’فوجی حکم ہے کہ ڈیرہ بگٹی جانا منع ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے فوجی حکام نے بلوچستان کے ان علاقوں میں جہاں ایک سال گزرنے کے بعد بھی فوجی آپریشن جاری ہے وہاں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے داخلے پر پابندی برقرار رکھی ہے۔ کوہلو، کاہان، پیر کوہ جیسے علاقوں میں عام لوگوں کی آزادنہ آمدو رفت پر بھی پابندی ہے جبکہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں ان کلپر، بگٹی اور دوسرے افراد کی آمدو رفت جاری ہے جنہیں حکومت نے نواب اکبر بگٹی کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد دوبارہ آباد ہونے کو کہا تھا۔ سوئی اور ڈیرہ بگٹی کی طرف جانے کے لیے جب ہم کشمور سے پنجاب کی مختصر حد کو کراس کرتے ہوئے بلوچستان میں داخل ہوئے تو سڑک کے قریب چند ایک دکانوں پر پاکستان کے پر چم نظر آئے جو فوجیوں کی موجودگی کا احساس دلاتے تھے۔ ہماری گاڑی کو سوئی سے کوئی تین چار کلومیٹر پہلے قائم ایک پولیس چوکی پر روکا گیا۔ سادہ کالے کپڑوں میں ملبوس لوگوں نے ہم سے نام پوچھا تو ہم نے اپنا تعارف کروایا۔ اس کے بعد ہی ویرانے میں بنی ہوئی اس پولیس چوکی میں خاصی ہلچل مچ گئی، ایک کے بعد دوسرا اہلکار آنے لگا، کئی سوالات کیے گئے، کئی کارڈ مانگے گئے۔ جب بات نہ بنی تو ہمیں مہذبانہ انداز میں گاڑی سے اترنے کو کہا گیا۔ میں اپنے ڈرائیور اور علاقے سے شناسا ایک مقامی صحافی کے ساتھ اتر کر سڑک کے قریب بنی چوکی کے قریب کھڑا ہو گیا۔ بلوچستان میں زیادہ تر چوکیاں پولیس سے زیادہ لیویز اور ایف سی کے اہلکار کی ہیں۔
میں نے وقتی خاموشی توڑنے کی خاطرداڑھی والے ایک اہلکار سے پوچھا:’آپ ایف سی میں ہیں یاپولیس میں‘، تو اس نے بڑی راز داری سے کہا: ’ہم آرمی والے ہیں‘۔ بلوچستان کے سوئی تھانے کی اس برائے نام پولیس چوکی پر بلوچ رجمنٹ کے چار فوجی تعنیات تھے جو سوئی اور ڈیرہ بگٹی آنے جانے والی گاڑیوں اور مسافروں کی چیکنگ کر رہے تھے۔ کشمور سے آج کل ٹیکسی ڈرائیور مسافروں کو سوئی اور ڈیرہ بگٹی لے جا رہے ہیں۔ ان کا کمپوٹرائزڈ شناختی کارڈ نمبرچوکی پر لکھا جاتا ہے اور انہیں جانے دیا جاتے ہیں۔ ان مسافروں کی چیکنگ کے ساتھ ڈولی چیک پوسٹ کے فوجی اہلکاروں نے آرمی فون سسٹم پر اپنے افسران بالا کو ہمارے مکمل کوائف کے ساتھ اطلاع دی اور ہمیں انتظار کرنے کو کہا گیا۔ جب یہ انتظار آدھے گھنٹے سے طویل ہوا تو فوجی یونٹ کے انچارج صوبیدار شہباز نے ہمیں قریب ہی بنی فوجی کیمپ میں چلنے کو کہا۔ فوجی کیمپ میں ہمیں پورا ڈیڑھ گھنٹا صرف کمانڈر کے فون کے انتظار میں بٹھایا گیا جو بقول صوبیدار کوئٹہ سے فون کر کے اجازت دیں گے۔ ہم دو گھنٹے تک فوجی صوبیدار کے ان بے تکے سوالات کےجوابات دیتے رہے کہ آپ بی بی سی والے پاکستان میں صرف خرابی کی خبریں کیوں سناتے ہیں، ان سوالات کا نہ چاہتے ہوئے بھی جواب دینا پڑ رہا تھا۔ صوبیدار شہباز نے اپنے سپاہیوں کو شربت لانے کو کہا۔ شربت کے بعد صوبیدار نے کھانا لانے کو کہا۔ ہمارے منع کرنے کے باوجود انہوں یہ کہہ کر کھانا منگوایا کہ کبھی سپاہیوں کا کھانا بھی ٹیسٹ کریں۔ دال اور دھول جیسے آٹے سے بنی روٹی صرف ٹیسٹ ہی کی جا سکتی تھی۔ انتظار جب دو گھنٹوں سے بڑھنے لگا تو میں نے اسلام آباد میں اپنے ساتھیوں کو ایس ایم ایس پر اطلاع کی اور صوبیدار کو اپنے واپس جانے کا ارادہ بتایا۔ وہ پھر فوجی فون پر چلا گیا اور واپسی پر کہا کہ جب تک کوئٹہ سے واپسی کے احکامات نہیں آتے آپ آگے تو کجا واپس بھی نہیں جاسکتے۔ کئی پریشان کن لمحوں کے بعد جب صوبیدار فوجی فون سننے کے بعد واپس آیا تو اس کا لہجہ بدلا ہوا تھا اس نے ہمیں ایسے اطلاع دی جیسے کوئی آرڈر پڑھ کر سنا رہا ہو کہ ’سر بلوچستان حکومت نے ہمیں ایسی کوئی اطلاع نہیں دی کہ بی بی سی والے آ رہے ہیں۔ ہم معذرت خواہ ہیں‘۔
بلوچستان میں تعینات فوجیوں کی معذرت بھی دو گھنٹوں کی حراست کے بعد ملتی ہے؟ میں یہ سوچتا ہوا واپس چلا کہ ان سوالات کے جوابات کہاں سے ڈھونڈوں جو ڈیرہ الہیار میں عام دربدر بلوچوں سے ملاقات کے دوران سامنے آئے۔ میں ان اطلاعات کی حقیت جاننے ڈیرہ بگٹی جانا چاہتا تھا جن کے مطابق سنگسیلا کے علاقے سیاہ آف میں ان سات بگٹی خواتین کو ان کے رشتہ داروں نے سیاہ کار قرار دیا ہے جنہیں فوجی اہلکاروں نے ایک گھر پر چھاپے کے بعد گرفتار کر لیا تھا۔ کئی دنوں تک حراست میں رہنے کے بعد جب وہ گھر واپس پہنچیں تو رشتہ داروں نے ان کو غیر مردوں کے پاس دو ہفتے گزارنے کی سزا میں سیاہ کار قرار دے کر گھر سے نکال دیا۔ اس خبر کی ڈیرہ بگٹی جیسے شورش زدہ علاقے میں نہ تو کوئی تردید کرتا ہے نہ ثبوت کے ساتھ تصدیق۔ میں مری قبیلے کے ان لوگوں سے بھی ملنا چاہتا تھا جن کو رستم مری کے بقول داڑھی مونچھ مونڈوانے کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔ ڈیرہ الہیار کے سماجی کارکن رستم مری کے بقول ایک بوڑھے مری نے فوجی افسر کو ہاتھ جوڑ کر کہا:’ہمارا سب کچھ تو لٹ گیا ہے۔اب ایک سفید داڑھی باقی ہے جو ہماری بلوچ ثقافت ہے، خدارا مجھے اس سفید داڑھی کے ساتھ واپس اپنے گاؤں جانے دو‘۔ بلوچستان کے دربدر بلوچوں کی بستیوں میں بچوں کو نئے دور کی لوریوں کی طرح جو باتیں سنائی جا رہی ہیں، میں ان کی حقیقت جاننا چاہتا تھا۔ مگر فوجی حکم ہے کہ ڈیرہ بگٹی جانا منع ہے۔ |
اسی بارے میں بگٹی کی پوتیوں کے اکاونٹ منجمند21 November, 2006 | پاکستان ڈیرہ بگٹی: ’آپریشن دوبارہ شروع‘07 January, 2007 | پاکستان بگٹی املاک کے لیے آئینی درخواست02 April, 2007 | پاکستان بگٹی کے سابق منشی یا مخبر؟23 April, 2007 | پاکستان ڈیرہ بگٹی میں ’مخبر‘ کا قتل24 April, 2007 | پاکستان کوٹ بگٹی:فوج قابض،پولیس محافظ01 May, 2007 | پاکستان کوئٹہ دھماکہ، بگٹی کے گھر چھاپہ30 May, 2007 | پاکستان بگٹی کے پوتے کی گرفتاری کا دعویٰ08 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||