عبدالرازق بگٹی دفن کردیے گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان حکومت کے ترجمان عبدالرازق بگٹی کو سبی سے لگ بھگ پندرہ کلومیٹر دور پر واقع ان کے آبائی گاؤں خجک میں جمعہ کی شب دفن کر دیا گیا ہے۔ انہیں جمعہ کے روز کوئٹہ میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ انہیں سنیچر کے روز دفن کیا جائے گا لیکن بعد میں اس پروگرام میں تبدیلی کی گئی۔ نمازہ جنازہ میں شرکت کے لئے ان کے اہل خانہ سمیت رشتہ داروں اور لوگوں کی بڑی تعداد ان کے گاؤں پہلے سے پہنچانا شروع ہوگئی تھی۔ ضلعی انتظامیہ نے سبی، خجک اور گردو نواح میں سیکورٹی فورسز کے انتظامات انتہائی سخت کردیے ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام میر محمد یوسف نے کہا ہے کہ عبدالرازق بگٹی کا قتل ٹارگٹ کلنگ ہے اور اس واقعہ میں ملوث ملزمان کو ہر صورت میں گرفتار کیا جائے گا چاہے وہ کتنے ہی بڑ ے لوگ کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا: ’جس انداز میں رازق بگٹی حکومت کی ترجمانی کر رہا تھا وہ بی ایل اے کو پسند نہیں آیا اور وہ اپنے کاز کی ترجمانی چاہتے تھے۔‘ وزیراعلی نے فوری طورپر مقتول کے ورثاء کے لئے 20 لاکھ روپے کا اعلان کیا۔
انہوں نے کہا کہ رازق بگٹی پر حملہ صرف ان کو قتل کرنا نہیں بلکہ یہ وزیراعلیٰ کو بھی ایک اشارہ ہے کہ وہ اورا ن کے وزراء پر بھی حملے ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرازق بگٹی کا قتل ٹارگٹ کلنگ ہے اور جو غیر رجسٹرڈ اور سیاہ شیشوں والی گاڑیاں ہیں وہ بند ہونی چاہیئے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام ’راہداریاں‘ چاہے وہ ایجنسیوں یا حکومت نے جاری کیے ہوں وہ بند ہونی چاہئے تب ہی ٹارگٹ کلنگ کو ہم روک سکتے ہیں۔ بلو چستان کے پولیس سربراہ طارق مسعود کھوسہ نے کہا ہے کہ عبدالرازق بگٹی کے قتل میں استعمال کی گئی گاڑی کی نشاندہی ہوگئی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لئے دوٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں۔ آئی جی پولیس نے کہا کہ جائے واردات سے ہمیں تین عینی شاہدین ملے ہیں جنہوں نے گاڑی کی نشاندہی کی ہے اور بتایا ہے کہ ایک گاڑی میں سوار تین افراد عبدالرازق بگٹی پر حملہ کر کے چمن پھاٹک کی طرف فرار ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ ملزمان کے خلاف آپریشن کے لئے چھاپہ مار ٹیمیں روانہ کردی گئیں ہیں اور واقعہ میں ملوث ملزمان کا بہت جلد سراغ لگایا لیا جائےگا۔ انہوں نے بتایا کہ موقع سے کلاشنکوف کی گولیوں کے خول پولیس کو ملے ہیں اور عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں تفتیش آگے بڑھ رہا ہے۔ کوئٹہ میں رازق بگٹی کے قتل کے واقعہ کے بعد انتظامیہ نے صوبے بھر میں سیکورٹی کے انتظامات مزید سخت کردیے ہیں۔ کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے جبکہ گورنر ہاؤس، زرغون روڈ، بلوچستان اسمبلی ، ہائیکورٹ، سول سیکرٹریٹ سمیت دیگر اہم سرکاری عمارتوں اور حساس مقامات پر سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ شہر میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے گشت میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں کوئٹہ دھماکہ، بگٹی کے گھر چھاپہ30 May, 2007 | پاکستان بے بس و بے گھر مہاجر بلوچ04 June, 2007 | پاکستان بگٹی کے پوتے کی گرفتاری کا دعویٰ08 June, 2007 | پاکستان ’فوجی حکم ہے کہ ڈیرہ بگٹی جانا منع ہے‘13 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||