BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان: یومِ آزادی اور احتجاج

سردار عطا اللہ مینگل فائل فوٹو
سردار عطاءاللہ مینگل نے کوئٹہ میں بلوچ طلبہ اور بلوچ خواتین کے احتجاجی کمیپ سے خطاب کیا
قیامِ پاکستان کے ساٹھویں سال پر بلوچستان میں سرکاری سطح پر آزادی کی تقریبات بھی منعقد ہوئی ہیں اور بلوچ خواتین اور بلوچ طلباء نے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ جن سے بلوچ رہنماؤں نے خطاب کیا اور حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

نامہ نگار ایوب ترین کی ترین کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے زیادہ ترشہروں میں چودہ اگست یوم سیاہ کے طورپرمنایا گیا۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کی اپیل پر بلوچ علاقوں میں بازار بند رہے اور لوگوں نے گھروں پر سیاہ جھنڈے لہرائے۔

صوبائی حکومت نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ صوبے میں امن وامان برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی انتظامات مزید سخت کردیے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر ریونیو عاصم کردگیلو نے ان واقعات کی ذمہ داری ہمسایہ ممالک پر ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس اس کے شواہد موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ صوبے میں رہ کر تخریب کاری کی وارداتوں میں ملوث ہیں ان کے خلاف حکومت کریک ڈاون کر رہی ہے اور جلد ہی انہیں گرفتار کر کے صوبے میں امن بحال کر دیں گے۔

خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے
 عام لوگوں میں بھی خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ کوئٹہ میں آئے دن غیربلوچستانیوں کے گھروں پر دستی بموں سے حملے ہو رہے ہیں اور پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عاصم کردگیلو

ان کا کہنا تھا کہ عام لوگوں میں بھی خوف و ہراس بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ کوئٹہ میں آئے دن غیربلوچستانیوں کے گھروں پر دستی بموں سے حملے ہو رہے ہیں اور پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کی خاتون رکن ڈاکڑ شمع اسحاق کہتی ہیں کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اس وقت سے خراب ہوئی ہے جب سے ملک میں ایک باوردی صدر آیا، بلوچوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع ہوا اور بلوچوں سے پوچھے بغیر فوجی چھاؤنیوں کی تعمیرکا آغاز کیا گیا۔ ایجنسیوں نے آئے دن بلوچ نوجوانوں کو اٹھانا شروع کیا جس کی وجہ سے کئی ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سکریٹری اطلاعات ڈاکٹر اسحاق بلوچ نے کہا کہ اس سلسلے میں گوادر پورٹ کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور خود صدر جنرل پرویز مشرف کئی بار اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں کہ ان کی ماضی کی پالیسیاں غلط تھیں۔

سردار عطاءاللہ مینگل نے کوئٹہ میں بلوچ طلبہ اور بلوچ خواتین کے احتجاجی کمیپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگست کا مہینہ کبھی بھی بلوچوں کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔ ان کے بقول چودہ اگست وہ دن تھا جب بلوچوں پرغلامی کا سورج طلوع ہوا۔ گیارہ اگست کو میر غوث بخش بزنجو کو قتل کیا جبکہ

اگست بلوچوں کیلیے اچھا نہیں ہوتا
 اگست کا مہینہ کبھی بھی بلوچوں کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوا۔ ان کے بقول چودہ اگست وہ دن تھا جب بلوچوں پرغلامی کا سورج طلوع ہوا۔ گیارہ اگست کو میر غوث بخش بزنجو کو قتل کیا جبکہ گزشتہ سال چھبیس اگست کو فوج نے نواب اکبربگٹی کو ہم سے جدا کر دیا
عطا اللہ مینگل
گزشتہ سال چھبیس اگست کو فوج نے نواب اکبربگٹی کو ہم سے جدا کر دیا اور اس سال اگست میں ہمارے نوجوانوں کو مکران میں مار دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بلوچ تحریک کی شد ت میں کمی نہیں آئی ہے۔ آج تو بلوچ خواتین بھی آزادی کی جد و جہد میں حصہ لینے کے لیے احتجاج کر رہی ہیں۔

سردار عطاءاللہ مینگل نے ان نوجوانوں کومبارک باد پیش کی جوبلوچ کاز کے لیے جیلوں میں اسیری کے دن گزار رہے ہیں اور پہاڑوں میں پاکستانی فوجیوں کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ تحریک اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہے کیونکہ یہ جنگ حقوق کی جنگ ہے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک بلوچ قوم کو اپنے وسائل پر اختیار نہیں مل جاتا۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں پر شدید تنقیدکی اور کہا کہ کوئی باشعور شہری چودہ اگست پرخوشیاں نہیں منا سکتا ہے۔

بلوچستان کی صورتحال میں غیرملکی ہاتھ کے بارے میں جب بلوچستان پولیس کے سربراہ طارق مسعود کھوسہ سے را بطہ کیا گیا تو انہوں نے ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ ہمارے پاس اس کے شواہد نہیں ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر بی ایل اے یہ تسلیم کر لے تو پھربات صحیح ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے قائدین کابل میں بیٹھے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے نے چائینیز کو بم دھماکے کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے چھبیس سے زیادہ بلوچوں کو بھی ہلاک کردیا۔

پیر کی رات سات دھماکے ہوئے
 بلوچ طلبا نے آواران میں احتجاج کیا ہے جس پر ان کے تین کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پیر کی رات کوئٹہ اور خضدار میں سات دھماکے ہوئے ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے
آواران میں احتجاج

بلوچ طلبا نے آواران میں احتجاج کیا ہے جس پر ان کے تین کارکنوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پیر کی رات کوئٹہ اور خضدار میں سات دھماکے ہوئے ہیں لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

کوئٹہ کے پولیس افسر رحمت اللہ نیازی نے بتایا ہے کہ شہر کے مختلف علاقوں سے دو دنوں میں پچاس سے زیادہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

 بگتیبلوچ کہانی۔13
متعدد بلوچ سردار آپس میں رشتہ دار ہیں
بلوچ قبائلبلوچستان کے قبائل
اضلاع کا رقبہ اور قبائل کی آبادی کی تفصیل
بلوچ کہانی : 6
بلوچ جدید و منظم یا ’چاکلیٹ فائٹر‘
بلوچ کہانی - 4
بلوچ قومی تحریک کون چلا رہا ہے؟
بلوچستانبلوچ کہانی
بلوچ تحریک کے فوری اسباب کیا ہیں؟
بلوچبلوچ کہانی
بلوچ قوم پرستی، تاریخی پس منظر: دوسری قسط
بلوچ قوم پرستبلوچ کہانی
بلوچ قوم پرستی، تاریخی پس منظر میں: پہلی قسط
اسی بارے میں
بلوچستان کی روشن تصویر
02 March, 2005 | پاکستان
بلوچستان اور ’گریٹ گیم‘
25 April, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد