الیکشن کے التواء کی درخواست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکام کے مطابق سوات میں امن و امان کی خراب صورتِحال کے پیشِ نظر ضلعی ناظم جمال ناصر خان نے چیف الیکشن کشمنر جسٹس (ریٹائرڈ) قاضی محمد فاروق سےگزارش کی ہے کہ ضلع میں آئندہ عام انتخابات کو علاقے میں امن کی بحالی تک ملتوی کردیا جائے۔ اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے ضلعی نائب ناظم ملک صدیق احمد خان نے بی بی سی کو رابطہ کرنے پر کراچی سے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ سوات میں امن و امان کی حالت اس قدر مخدوش ہے اور علاقے سے اس قدر بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے کہ ضلعی حکومت نے صوبائی حکومت سے انتخابات کو ملتوی کرنے کے ساتھ ساتھ یہ گزارش بھی کی ہے کہ علاقے میں جاری فوجی آپریشن بھی بند کرایا جائے۔ اطلاعات کے مطابق ضلع ناظم سوات جمال ناصر خان نے چیف الیکشن کمشنر کو ایک تحریری درخواست میں انتخابات کے التواء کے حوالے سے مؤقف اختیار کیا ہے کہ علاقے میں امن و عامہ کی مجموعی صورتِحال انتہائی خراب ہے۔ ضلع سوات چھ تحصیلوں پر مشتمل ہے جن میں سے تین پر تاحال حکومت کو مطلوب مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کا کنٹرول ہے جبکہ ایک پر اُن کا کنٹرول جُزوی ہے۔ اسی تناظر میں حکومت کی جانب سے لگایا جانے والا کرفیو بھی صرف اُن علاقوں میں پُر اثر ہے جن میں حکومت کی عملداری ہے جبکہ دیگر علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کے حوالے سے اعلان کرنا بھی حکام کے لیے فی الحال ممکن نہیں۔ آئے روز کے کرفیو کے نفاذ کے سبب انتخابات میں حصہ لینے والی سیاسی جماعتوں کے متوقع اُمیدواروں کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانا بھی مشکل ہوچکا ہے اور بار بار کے کرفیو کے نفاذ کے باعث چند امیدوار ہی کاغذاتِ نامزدگی ریٹرننگ افسران سے حاصل کر چکے ہیں۔ مزید چوبیس گھنٹے کے لیے کرفیو دوسری طرف حکام نے سوات میں کرفیو اُٹھائے جانے کے پانچ گھنٹے بعد سنیچر کے دن دو بجے اگلے چوبیس گھنٹوں کے لیے دوبارہ کرفیو نافذ کیا ہے۔ کرفیو کا نفاذ فوج کی علاقے میں نقل و حرکت اور حکومت کو مطلوب مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے خلاف ایک بڑے متوقع فوجی آپریشن کی تیاریوں کے لیے عمل میں لایا گیا ہے ۔ کرفیو کے نفاذ سے تین گھنٹے پہلے انتظامیہ کی جانب سے شہری آبادی کے حامل مینگورہ، کانجو، سیدوشریف، بریکوٹ اور دیگر علاقوں میں مساجد کے پبلک ایڈریس سسٹم کے ذریعے حکومتی اقدام سے مطلع کیا گیا۔ دریں اثناء سوات میڈیا انفارمیشن سنٹر سے جاری کی گئی ایک پریس ریلیز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مسلح افراد کے ٹھکانوں پر آرٹلری اور مارٹرگنوں سے فائرنگ کا سلسلہ سنیچر کے روز بھی جاری رکھا۔ گزشتہ شب اور سنیچر کے روز جن علاقوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے حملہ کیا اُن میں جٹ کوٹ، ناجیہ ٹاپ اور منگلور کے علاقے شامل ہیں۔ حکومتی پریس ریلیز میں ان حملوں کے نتیجے میں متعدد ’عسکریت پسندوں‘ کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ہی پریس ریلیز میں یہ بھی درج ہے کہ ان ہلاکتوں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ حکومت کے ان دعوؤں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل اللہ کے ترجمان سراج الدین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’حکومت آئے روز ہمارے درجنوں ساتھی مارنے کا دعویٰ کرتی ہے تو اس لحاظ سے تو اب تک وہ تمام پانچ سو سے آٹھ سو عسکریت پسند مر جانے چاہیئیں جن کے بارے میں حکومتی دعویٰ تھا کہ اتنی تعداد میں عسکریت پسند سوات میں موجود ہیں۔‘ جھڑپوں کا سلسلہ جاری سنیچر کی صبح اور دوپہر کو فوجی ہیلی کاپٹروں نے سوات کے ضلعی صدرمقام اور اس سے ملحقہ علاقوں پر وقتاٌ فوقتاٌ پروازیں کیں اور حکومت کو مطلوب مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ہیلی کاپٹروں کی پرواز اور اُن کی فائرنگ سے پیدا ہونے والی آواز مینگورہ میں دور دور تک سُنی جاتی رہیں۔ اس سے پہلے سنیچر کی صبح تحصیل کبل سے ایک جوان شخص کی لاش مینگورہ میں سینٹر ہسپتال سیدو شریف لائی گئی۔اطلاعات کے مطابق یہ نامعلوم شخص کبل میں گزشتہ شب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کے درمیان جاری لڑائی میں جاں بحق ہوا۔ دریں اثناء مینگورہ کے قریب نوی کلے چوک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ سے تین عام شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن کی نام حیدر علی، اختر علی اور غلام رحیم بتائے جاتے ہیں۔ ان تینوں کا تعلق سوات کے علاقے سالنڈہ سے بتایا جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||