بلوچستان:سخت حفاظتی انتظامات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ بلوچستان نے صوبائی ترجمان رازق بگٹی کے قتل کے بعد امن و امان برقرار رکھنے کے لیے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں۔ کوئٹہ شہرمیں پولیس کے ساتھ فرنٹیئرکور کے گشت اور چیک پوسٹوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب قوم پرستوں کا کہنا ہے کہ جب تک عوام کو صوبے کے وسائل پراختیار نہیں ملے گا اس وقت تک یہ اقدامات بےمعنی ہیں۔ بلوچستان پولیس کے مطابق صوبائی ترجمان رازق بگٹی قتل اور حب بم دھماکے کے حوالے سے سو سے زیادہ گرفتار افراد شاملِ تفتیش ہیں مگر اس کے باوجود ابھی تک انہیں اصل ملزمان تک پہنچے کی رسائی نہیں ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان طارق مسعود کھوسہ نے کہا ہے کہ وہ ان واقعات میں ملوث ملزمان تک جلد پہنچ جائیں گے کیونکہ ایسے آپریشن میں بعض چیزیں خفیہ رکھنا ضروری ہوتاہے۔ کوئٹہ میں سکیورٹی کے حوالے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تما م اہم مقامات پر پولیس کے ساتھ ایف سی کو بھی تعنیات کر دیا گیا ہے تا کہ مشکوک افراد پر نظر رکھی جائے۔ امن وامان کی صورتحال کے حوالے سے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سابق صدر عبدالولی کاکڑ نے الزام لگایا کہ ’حکومت خود نہیں چاہتی ہے کہ صوبے میں امن وامان ہو تا کہ غیر جمہوری حکومت کے کرتوتوں کی طرف عوام متوجہ نہ ہوں‘ْ۔ ولی کاکڑ نے سیاسی جماعتوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ کسی کوعوام کی فکر نہیں ہے بلکہ سب کواقتدار کی فکر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لاقانونیت کی یہی صورتحال رہی تو ملک کا مستقبل خطرے میں ہے۔ | اسی بارے میں ملزمان کی نشاندہی کے لیے انعام01 August, 2007 | پاکستان رازق بگٹی ہلاکت:17 افرادگرفتار28 July, 2007 | پاکستان رازق بگٹی قاتلانہ حملے میں ہلاک27 July, 2007 | پاکستان عبدالرازق بگٹی دفن کردیے گئے27 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||