کوہلو: وزیراعلیٰ کی آمد پر دھماکے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے شہر کوہلو میں آج وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف کے دورے کے دوران دھماکے ہوئے اور راکٹ داغے گئے لیکن کسی قسم کے کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف آج ہیلی کاپٹر کے ذریعے کوہلو پہنچے تو اس دوران دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ فرنٹئر کور کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ معمول کے دھماکے ہیں ان دھماکوں کا وزیر اعلی کے دورے یا فرنٹئرکور سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لورالائی سے مقامی صحافی امانت حسین نے بتایا ہے کہ نا معلوم افراد نے پہاڑوں سے چار راکٹ داغے ہیں جو کھلے میدان میں گرے۔ جوابی کارروائی کرتے ہوئے ایف سی کے اہلکاروں نے چودہ راکٹ اسی مقام کی طرف داغے ہیں جس طرف سے حملہ ہوا تھا۔ اس سے پہلے اتوار کی رات اور پیر کی صبح تین راکٹ داغے گئے تھے۔ ایک ڈاکٹر کے کلینک کے قریب دھماکہ ہوا تھا لیکن ان دھماکوں اور راکٹوں سے کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ اس بارے میں مقامی انتظامیہ سے رابطے کی بھر پور کوشش کی لیکن وزیر اعلی کے دور کی وجہ سے افسران مصروف تھے۔ دریں اثناء ایک نا معلوم شخص نے اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ وزیر اعلی کے دورے کے دوران دھماکوں کی ذمہ داری وہ بلوچ پبریشن آرمی اور بلوچ پیپلز لبریشن فرنٹ کی جانب سے قبول کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ کوہلو میں پچیس اگست کو بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں۔ قوم پرست جماعتیں یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ وزیر اعلی بلوچستان ان انتخابات میں اپنے حمایتی امیدواروں کی انتخابی مہم خود چلا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتخابات سے کچھ دن پہلے کوہلو کے دورے کی اور کوئی وجہ سامنے نہیں آئی ہے سوائے اس کہ وہ اپنے حامیوں کی انتخابی مہم کے لیے کوہلو گئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||