BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 November, 2007, 01:40 GMT 06:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: شدید رد عمل، پانچ ہلاک

زخمی پولیس اہلکار
ہنگاموں کے بعد کوئٹہ میں تمام تعلیمی ادارے بند اور سالانہ امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے خفیہ ایجنسی کے ایک سب انسپکٹر سمیت تین افراد کو ہلاک کر دیا ہے جس کے بعد موجودہ ہنگاموں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔ پولیس نے تقریباً تیس افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں زیادہ تعداد طلباء کی ہے۔

کوئٹہ کے ایک پولیس آفیسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا کہ سیٹلائیٹ ٹاؤن میں قلات سٹریٹ میں ایک دکان پر تین افراد بیٹھے تھے جن پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کی ہے جس سے انٹیلیجنس بیورو کے ایک سب انسپکٹر سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے بروری ے علاقے میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے پولیس کے دو اہلکاروں کو ہلاک اور تین کو زخمی کر دیا تھا۔

رحمت اللہ نیازی کے مطابق پولیس نے ان ہنگاموں کے دوران تقریباً تین افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں زیادہ تعداد طلبا کی ہے۔

یاد رہے نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کی خبر کے بعد ہنگامے بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے شروع ہوئے تھے جب گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے اور بروری روڈ پر میڈیکل کالج کے قریب ایک ایمبولنس کو آگ لگا دی گئی تھی۔

بالاچ مری کی ہلاکت
 نوابزادہ بالاچ مری کی ہلاکت کی خبر کے بعد ہنگامے بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے شروع ہوئے تھے جب گاڑیوں کے شیشے توڑ دیے گئے اور بروری روڈ پر میڈیکل کالج کے قریب ایک ایمبولنس کو آگ لگا دی گئی تھی۔
ان ہنگاموں کے بعد کوئٹہ میں تمام تعلیمی ادارے بند اور سالانہ امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

گوادر، تربت اور جیونی سے کشیدگی کی اطلاعات ہیں جہاں سے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ ایک سرکاری دفتر کو آگ لگائی گئی ہے۔ شام کے وقت دکانیں اور کاروباری مراکز بند کر دیے گئے تھے اور بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے قائدین کی گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اس سے پہلے کوئٹہ میں پٹیل روڈ پر نامعلوم افراد نے ایک حجام کی دکان پر دستی بم پھینکا ہے لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

نوشکی سے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے الیکشن آفس پر حملہ کیا ہے جہاں پتھراؤ کے ساتھ ساتھ عمارت کو اور ایک سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی گئی ہے۔ نوشکی میں جگہ جگہ پولیس اور ایف سی کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

ادھر خضدار سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مشتعل طلباء نے ایک بینک اور دکانوں پر پتھراؤ کیا ہے اور پولیس نے مشتعل مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کیا ہے۔ نو افراد کی گرفتاری کی اطلاع ہے۔ تربت اور گوادر سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

سبی کے قریب ناملعوم افراد نے ریل کی پٹڑی کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے بعد ریل گاڑیوں کی آمدو رفت کو روک دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
کوہلومیں پولیس والے ہلاک
28 June, 2004 | پاکستان
کوہلو: ایف سی کا سپاہی ہلاک
17 October, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد