ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | تازہ حملوں نے کئی خدشات اور سوالات کو دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا ہے |
پاکستان میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد سے خودکش حملوں جیسے دہشت گردی کے واقعات میں جو قدرے کمی آئی تھی، سنیچر کو راولپنڈی کے حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ انتہائی مختصر مدت کے لیے ایک تعطل تھا۔ سرکاری اعداوشمار کے مطابق اس سال جولائی اور نومبر کے دوران اٹھائیس خودکش حملے ہوئے جن میں چھ سو سے زائد اموات ہوئیں۔ لیکن ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد ایک حملہ سابق وفاقی وزیر امیر مقام کی پشاور میں رہائش گاہ پر ہوا تھا جس میں چار ہلاکتیں ہوئیں۔ یعنی اکیس دنوں میں صرف ایک حملہ۔ کئی اعلی سرکاری اہلکار دہشت گردی کے واقعات میں کمی کا کریڈٹ بھی لینے لگے تھے کہ ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد صورتحال میں بہتری آئی ہے لیکن راولپنڈی میں پھر دو حملوں سے یہ دعوے قبل از وقت ثابت ہو گئے ہیں۔ اگرچہ حکومت ان خدشات کو یکسر رد کرتی ہے لیکن چند لوگ یہ شک بھی کرتے ہیں کہ یہ سب کچھ حکومت اپنی مقصد کے لیے بھی کر رہی ہے تبھی ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ آخر حکومت کا دہشت گردی کے خلاف منصوبہ کیوں اب تک ناکام دکھائی دے رہا ہے؟ عسکری تجزیہ نگار بریگیڈئر ریٹائرڈ شوکت قادر کہتے ہیں کہ’اصل مسئلہ تو وہ شہری ہیں جو ناخوش ہیں‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ان افراد کو ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔ ان سے پوچھا جائے کہ وہ کیوں یہ کر رہے ہیں کس لیے کر رہے ہیں‘۔ شوکت قادر کہتے ہیں کہ افواج پاکستان کو بھی سوچنا چاہیے کہ لوگ ان سے کیوں متنفر ہو رہے ہیں، ایسا فوج نے کیا کیا ہے؟۔ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ’لال مسجد ان کے سامنے ہے اور اب سوات میں طیاروں کے ذریعےان پر بمباری کر رہی ہے۔ معصوم لوگ بےگناہ مر رہے ہیں۔جب میرے وطن کے لوگ مجھ سے ناراض ہیں تو مجھ میں کوئی بات ہے‘۔ شوکت قادر کہتے ہیں کہ ایک وقت تھا کہ محسود اور وزیر بھائی ان کا پرتپاک استقبال کیا کرتے تھے اور جب وہ وہاں جایا کرتے تھے تو ’وہ ہمارے پاؤں چوما کرتے تھے۔ پرچم لہرایا کرتے تھے۔ رات کو کھانا ہوا کرتا تھا اور میں کسی محافظ سپاہی کے بغیر وہاں جایا کرتا تھا۔ اب ایسا کیا ہوگیا ہے اور ان لوگوں کو آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ پاکستان دشمن عناصر ہیں تو میں تو یہ ماننے کو تیار نہیں‘۔ اس سوال پر کہ کیا سکیورٹی فورسز پر حملے جاری رہیں گے، بریگیڈئر ریٹائرڈ شوکت قادر کا کہنا ہے کہ’ اب تو ہم جس رستے پر چل رہے ہیں اس میں یہ واقعات تو روزمرہ کے واقعات ہوگئے ہیں۔ میرے معصوم بہن بھائی اور بچے ان کی موت تو لکھی ہوئی ہے‘۔ ادھر افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل وحید ارشد کہتے ہیں کہ حفاظت کے لیے جو اقدامات لیے جانے چاہیے تھے اٹھا لیے گئے تھے لیکن تازہ حملوں نے ایک مرتبہ پھر ایسے کئی خدشات اور سوالات اٹھائے ہیں کہ آیا جنرل مشرف ان حالات میں ایمرجنسی اٹھائیں گے اور کیا ایسے حالات میں عام انتخابات مقررہ وقت پر منعقد ہوسکتے ہیں یا نہیں؟ |