سوئی، کوہلو اور گوادر میں چھاؤنیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی فوج نے سوئی میں ایک نئی چھاؤنی بنانے کے اعلان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ چھاؤنی سکیورٹی کے حالات کی وجہ سے قائم کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل فوجی ترجمان نے کہا تھا کہ چھاؤنی کی تعمیر کا سوئی کے حالیہ واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ فوج کے ترجمان بریگیڈیئر شاہ جہان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس چھاؤنی کی تعمیر پہلے سے طے تھی اوراس کی تعمیر میں کافی عرصہ لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ چھاؤنی کی تعمیر کے لئے سوئی میں چار سو ایکڑ بنجر زمین حاصل کی گئی ہے اور قانون کے مطابق زمین کی قیمت ادا کر دی گئی ہے۔ ا تاہم انہوں نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ اس چھاؤنی کی تعمیر کی وجہ سکیورٹی اور صوبے میں ترقی کی وجوہات کی بنا پر قائم کی جا رہی ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سکیورٹی کی وضاحت کریں تو فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ مزید وضاحت نہیں کر سکتے۔ یہ نیا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صدر جنرل پرویز مشرف بلوچستان باالخصوص سوئی میں سیاسی اور سکیورٹی کے حالات کے بارے میں مختلف سیاستدانوں اور رفقاء سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ صدر مشرف نے جمعرات کو گورنر بلوچستان سے ملاقات کی جس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں صدر نے کہا کہ بلوچستان میں کسی کو ترقی کے کاموں میں رکاوٹ ڈالنے نہیں دی جائے گی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ صوبے میں کوئی شخص بلوچستان کے عوام کو ترقی کے ثمرات سے محروم نہ رکھ سکے۔ اس ملاقات میں صدر اور گورنر نے صوبے میں امن و امان قائم کرنے کے لئے کیے جانے والے اقدامات کا بھی جائزہ لیا۔ ادھر بدھ کی شب صدر جنرل پرویز مشرف نے مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کی ہے جس میں بلوچستان کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سرکاری خبر رسان ایجنسی اے پی پی کے مطابق اس ملاقات میں صدر مشرف نے ملک کے سیاستدانوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لئے حکومت کی مدد کریں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سوئی اور دیگر اہم قومی تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے گااور اس سلسلے میں ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل باہمی صلاح و مشورے اور اتفاق رائے سے کیا جائے گا۔ سوئی میں اس ماہ کے اوائل میں ہتھیار بندوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان تصادم میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور سوئی گیس پلانٹ پر راکٹ حملوں کے بعد پاور پلانٹس اور فیکٹریوں کو گیس کی سپلائی بند کر دی گئی تھی۔اس تصادم کے بعد سوئی میں فوج طلب کر لی گئی تھی۔ فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ سِول انتظامیہ کی درخواست پر فوج کو طلب کیا جا سکتا ہے۔ اس واقعے کے بعد سوئی میں صوبائی حکومت کی درخواست پر گیس پلانٹ کی حفاظت کے لئےفوج تعینات کی گئی تھی۔انہوں نے مزید بتایا کہ سوئی کے علاوہ کوہلو اور گوادر میں بھی چھاؤنیاں قائم کی جائیں گی۔ بلوچ قوم پرست رہنما صوبے میں نئی فوجی چھاؤنیاں بنانے کے مخالف ہیں اور اس اعلان پر نواب اکبر بگٹی کا کہنا ہے کہ اس چھاؤنی کی تعمیر کے لئے زمین زبردستی حاصل کی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||