BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 November, 2007, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میر بالاچ مری ہلاک، ہنگامے

 نوابزادہ بالاچ مری
بلوچستان لبریشن آرمی کے ترجمان بیبرگ بلوچ کے طور پر ٹیلیفون کے ذریعے اخباری نمائندوں کو بتایا گیا کہ بالاچ مری ہلاک ہوگئے ہیں
بلوچستان سے سابق رکنِ اسمبلی بالاچ مری کے بھائی گزن مری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ نوابزادہ بالاچ مری ایک کارروائی میں ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کی ہلاکت پر بلوچستان کے بیشتر شہروں میں ہنگامے ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور انسپکٹر سمیت تین زخمی ہوئے ہیں جبکہ دکانوں گاڑیوں اور سرکاری دفاتر پر پتھراؤ کیا گیا ہے اور بعض مقامات سے آگ لگانے کی اطلاعات ہیں۔

کوئٹہ میں سریاب روڈ پر مشتعل مظاہرین نے بلوچستان یونیورسٹی کے سامنے گاڑیوں کے شیشے توڑے اور دکانوں کو آگ لگا دی ۔ کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ بروری کے علاقے میں ایک ایمبلینس کو آگ لگائی گئی ہے۔

اطلاع ہے کہ بروری کے قریب نا معلوم افراد نے پولیس کی گشتی گاڑی پر فائرنگ کی جس سے ایک اہلکار ہلاک اور ایک انسپکٹر سمیت تین اہلکار زخمی ہوگئے۔ پٹیل روڈ پر نا معلوم افراد نے ایک حجام کی دکان پر دستی بم پھینکا ہے لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔

ادھر نوشکی سے مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ مظاہرین نے الیکشن آفس پر حملہ کیا ہے اور ایک سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی گئی ہے۔ نوشکی میں جگہ جگہ پولیس اور ایف سی کو تعینات کر دیا گیا ہے۔

ادھر خضدار سے آمدہ اطلاعات کے مطابق مشتعل طلبا نے ایک بینک اور دکانوں پر پتھراؤ کیا ہے اور پولیس نے مشتعل مظاہرین کو روکنے کے لیے لاٹھی چارج کا استعمال کیا ہے۔ نو افراد کی گرفتاری کی اطلاع ہے۔ تربت اور گوادر سے بھی مظاہروں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

اس کے علاوہ سبی کے قریب نا ملعوم افراد نے ریل کی پٹڑی کو دھماکے سے اڑا دیا ہے جس کے بعد ریل گاڑیوں کی آمدو رفت کو روک دیا گیا ہے۔

اس سے قبل نے بالاچ مری کے بھائی گزن مری نے بتایا تھا کہ انہیں منگل کی رات ایک ساتھی نے اس آپریشن کی اطلاع دی لیکن وہ اپنے دیگر ساتھیوں کی حفاظت کے پیش نظر وہ مقام بتانے سے قاصر ہیں جہاں یہ آپریشن ہوا ہے۔

گزن مری نے یہ بھی بتایا کہ بالاچ مری کی آخری رسومات کے لئے خاندان کے افراد مل کر کوئی فیصلہ کریں گے اور ان کی کوشش ہوگی کہ ایسا نہ ہو جیسا نواب اکبر بگٹی کے وفات کے بعد ان کی آخری رسومات کے ساتھ ہوا تھا۔

اس سے قبل اپنے آپ کو کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ترجمان ظاہر کرنے والے بیبرگ بلوچ نے ٹیلیفون پر کہا تھا کہ میر بالاچ مری گزشتہ دنوں ایک کارروائی میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ملی ہیں کہ بالاچ مری پاک افغان سرحد کے قریب بلوچستان کے علاقہ نوشکی کے قریب سر لچ کے مقام پر سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں ہلاک ہوئے ہیں۔

سرکاری سطح پر اس واقعہ کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا گیا ہے۔

یاد رہے کچھ عرصہ قبل بھی اسی طرح کی خبر گردش کر رہی تھی کہ نوابزادہ بالاچ مری ایک کارروائی میں ہلاک ہو گئے ہیں لیکن اس وقت کہیں سے اس واقعہ کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی جبکہ مری اتحاد کے ترجمان نے اس خبر کی تردید کر دی تھی۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال چھبیس اگست کو نواب اکبر بگٹی کی ڈیرہ بگٹی میں ہلاکت سے پہلے نوابزادہ بالاچ مری کبھی کبھار ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطہ کر لیا کرتے تھے لیکن اس واقعہ کے بعد بالاچ مری نے کسی صحافی سے رابطہ نہیں کیا تھا ہاں یہ ضرور ہوا کہ ان کے نام سے بیانات جاری ہوتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں
کوہلومیں پولیس والے ہلاک
28 June, 2004 | پاکستان
کوہلو: ایف سی کا سپاہی ہلاک
17 October, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد