الیکشن کا بائیکاٹ: نواز شریف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اپوزیشن اتحاد اے پی ڈی ایم نے عام انتخابات کے بائیکاٹ کے اپنے فیصلے کا اعادہ کیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ وہ عدلیہ کی دو نومبر والی پوزیشن کی بحالی کے بغیر ہونے والے ’مکروہ‘ الیکشن کا حصہ نہیں بنیں گے اور اتحادی جماعتوں امیدوار اپنے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ ان کا ایک نکاتی ایجنڈا عدلیہ کے ججوں کی دو نومبر والی پوزیشن کی بحالی ہے اور وہ صدر مشرف سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ سے پہلے پی سی او واپس لے کر عدلیہ کو بحال کردیں۔انہوں نے کہا کہ صدر مشرف اگر ایسا کرتے ہیں تو وہ اس کا خیر مقدم کریں گے اور ایک خوشگوار صبح کا آغاز ہوسکتا ہے۔ یہ اعلان شریف خاندان کی رہائش گاہ پر تقریبا چھ گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس کے بعد نواز شریف نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ اجلاس میں جماعت اسلامی، عوامی نیشنل پارٹی، تحریک انصاف، پختونخواہ ملی پارٹی سمیت پچیس کے قریب چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے شرکت کی البتہ مجلس عمل کی ایک بڑی جماعت جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سمیت ان کا کوئی نمائندہ اس میں موجود نہیں تھا۔ دریں اثنا پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گی کیونکہ کہ اس سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہو گا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ انتخابات میں احتجاجاً حصہ لیں گی۔ پریس کانفرنس میں نواز شریف کے ہمراہ جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، مسلم لیگ نواز کے راجہ ظفرالحق، عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی غلام احمد بلور اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے محمود خان اچکزئی بیٹھے تھے جبکہ بعض دیگر رہنما بھی وہیں کھڑے تھے۔
نواز شریف نے کہا کہ اجلاس میں اے پی ڈی ایم کے بائیکاٹ کے فیصلہ کی توثیق کی گئی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک آل پارٹیز کانفرنس کی طرز پر ایک قومی مشاورتی کونسل کا اجلاس کیا جائے گا جس میں پیپلز پارٹی اور جے یوآئی سمیت سول سوسائٹی کی تنظیموں اور ملک کے مختلف طبقوں کے نمائندوں کو بلایا جائے گا۔ان کے بقول تاکہ بائیکاٹ کےاس فیصلے میں پوری قوم شامل ہوسکے۔ اجلاس میں بے نظیر بھٹو اور مولانا فضل الرحمان کو بائیکاٹ کے عمل میں شامل کرنے پر رضامند کرنے کے لیے نواز شریف کی سربراہی میں وفد تشکیل دیا گیا ہے۔ وفد کے دیگر اراکین میں قاضی حسین احمد، عمران خان، محمود خان اچکزئی، عابد حسن منٹو اور نوابزادہ منصورعلی خان شامل ہیں البتہ یہ وفد جب بے نظیر سے ملنے جائے گا تو اس میں قاضی حسین احمد شامل نہیں ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم نے بائیکاٹ کا جو اعلان کیا تھا اسے حتمی تکمیل تک پہنچانے کے لیے وہ بے نظیر بھٹو اورمولانا فضل الرحمان کے پاس جارہے ہیں۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ ان دونوں رہنماؤں کو قائل کرنے اور منانے کے لیے ان کے گھرجائیں گے۔ اجلاس کےدوران شرکاء نے صدر مشرف کا قوم سے خطاب اکٹھے بیٹھ کر سنا اور اسے مسترد کیا۔ نواز شریف نے کہا کہ صدر مشرف کے اعلانات بے معنی ہیں اور وہ اسے تسلیم نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا قتل کر کے اور صدرات کا ناجائز حلف اٹھانے کے بعد ایمرجنسی ختم کرنے کااعلان کیا گیا ہے جس کی کوئی حثیت نہیں ہے اور عدلیہ کی دو نومبر والی صورتحال پر بحالی کے علاوہ صدر مشرف کا کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہوگا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ بائیکاٹ کے فیصلہ پر خوش ہیں اور وہ انتخابات سے بھاگے نہیں ہیں کیونکہ وہ انتخابات لڑ بھی سکتے ہیں اور جیت بھی سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ کرنے والے الیکشن جیتنے والے لوگ ہیں لیکن وہ ایک مقصد کے لیے بائیکاٹ کررہے ہیں۔
قاضی حسین احمد نے کہا کہ جماعت اسلامی کے تمام امیدوار کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ سے پہلے اپنے کاغذات واپس لے لیں گے اور وہ خود مولانا فضل الرحمان سے بات کرکے انہیں بھی جے یوآئی کے امیدواروں کے کاغذات واپس کرانے پر منائیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں اگر پی سی او کے تحت ہونے والے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں تو ان انتخابات اور صدر مشرف کے غیر آئینی اقدامات کو قانونی حثیت مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ججوں کی برطرفی اور ان کی گرفتاری کی حمایت کی جارہی ہے۔ عمران خان نے کہا کہ عدلیہ نے ساٹھ برس میں پہلی بار آزادی سے فیصلے کیے ہیں اور انتخابات میں حصہ لینا ان کی کمر میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے۔ چھ گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس کے دوران شریف خاندان کی رہائش کے اندر اور باہر سول سوسائٹی، وکلاء اور تحریک انصاف کے کارکن ٹولیوں کی شکل میں موجود رہے اور وقفہ وقفہ سے نعرے لگاتے رہے۔ ان کے نعرے تھے کہ’ میاں جی اک بات کرو، الیکشن کا بائیکاٹ کرو، فراڈ الیکشن نامنظور، مشرف نامظور اور گو مشرف گو‘۔ | اسی بارے میں اب حالات بہتر ہو گئے ہیں، ایمرجنسی 16 دسمبر کو اٹھانا چاہتا ہوں: صدر مشرف29 November, 2007 | پاکستان بینظیر، چنگیز مری کی نامزدگی26 November, 2007 | پاکستان انتخابات:’حصہ لینا نہ لینا برابر ہے‘25 November, 2007 | پاکستان انتخابات میں حصہ نہیں لوں گا:شوکت24 November, 2007 | پاکستان سوات انتخابات شیڈول کے مطابق 24 November, 2007 | پاکستان آخر اے پی ڈی ایم لوگ کیوں نہیں لا سکا؟12 September, 2007 | پاکستان آخر اے پی ڈی ایم لوگ کیوں نہیں لا سکا؟12 September, 2007 | پاکستان کوئٹہ: اے پی ڈی ایم کا جلسہ 22 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||