BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 August, 2005, 19:36 GMT 00:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوہلو حملے والوں کا پتہ ہے: جام یوسف

بلوچستان
فرنٹئر کور کے مطابق ’یہ معمول کے دھماکے ہیں، ان کا وزیر اعلی کے دورے یا فرنٹئرکور سے کوئی تعلق نہیں ہے‘
بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام یوسف نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بدامنی پیدا کرنے اور راکٹ چلانے والوں کو ختم کیاجا سکتا ہے۔ ان کا صفایا کرنے کے لیے جب فوج اور کوبرا ہیلی کاپٹر کو بھیجا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ سیاسی حل نکالا جائے۔ وہ سیاسی حل کیا ہے بتایا جائے۔

کوئٹہ روانگی سے قبل ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانچ چھ۔ سو آدمی لے کر وہ بھی راکٹ چلا سکتے ہیں مگر وہ ایسا نہیں کرینگے کیونکہ وہ حکومت میں ہیں۔

جام یوسف نے کہا کہ کوہلو میں ان پر حملہ کرنے والوں کے بارے میں وہ جانتے ہیں کہ ان کاتعلق کس سے ہے جب ہم کارروائی کرینگے تو سب کو پتہ چل جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے سرداروں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے کہ اس قبائلی جنگ کے خاتمہ کے لیے کوئی مشترکہ حل نکالا جائے۔

بلوچستان میں دھماکوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جو لوگ ترقی کے خلاف ہیں وہ امن امان کا مسئلہ پیدا کر رہے ہیں۔ ہر کوئی بلوچستان کی ترقی کے لیے کام کرنا چاہتا ہے پھر ہم ہوں یا قوم پرست جیسے وہ اعتراضات رکھتے ہیں ایسے ہی ہمیں بھی کچھ اعتراضات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گوادر میں غیر مقامی لوگوں کے قبضے پر شور مچانے والے قوم پرست وہاں خود اسٹیٹ ایجنسی چلا رہے ہیں اور پنجاب اور کراچی کے لوگوں کو زمین بیچ رہے ہیں ان کو اس وقت کیوں بلوچستان کے مفاد نظر نہیں آتے۔

جام یوسف نے کہا کہ بلوچستان میں کچھ جنگجو سردار ہیں جنہوں نے سندھ اور پنجاب کے مجرموں کو پناہ دی ہوئی ہے۔ وہ ان کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے بلوچستان میں بدامی کا ذمہ دار بھارتی خفیہ ایجنسی را کو بھی قرار دیا اور کہا کہ کسی بیروزگار کو پچاس ہزار روپے دے دو وہ بم پھاڑ دیگا۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا بیروزگاری بدامنی کی وجہ ہے توان کا کہنا تھا کہ ایک وجہ ہے۔

بلدیاتی انتخابات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومتی جماعت بھرپور کامیابی حاصل کریگی۔ پہلے مرحلے میں بھی خوشحال پاکستان کامیاب ہوا ہے۔

جام یوسف نے کہا کہ سندھ بلوچستان کا پانی نہیں چوری کر رہا ہے کالاباغ ڈیم سے بلوچستان کا کوئی واسطہ نہیں ہے نے ہیں یہ ہمارا مسئلہ ہے۔

ان سے جب کہا گیا کہ کالاباغ ڈیم کے خلاف تو بلوچستان اسمبلی قرار داد منظور کرچکی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کی رائے تھی موجودہ ہماری رائے ہیں۔

قومی مالیاتی ایوارڈ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سندھ ہمارے موقف کی تائید کریگا تو ہم اس کے موقف کی حمایت کرینگے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد