سوات میں ووٹنگ، ایک بڑا چیلنج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گو کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے شورش زدہ ضلع سوات اور اس سے ملحقہ صوبہ سرحد کے شمالی ضلع شانگلہ میں آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کو وقتِ مقررہ پر ممکن بنانے کے لیے کاغذاتِ نامزدگی وصول کرنے کی آخری تاریخ میں چھ دسمبر تک دس دنوں کی توسیع کی ہے، لیکن خرابیِ امن اور موجودہ فوجی آپریشن سے جنم لینے والی صورتِحال کی روشنی میں ان دو اضلاع میں آزادنہ بنیادوں پر اور پُر امن ماحول میں انتخابات کا انعقاد حکومت اور قانون نافذ کرنے اداروں کے لیے ایک بڑا چیلینج تصور کیا جا رہا ہے۔ ضلع سوات کی چھ میں سے تین تحصیلوں پر مکمل اور ایک پر جزوی طور پر حکومت کی تاحال عملداری نہیں ۔یہ اس بات سے بھی واضح ہے کہ ان علاقوں میں قائم بارہ سو سے زائد سرکاری سکولوں میں درس و تدریس کا عمل مکمل طور پر تعطل کا شکار ہے جبکہ مبینہ عسکریت پسندوں کے مضبوط گڑھ تصور کیے جانے والے علاقوں بشمول مٹہ ، خوازہ خیلہ ، مدین اور بحرین میں صحت کے سرکاری مراکز سمیت چند ایک پولیس سٹیشنوں کی عمارتوں پر بھی حکومت کو مطلوب مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ کے مسلح حامیوں کا قبضہ ہے ۔ گذشتہ چند روز کی بڑی فوجی کاروائیوں کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مینگورہ کے اردگرد کے علاقوں میں ’خاطر خواہ‘ کامیابیوں کا دعویٰ کیا ہے ۔ لیکن اب تک فوجی آپریشن اُن علاقوں پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہے جہاں پر فوج کے لیے مولانا فضل اللہ کے حامیوں کو نشانہ بنانا نہ صرف آسان ہے بلکہ ان علاقوں بشمول امام ڈھیری ، کوزہ بانڈہ ، برہ بانڈہ ، جل کوٹ اور کبل میں مولانا فضل اللہ کے اسلح اٹھائے حامیوں کی تعداد مٹہ اور خوازہ خیلہ کے مقابلے میں قدرِ کم ہے۔ مٹہ اور خوازہ خیلہ میں اسلح اُٹھائے افراد ’خاصے تربیت یافتہ‘ بتائے جاتے ہیں اور گوریلہ لڑائی میں خصوصی مہارت کے سبب اُن پر قابو پانا اگر پاکستان فوج کے مضبوط دستوں کے لیے ناممکن نہیں تو کم از کم اتنا آسان نہیں ہوگا کہ حکومت حالات کو آئندہ چند روز میں اپنے قابو میں لے آئے۔ ان زمینی حقائق کے پیشِ نظر سوات کے سیاسی حلقے وقتِ مقررہ پر انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے غیر یقینی کے شکار ہیں۔
مٹہ اور اس کے اردگرد کے علاقوں پر مشتمل قومی اسمبلی کی نشست حلقہ نمبر تیس کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانا متوقع امیدواروں کے لیے مشکل ہے کیونکہ مٹہ میں قائم ریٹرننگ افسر کی عدالت پچھلے کئی روز سے اس لیے بند ہے کہ علاقے میں مبینہ عسکریت پسندوں کی عملداری ہے۔ نہ صرف یہ کہ مٹہ میں کاغذاتِ نامزدگی کا، تاریخ میں توسیع کے باوجود، حصول اور جمع کرانا متوقع امیدواروں کے لیے ایک مشکل عمل ہے بلکہ مینگورہ میں بھی، کہ جہاں زیادہ تر ریٹرننگ افسروں کی عدالتیں واقع ہیں، کئی ایک ریٹرننگ افسروں کے لیے کام کرنا نہایت مشکل ہے۔ صوبائی اسمبلی کی نشست پی۔ایف۔ستاسی (بحرین) کے لیے مینگورہ میں شاہ رُخ ارجمند ریٹرننگ افسر مقرر کیے گئے ہیں ۔ لیکن پیر کے روز جہاں دوسرے حلقوں کے ریٹرننگ افسروں کا ماتحت عملہ متوقع امیدواروں سے کاغذاتِ نامزدگی وصول کرنے کے لیے اپنے اپنے کمرہءِ عدالت میں موجود رہا ، ماتحت عدالت کے جج شاہ رُخ ارجمند کا کمرہِ عدالت کرفیو میں چار گھنٹے وقفے کے دوران بھی مقفل رہا۔ سوات کے غالیگئی ، مُرغزار اور ان سے ملحقہ علاقوں پر مشتمل صوبائی اسمبلی کی نشست پی۔ایف ۔اکاسی کے لیے مقرر کیے گئے ریٹرننگ افسر اپنے ماتحت عملہ کی عدم موجودگی میں خود ہی کاغذاتِ نامزدگی وصول کر نے کے لیے موجود تھے۔ پی۔ایف۔اکاسی کےلیے کُل دس کاغذاتِ نامزدگی حاصل کیے گئے ہیں جن میں سے پیر نومبر چھبیس (جوکہ تاریخ میں توسیع کے اعلان سے پہلے کاغذاتِ نامزدگی وصول کرنے کی آخری تاریخ تھی) ساڑھے دس بجے تک صرف دو امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے۔ پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سوات کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی۔ایف۔چھیاسی سے نامزد امیدوار ، قیموس خان ، جوکہ انیس سو پچاسی سے لے کر انیس سو اٹھانوے تک صوبائی اسمبلی کے پانچ مرتبہ رُکن رہے ہیں ، پیر کے روز دس بجے ڈسٹرکٹ کورٹس مینگورہ کے احاطہ کے ایک کونے میں ہاتھ میں کاغذاتِ نامزدگی تھامے دو ساتھیوں کے ہمراہ مضطرب کھڑے نظر آئے۔
پوچھنے پر کہنے لگے کہ ’ کرفیو کی وجہ سے میرے تجویز کنندہ اور تائید کنندہ تاحال نہیں آسکے ، اُن کے دستخطوں کے بغیر میرے کاغذ جمع نہیں ہوسکتے اور آج آخری تاریخ بھی ہے (یہ بات اُنھوں نے تاریخ میں توسیع سے پہلے کہی ) ‘۔ ضلعی ناظم جمال ناصر خان ، جو کہ خرابیِ امن کی وجہ سے پچھلے چند ماہ سے سوات کے پُر خطر ماحول سے دور اسلام آباد میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ مقیم ہیں، پہلے ہی الیکشن کمیشن کو درخواست کرچکے ہیں کہ سوات میں امن و امان کی مجموعی خراب صورتِحال کی روشنی میں انتخابات مؤخر کر دیے جائیں ۔ مٹہ ہی سے تعلق رکھنے والے اُن کی ٹکر کے سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ کے حامل افضل خان لالہ پر بھی، جوکہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں وفاقی وزیر رہ چکے ہیں اور آج کل عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما ہیں، چند ہفتے قبل قاتلانہ حملہ ہوچکا ہے جس میں وہ بچ تو گئے لیکن ان کی نقل و حرکت اب کم ہو گئی ہے۔ سوات میں قومی اسمبلی کی دو اور صوبائی اسمبلی کی سات نشستوں پر انتخابات ہونے ہیں۔ ان نشستوں پر انتخاب کے لیے ویسے تو پچاس کے لگ بھگ کاغذاتِ نامزدگی وصول کیے گئے ہیں لیکن چھبیس نومبر تک جمع کرائے گئے کاغذات کی تعداد دس سے بھی کم تھی۔ گو کہ زیادہ تر امیدوار انتخابات کے وقتِ مقررہ پر انعقاد کی ضرورت پر زور دے رہے لیکن پھر بھی امن و امان کی موجودہ صورتِحال ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ |
اسی بارے میں غیرملکیوں کو احتیاط کی ہدایت27 November, 2007 | پاکستان سوات: طالبان کے مورچے خالی27 November, 2007 | پاکستان حکومت کی ذمہ داری عوام نے نبھائی26 November, 2007 | پاکستان فوج :سوات میں کامیابی کا دعویٰ25 November, 2007 | پاکستان الیکشن کے التواء کی درخواست24 November, 2007 | پاکستان بارہ سوسکول بند، تقریباً دو لاکھ طلباء متاثر25 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||