سوات: مزید پچاس ہلاکتوں کا دعویٰ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں حکام نے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے مبینہ شدت پسندوں کی پچاس لاشیں قبضے میں لی ہیں جن میں بعض غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ ادھرقبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں سرگرم مبینہ مقامی طالبان نے منگل کی رات کو صوبیدار سمیت آٹھ اہلکاروں کو اغواء کر لیا ہے۔ سوات میڈیا سینٹر کے ترجمان امجد اقبال نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے بعض مبینہ شدت پسندوں کی لاشیں ان کے عزیز و اقارب کے حوالے کردی گئی ہیں۔ان کے بقول ان میں بعض غیر ملکیوں کی لاشیں بھی شامل ہیں تاہم انہوں نے ان کی قومیت کے بارے میں کچھ بتانے سے انکار کردیا۔ علاقے میں موبائل ٹیلی فون سروس کی بندش کی وجہ سے طالبان یا آزاد ذرائع سے ان دعووں کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ امجد اقبال کا مزید کہنا تھا کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب کو سکیورٹی فورسز نے سوات کے دوردراز علاقوں میں قائم طالبان کے بعض مشکوک ٹھکانوں پر بمباری کی ہے تاکہ انہیں دوبارہ منظم ہونے کا موقع نہ مل سکے۔ان کے بقول گزشتہ رات کی بمباری میں ہلاکتوں کے بارے میں ابھی تک کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
دوسری طرف حکومت نے سوات کے صدر مقام مینگورہ اور آس پاس کے علاقوں میں بدھ کی دوپہر بارہ بجے تک کرفیو میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق جنگ زدہ علاقوں سے عام لوگوں کے کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ واضح رہے سوات میں مقامی طالبان نے منگل کو سیدو شریف ائر پورٹ کے قریب چار مقامات پر قائم اپنے چار مورچے خالی کر دیے تھے۔ اس کے علاوہ مولانا فضل اللہ کے حامی امام ڈھیری مرکز ، چار باغ، گلی باغ، خوازہ خیلہ اور مٹہ کے علاقے بھی چھوڑ کر نامعلوم مقام کی طرف منتقل ہو گئے ہیں۔ سوات سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق پیر کی رات مذہبی رہنما مولانا فضل اللہ نے بھی ایف ایم ریڈیو پر اعلان کیا تھا کہ مورچے خالی کرنے کا فیصلہ شورٰی کے اجلاس کے بعد اتفاق رائے سے کیا گیا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ مولانا فضل اللہ کے ایم ایف چینل کے نشریات بند ہوگئی ہیں تاہم گزشتہ رات مذہبی رہنما نے سید و شریف ائر پورٹ کے قریب واقع مورچے خالی کرنے کا اعلان اپنے ایف ایم چینل ہی سے کیا تھا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تین دن قبل حکومت نے بھی سوات میں ایک ایف ایم ریڈیو چینل قائم کیا تھا جس سے کی وجہ سے مولانا فضل اللہ کی ایف ایم نشریات میں خلل پڑنے کی اطلاعات ہیں۔ مہمند ایجنسی میں اہلکاروں کے اغوا کے بارے میں ایک پولٹیکل اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ منگل کی رات تقریباً بارہ بجے پچاس کے قریب مسلح طالبان نے صدر مقام غلنئی سے کئی کلومیٹر دور واقع شرمخان چیک پوسٹ پر تعینات صوبیدار اور وائرلس آپریٹر سمیت آٹھ اہلکاروں کو اغواء کرکے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔انکے بقول اس واقعے کی ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہیں کی ہے۔ اس سے چند روز قبل بھی مہمند ایجنسی میں سرگرم طالبان نے باجوڑ ایجنسی میں داخل ہوکر نائب تحصیلدار سمیت آٹھ اہلکاروں کو اغواء کرلیا تھا جو تاحال انکی تحویل میں ہیں۔طالبان کا کہنا تھا کہ ان اہلکاروں کودو ہفتے قبل چکدرہ کے مقام پر انکے چار ساتھیوں کی گرفتاری کے جواب میں اغوا کیا گیا ہے۔ بدھ کی صبح صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو کے تحصیل ٹل میں سینکڑوں افراد نے ایک مسلح بردار جلوس میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ پولیس کی چوکیاں ختم کرکے انہیں اپنی حفاظت خود کرنےدیں۔ واضح رہے کہ صوبہ سرحد کے ضلع ہنگو کے تحصیل ٹل قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان، کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی کے سرحد پر واقع ہے اور یہاں پر گزشتہ ایک سال سے امن وامان کی صورتحال بہت خراب ہوگئی ہے۔شمالی وزیرستان سے آئے ہوئے مشتبہہ طالبان نے کئی بار اس علاقے میں گھس کر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو اغواء بھی کیا ہے۔ |
اسی بارے میں حکومت کی ذمہ داری عوام نے نبھائی26 November, 2007 | پاکستان بارہ سوسکول بند، تقریباً دو لاکھ طلباء متاثر25 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||