BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 November, 2007, 10:57 GMT 15:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرفیو ختم، موبائل فون بدستور بند

سوات
کرفیو کی وجہ سے سوات کے بارونق بازار بند رہے
مینگورہ اور ضلع سوات کے دیگر شہری علاقوں میں گذشتہ رات لگائے گئے کرفیو کے ختم ہونے کے دو گھنٹے بعد بھی موبائیل ٹیلیفون کا نظام بحال نہیں کیا گیا ۔

حکام نے سوات میں فوج کی نقل و حرکت اور دیگر آپریشنل ضروریات کے پیشِ نظر گذشتہ رات دو بجے سے لے کر جمعہ کے روز بارہ بجے تک کے لیے ضلع میں کرفیو نافذ کیا تھا۔ جس کے دوران موبائیل ٹیلیفون کا نظام بھی معطل رہا۔

گوکہ کرفیو ختم ہونے کے دو گھنٹے بعد بھی موبائیل فون ناکارہ ہیں، تاہم سوات کے شہری آبادی پر مبنی علاقوں مینگورہ ، کانجو، سیدو شریف اور بریکوٹ میں معمولاتِ زندگی آہستہ آہستہ بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں ، اور ہلکی و بھاری ٹریفک سڑکوں پر دیکھنے میں آرہی ہے۔

اس سے پہلے مینگورہ، سیدو شریف اور کانجو میں لوگوں کے معمولاتِ زندگی مفلوج رہے ، شاہراہیں اور گنجان آباد علاقوں کے بیچ میں سے گزرنے والی سڑکیں سنسان رہیں جبکہ بازار ، دکانیں ، سکول ، کالج، سرکاری و غیر سرکاری دفاتر، بنک اور کاروباری ادارے بند رہے ۔

بازاروں اور سڑکوں پر فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار مشین گنوں سے لیس گاڑیوں پر گشت کرتے رہے جبکہ سوات پولیس کے اہلکار سڑکوں اور چوراہوں پر ایک ایک اور دو دو کی ٹکڑیوں میں تعینات رہے اور کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والے اکا دُکا افراد کو واپس بھیجواتے رہے۔

سوات
سوات میں ویران سڑک کا منظر

البتہ شہری آبادی پر مشتمل علاقوں کے گلی کوچوں کی نکڑوں پر لوگ نظر آئے، اسی طرح سڑکوں سے ہٹ کr کھیل کے میدانوں میں کرفیو کی بندش سے بےنیاز بچے کرکٹ اور فٹبال کھیلتے رہے۔

کرفیو کی وجہ سے شہری علاقوں اور بازاروں و سڑکوں کے قریب واقع مساجد میں فجر کی اذان اور نماز ادا نہیں کی جا سکی، اسی طرح کرفیو ختم ہونے کے باوجود اکثر مساجد میں نمازِ جمعہ کے وقت بھی نمازیوں کی حاضری کم رہی۔

تاہم کرفیو کی وجہ سے لوگوں کی نقل و حرکت صرف اُن علاقوں میں محدود رہی جہاں حکومت کی عملداری ہے۔ ضلع سوات کے بیشتر علاقوں میں، جن میں تحصیل مٹہ تحصیل خوازہ خیلہ مکمل طور پر اور تحصیل کبل میں جزوی طور پر، حکومت کو مطلوب مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کا کنٹرول ہے ۔ اور ان علاقوں میں سڑکوں اور سرکاری عمارتوں پر مسلح افراد کی عملداری ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کے حوالے سے حکومت کا گذشتہ رات کا اعلان بے اثر رہا۔

کرفیو کے دوران بچے کھیل رہے ہیں
بچے کرفیو کے دوران گراؤنڈ میں کھیل رہے ہیں

سوات میڈیا انفارمیشن سینٹر کے انچارج امجد اقبال نے جمعرات کی شب کرفیو کے نفاذ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا تھا کہ علاقے میں فوج کی نقل و حرکت کے دوران عام شہریوں کے تحفظ اور دیگر آپریشنل ضروریات کے پیشِ نظر یہ انتظامی اقدام ضروری سمجھا گیا۔

جمعرات کی دوپہر ضلعی صدر مقام کے قریب واقع کانجو بازار سے گزرتے ہوئے ایک فوجی قافلے کی فائرنگ سے ایک عام شہری ہلاک اور تین افراد زخمی ہوگئے تھے ۔ سرکاری ترجمان نے حکومت کی جانب سے اس واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی قافلے نے غلط فہمی کی بنیاد پر چند افراد پر شک پڑنے پر فائر کھول دیا تھا۔

فائرنگ کے اس واقعہ کے بعد علاقے کے عوام نے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔

سواتعسکری جغرافیہ
ضلع سوات میں شدت پسند کہاں کہاں؟
سوات سے نقل مکانی
گھر بار چھوڑنے والوں کو مشکلات کا سامنا
سواتسوات میں بدامنی
سوات میں تشدد کا نہ تھمنے والا سلسلہ
سوات کے ’عسکریت پسند‘’عسکریت پسند‘
سوات: مولانا فضل اللہ کے حامیوں کی چند تصاویر
اسی بارے میں
سوات میں کرفیو کا نفاذ
23 November, 2007 | پاکستان
سوات و شانگلہ: 30 سے زائد ہلاک
14 November, 2007 | پاکستان
سوات: ساٹھ ایف سی اہلکار رہا
09 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد