BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 April, 2007, 20:30 GMT 01:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بگٹی املاک کے لیے آئینی درخواست

درخواست میں وزیر اعظم، وزیر اعلٰی سندھ، وزارت دفاع اور داخلہ کے سیکریٹریوں کے علاوہ دیگر کو فریق بنایا گیا ہے
بلوچستان میں فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والے بلوچ قوم پرست رہنماء نواب اکبر بگٹی کی بہو اور سلیم بگٹی کی بیوہ رضیہ سلطانہ نے ان کی ملکیت پر مبینہ سرکاری قبضے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ کراچی میں آئینی درخواست دائر کی ہے۔

اس درخواست میں وزیر اعظم، وزیر اعلٰی سندھ، وفاقی وزارت دفاع اور داخلہ کے سیکریٹریوں، کور کمانڈر ، ہوم سیکریٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، سانگھڑ اور نوابشاہ کی ضلعی ناظمین اور پولیس سربراہان کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ سانگھڑ اور نوابشاہ میں واقع ان کی 400 ایکڑ زرعی اراضی اور حویلی پر پولیس نے زبردستی قبضہ کرلیا ہے اور زمین پر کھڑی فصلیں بھی ہتھیالی ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق زرعی آلات پر بھی پولیس کا قبضہ ہے اور عملاً انہیں ان کی جائداد سے بیدخل کردیا گیا ہے۔

اکبر بگٹی کی بہو نے عدالت عالیہ سے استدعا کی ہے کہ ان کا اپنی ملکیت پر قبضہ بحال کرایا جائے اور قابض پولیس اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گزشتہ سال اکتوبر میں سٹیٹ بینک آف پاکستان نے رضیہ سلطانہ سمیت اکبر بگٹی کی دو بہوؤں کے اثاثے منجمد کردئیے تھے جن میں دوسری بہو ریحانہ بگٹی شامل تھی۔

سٹیٹ بینک نے اپنے حکم نامے میں اس اقدام کا جواز بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ان دونوں خواتین کا تعلق بلوچستان لبریشن آرمی سے ہے جو ایک دہشتگرد تنظیم ہے۔ اس اقدام سے قبل اکبر بگٹی گھرانے کی ان دونوں خواتین کے بیرون ملک سفر پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

گزشتہ سال دسمبر میں جمہوری وطن پارٹی کے رہنما جمیل بگٹی نے الزام عائد کیا تھا کہ رینجرز کے اہلکاروں نے ضلع سانگھڑ میں ان کی زرعی زمین پر موجود سینکڑوں جانور نیلام کردئے ہیں۔ تاہم سندھ رینجرز کے ترجمان نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

خصوصی ضمیمہ
فوجی آپریشن میں اکبر بگٹی کی ہلاکت
ایک یادگار انٹرویو
’وہ میرے بارے میں کہتے ہیں میں جھکتا نہیں‘
حملے کی زد میں
بگٹی پر گزشتہ سال بھی بمباری ہوئی
اکبر بگٹی کی بات
’پوتے اور نواسے مِشن آگے بڑھائیں گے‘
بلوچبلوچ تحریکیں
بُگٹی بلوچ تحریک کاحصہ نہ تھے: آر رحمٰان
عطاللہ مینگلہم تھک گئے: مینگل
’مشرف کے ہوتے ہوئے مفاہمت کا امکان نہیں‘
اسی بارے میں
بگٹی کی ہلاکت کے اثرات
29 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد