے بھاگنے پر مجبور یہ کنبے اپنے ساتھ اتنا سامان اور رقم لائے ہیں کہ ایک لمبے عرصے تک چائے پانی کا خرچہ پورا کر سکیں؟

بی بی سی نے یہی سوال اس عارضی رہائش گاہ میں ٹھہرے ہوئے کئی لوگوں سے الگ الگ پوچھا۔ علیحدگی میں دیے گئے سب کے جواب کم و بیش ایک ہی جیسے تھے۔

ان میں حکومت کی مہربانیوں کے ذکر کے بجائے، مینگورہ کے عوام خصوصاٌ جس علاقے میں گورنمنٹ ھائی سکول نمبر تین واقع ہے وہاں کے رہائشیوں کے انسان دوست رویے کا تذکرہ تھا۔

عوام کا جذبہِ خیر سگالی
 اہلِ محلہ نے شانگلہ سے نقل مکانی پر مجبور ان چوبیس خاندانوں کے سکول میں میں رہائش کے لیے نہ صرف بستروں کا بندوبست کیا ہے بلکہ ضرورت مندوں کے لیے لباس کے ساتھ ساتھ تین وقت کی خوراک کا انتظام علاقے کے عوام جذبہ ءِ خیر سگالی کے طور پر کر رہے ہیں
فضل ِ ودود درانی
سرفراز خان کا تعلق شانگلہ کے دور افتادہ گاؤں بہادر کوٹ سے ہے جہاں فوج نے، ان کے بقول ، مبیینہ عسکریت پسندوں کو نشانہ بنانے کے لیے بے دریغ گولہ باری کی اور یوں کئی خاندانوں کو اپنے مٹی سے بنے ہوئے گھروں کو، جان بچانے کے لیے ، چھوڑنا پڑا۔

انیس افراد پر مشتمل سرفراز خان کا کنبہ بہادر کوٹ سے پانچ سے چھ گھنٹے پیدل سفر کرنے کے بعد سوات کے علاقے مالم جبہ پہنچا جہاں سے یہ تمام لوگ نو سو روپے کرائے پر لی گئی فلائنگ کوچ میں، جس کا عام دنوں میں کرایہ فی سواری تیس روپے بنتا ہے، سوار ہوکر مینگورہ پہنچے۔

پہلی دو راتیں مینگورہ کے ایک ہوٹل میں بسر کیں۔ اس کے بعد سرفراز خان کا سامنا چند ایسے لوگوں سے ہوا جو وہاں گھوم کر یہ اعلانات کر رہے تھے کہ اگر نقل مکانی پر مجبور کوئی خاندان کسی ہوٹل میں یا کسی دکان میں، یا کسی گیراج میں رہائش اختیار کیے ہوا ہے تو وہ قریب ہی واقع گورنمنٹ سکول نمبر تین میں منتقل ہوجائے۔

’جو کام حکومت کو کرنا چاہیے تھا وہ عام شہری نیکی کے جذبہ سے کرہے ہیں۔‘

فضل ِ ودود درانی نے بتایا کہ اہلِ محلہ نے شانگلہ سے نقل مکانی پر مجبور ان چوبیس خاندانوں کے سکول میں میں رہائش کے لیے نہ صرف بستروں کا بندوبست کیا ہے بلکہ ضرورت مندوں کے لیے لباس کے ساتھ ساتھ تین وقت کی خوراک کا انتظام علاقے کے عوام جذبہِ خیر سگالی کے طور پر کر رہے ہیں۔

یہ نظارہ بی بی سی کے اس نامہ نگار نے وہاں کچھ دیر رُکنے کے دوران بھی دیکھا۔

کوئی نئے آنے والے ’مہمانوں‘ کے لیے بسترے اُٹھائے آرہا ہے، تو کسی نے ہاتھ میں کھانے پینے کی اشیا ء سے بھرے پلاسٹک بیگز اُٹھائِے ہوئے ہیں۔

ایک کمرے میں چاول کے دیگچے پڑے ہوئے ہیں ، جبکہ ’مہمانوں‘ کے لیے چائے کا بھی خصوصی بندوبست کیا گیا۔

شانگلہ ہی سے تعلق رکھنے ولے نور البصر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نقل مکانی پر مجبور خاندانوں کی داد رسی کرنے بجائے اُن سے سرد مہری کا رویہ اپنایا ہوا ہے۔

’ہم جس حالت کو پہنچے ہیں، اُس کی ذمہ داری سراسر حکومت پر عائد ہوتی ہے لہذٰا ہمیں جن مسائل کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کے لیے حکومت کو خصوصی انتطامات کرنے چاہیے تھے۔‘

لیکن جب اتنا بڑا فوجی آپریشن ہی بغیر کسی مربوط حکمتِ عملی کے کیا جائے (سوائے فوجی منصوبہ بندی کہ عسکریت پسندوں کو کب اور کیسے نشانہ بنانہ ہے ) تو بیچارے عوام کیا کر سکتے ہیں۔

بی بی سی کو ایک سے زیادہ ایسے ہوٹل مالکان کے بارے میں بتایا گیا جنہوں نے شانگلہ سے نقل مکانی پر مجبور خاندانوں سے کمروں کا کرایہ نہیں لیا۔

گورنمنٹ ھائی سکول نمبر تین ہی کے قریب ایک رہائشی نے اپنے مکان کی بیھٹک کو نقل مکانی پر مجبور لوگوں کے لیے مختص کردیا ہے جس میں اس وقت بیس لوگ مقیم ہیں۔

اسی بارے میں
الیکشن کے التواء کی درخواست
24 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد