BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 November, 2007, 16:48 GMT 21:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخابات:’حصہ لینا نہ لینا برابر ہے‘

بلوچستان اسمبلی
بائیکاٹ کا فائدہ جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ قائد اعظم کو پہنچےگا: مبصرین
بلوچستان کی سطح پر آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ کے انتخابات سے بائیکاٹ کے اعلان کے حوالے سے نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو نے کہا ہے کہ خفیہ ایجنسوں کی موجودگی میں انتخابات میں حصہ لینا یا نہ لینا ایک برابر ہے کیونکہ اس طرح کے انتخابات میں ان امیدواروں کو کامیاب کرایا جائے گا جنہیں ایجنسیاں چاہتی ہیں۔

واضح رہے کہ بلوچستان کی سطح ہر اے پی ڈی ایم میں شامل بلوچ اور پشتون قوم پرست جماعتوں نے انتخابات سے بائکاٹ کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علماء اسلام نے بلوچستان میں تمام قومی اور صوبائی حلقوں کے لیے اپنے امیدوراوں کے اعلان کے بعد انتحابی مہم تیز کر دی ہے۔

نینشل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو کے مطابق ایمرجنسی اور پی سی او کی موجودگی میں انتحابات کا کوئی مقصد نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کی ہلاکتوں اور نگران حکومت کے قیام کے بعد تو یہ انتخابات بے معنی ہوگئے ہیں اور ’یہ بے کار کی محنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’جب تک کوئی بڑی عوامی قوت کا مظاہرہ نہیں ہوتا کچھ نہیں ہو سکتا کیونکہ موجودہ حکمران کوئی اختلاقی اور سیاسی سطح پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا۔‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ عوامی قوت کا مظاہرہ کون کرے گا تو انہوں نے کہا کہ سیاسی قوتوں کو تحریک شروع کرنی چاہیے تھی اور اب اے پی ڈی ایم کو قوت کا مظاہرہ کرنا چاہیے وگرنہ سب کچھ بے کار جائے گا۔ ’ایمر جنسی کے بعد تحریک شروع نہ کرنا سیاستدانوں کی بڑی غلطی تھی۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ ایک طرف تو انتخابات سے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا ہے اور دوسری جانب ان کے امیدوار کاغذات نامزدگی جمع کرا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے کچھ ارکان نے کاغذات جمع کرائے ہیں اس لیے ان کے کچھ ساتھیوں نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کر رہے ہیں۔

ادھر متحدہ مجلس عمل میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں کیونکہ جمعیت علماء اسلام نے اپنے امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے اور دوسری جانب مجلس عمل میں شامل دیگر جماعتوں نے مولانا محمد خان شیرانی کو مجلس عمل کی صوبائی صدارت سے علیحدہ کر دیا ہے۔ اس بارے میں جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا عبدالواسع سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ صوبے میں دیگر جماعتیں مولانا محمد خان شیرانی کو نہیں ہٹا سکتیں کیونکہ یہ مرکز کا فیصلہ ہوتا ہے اور اگر مرکزی قیادت جو فیصلہ کرے گی جمعیت علماء اسلام قبول کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے انتخابات میں مجلس عمل میں دیگر جماعتیں ایک نشست بھی نہیں جیت سکتیں دو خواتین مخصوص نشستوں پر جمعیت علماء اسلام کے ووٹوں سے اسمبلیوں میں آئی تھیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ قوم پرست جماعتوں کے بائیکاٹ کا فائدہ جمعیت علماء اسلام اور مسلم لیگ قائد اعظم کو پہنچے گا۔

شخصیت و حالات
بلوچستان کا نواب اکبر بگٹی امر ہو گیا؟
بلوچستان تنازع
’صدر پرویز مشرف اورفوج ذمہ دارہیں‘
سردار منگل’مسئلہ سادہ سا ہے‘
’مشرف بش کا غصہ ہم پر نکال رہا ہے‘
اکبر بگٹی بگٹی کی پیش گوئی
بگٹی نے ہڈی میں کیا دیکھا؟
بلوچرپورٹر کی ڈائری
’بی ایل اے سے میرا رابطہ 7 برس قبل ہوا‘
ویب سائٹویب سائٹ پر دعویٰ
جلاوطن حکومت اور بلوچوں کی تردید
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد