BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 24 November, 2007, 23:26 GMT 04:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرفیو میں فوجی کارروائیاں تیز

سوات(فائل فوٹو)
فوجی حکام کے اعلان کے مطابق سوات میں کرفیو اتوار دن دو بجے چوبیس گھنٹے مکمل ہونے پر ختم ہوگا۔
مینگورہ کے اردگرد کے علاقوں میں سنیچر کے روز دوپہر دو بجے کرفیو لگنے کے بعد سے فوجی کارروائیوں میں تیزی آئی ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے حکومت کو مطلوب مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ دوسری جانب سے مزاحمت بھی جاری ہے۔

حملوں کا یہ سلسلہ سنیچر کے روز دوپہر دو بجے کے بعد شروع ہوا اور آٹھ گھنٹے سے زیادہ متواتر جاری رہا۔ اس دوران مینگورہ اور اس کےگرد و نواح میں بھاری اسلحے کی گھن گرج سُنی جاتی رہی۔

اطلاعات کے مطابق کانجو کے قریب واقع علاقے ڈھیری، کوزہ بانڈہ اور برا بانڈہ کے علاوہ تحصیل کبل کے اُن علاقوں کو بھاری اسلحے سے نشانہ بنایا جارہا ہے جو مولانا فضل اللہ کے حامیوں کے زیرِ اثر ہیں۔

پاکستان فوج کے شعبہ ءِ تعلقاتِ عامہ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق سنیچر کے روز سوات میں کوزہ بانڈہ میں مبیینہ عسکریت پسندوں کو کوبرا ہیلی کاپٹروں سے نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں فوج کے مطابق مبیینہ عسکریت پسندوں کو بھاری جانی نقصان پہنچا۔

جرگے کی کوششوں
 حکومت نے روایتی جرگہ کے ذریعے علاقے میں امن بحال کرنے کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ اس سلسلے میں چھوٹے چھوٹے علاقوں کی سطح پر جرگے منعقد کیے جارہے ہیں لیکن اس میں تاحال کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں دیکھنے میں آئی کیونکہ حکومت اور اُس سے برسرِ پیکار مسلح افراد کے درمیان مسئلے کا حل نکالنے کے لیے تاحال براہِ راست بات شروع نہیں ہوئی۔
کچھ اس ہی قسم کا دعویٰ سوات میڈیا انفارمیشن سینٹر کی ایک پریس ریلیز میں بھی کیا گیا ہے جس کے مطابق فوج نے جٹ کوٹ، ناجیہ ٹاپ اور منگلور کے علاقوں میں کارروائیوں کے دوران عسکریت پسندوں کو بھاری جانی نقصان پہنچایا۔

تاہم فوج کی پریس ریلیز میں جمعہ کی شام قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے اہلکاروں کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص کے ہلاک ہونے کے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذکورہ شخص مشکوک حالت میں جمعہ کی شام چھ بج کر بیس منٹ پر کبل گالف کورس کی جانب بڑھ رہا تھا تو اُسے رکنے کا اشارہ کیا گیا۔ جب وہ اشارہ کرنے پر بھی نہ رکا تو اُس پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں وہ موقع پر جاں بحق ہوگیا۔

خیال کیا جارہا ہے کہ ضلع شانگلہ میں فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں خاطر خواہ پیش قدمی کرنے کے سبب اب فوج اس سے ملحقہ ضلع سوات میں اپنی کارروائیاں تیز کرنے کو ہے تاکہ شانگلہ کے بالائی حصوں سے پیچھے کی طرف پسپا ہونے پر مجبور مولانا فضل اللہ کے حامیوں کودوسری جانب سوات میں فوجی آپریشن کر کے حکومت کا اختیار بحال کیا جا سکے۔

دوسری جانب حکومت نے روایتی جرگہ کے ذریعے علاقے میں امن بحال کرنے کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں ۔ اس سلسلے میں چھوٹے چھوٹے علاقوں کی سطح پر جرگے منعقد کیے جارہے ہیں لیکن اس میں تاحال کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں دیکھنے میں آئی کیونکہ حکومت اور اُس سے برسرِ پیکار مسلح افراد کے درمیان مسئلے کا حل نکالنے کے لیے تاحال براہِ راست بات شروع نہیں ہوئی۔

فوجی حکام کے اعلان کے مطابق سوات میں کرفیو اتوار دن دو بجے چوبیس گھنٹے مکمل ہونے پر ختم ہوگا۔

سواتعسکری جغرافیہ
ضلع سوات میں شدت پسند کہاں کہاں؟
سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
سواتسوات میں بدامنی
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ
سوات کے ’عسکریت پسند‘’عسکریت پسند‘
سوات: مولانا فضل اللہ کے حامیوں کی چند تصاویر
اسی بارے میں
الیکشن کے التواء کی درخواست
24 November, 2007 | پاکستان
سوات میں دوبارہ رات کا کرفیو
23 November, 2007 | پاکستان
سوات میں کرفیو کا نفاذ
23 November, 2007 | پاکستان
سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک
14 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد