کوٹ بگٹی:فوج قابض،پولیس محافظ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ کے ضلع سانگھڑ میں بگٹی خاندان کے رہائشی بنگلے اور تقریباً اڑھائی ہزار ایکڑ زرعی زمین پر مشتمل کوٹ نواب بگٹی کو حکومت پاکستان نے اپنی تحویل میں لے رکھا ہے۔ کوٹ نواب بگٹی کو ئی بڑی بستی نہیں صرف ایک گاؤں ہے، جس کا نام بھی اب مٹا دیا گیا ہے اور یہاں کی زرعی زمینوں کو اب کاشت بھی نہیں کیا جا رہا ہے۔ سندھ میں انگریز راج کے خلاف حُر بغاوت کے حوالے سے مشہور ضلع سانگھڑ سے کوئی دس کلومیٹر دور کھپرو روڈ پر کچی مٹی سے بنی ہوئی مضبوط دیواروں کے اس کوٹ پر اب بگٹی قبیلے کا کوئی محافظ نہیں صرف پولیس اہلکار کھڑے ہیں۔ کوٹ بگٹی کے لوگوں سے بات کرنے کی کوشش کی تو وہ سکیورٹی فورسز اور بگٹی قبائل کے بارے میں بات کرنے کو تیار نہیں تھے۔ نواب اکبر بگٹی کے بڑے بیٹے سلیم بگٹی کی بیوہ رضیہ سلطانہ نے اپنے وکیل سہیل احمد ایڈووکیٹ کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر رکھی ہے، جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ سانگھڑ میں بگٹی خاندان کی ملکیتی اراضی پر سے حکومتی اہلکاروں کا قبضہ ختم کروا یا جائے۔ اس پٹیشن میں ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ اور کور کمانڈر سندھ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
تاہم نواب بگٹی کے بیٹے جمیل بگٹی نے اس پٹیشن کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ابھی وہ اپنے باپ کی موت کا صدمہ برداشت نہیں کر پائے۔ ’خاندان کا سب سے قیمتی اثاثہ تو وہ خود تھے، ان کے بغیر زمین جائداد کی حیثیت ثانوی ہے‘۔ کھپرو روڈ سے اب وہ بڑی سائز کا سائن بورڈ بھی ہٹا دیا گیا ہے جس پر چیف آف بگٹی اسٹیٹ اور کوٹ بگٹی کے نام لکھے ہوئے تھے۔ کوٹ بگٹی میں تعینات پانچ رُکنی پولیس پارٹی کے انچارج اسٹنٹ سب انسپکٹر ثناور حسین ہیں۔ ثناور حسین کا کہنا تھا کہ بگٹی خاندان کا کوئی بھی آدمی اب کوٹ میں نہیں رہتا۔ پولیس صرف گیٹ کے باہر چوکس رہتی ہے۔ کوٹ میں بگٹی خاندان کے رہائشی بنگلے کو آرمی نے تالا لگایا ہوا ہے اور تالے کی چابیاں بھی آرمی کے پاس ہیں۔ سانگھڑ پولیس کے ڈی ایس پی عابد قائمخانی کے مطابق کوئی چھ ماہ قبل سانگھڑ کی بگٹی اسٹیٹ پر فوجی اور نیم فوجی دستوں نے اکبر بگٹی کے پوتے برہمداغ بگٹی کی موجودگی کی اطلاع پر سرچ آپریشن کیا تھا۔ اس سرچ آپریشن میں برہمداغ یا عالی بگٹی تو نہیں ملے تھے لیکن مرحوم سلیم بگٹی کے داماد علی حیدر بگٹی کو ان کے محافظوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا۔ علی حیدر بگٹی ابھی بھی حراست میں ہیں جبکہ ان کے محافظوں کو اطلاعات کے مطابق رہا کر دیا گیا ہے۔ سانگھڑ میں بگٹی خاندان کا کوئی فرد مستقل تونہیں رہتا لیکن اپنی زرعی زمین کی دیکھ بھال کی خاطر نواب بگٹی کے بیٹے مرحوم سلیم اکبر بگٹی کا زیادہ آنا جانا رہتا تھا۔ کئی محققین کا کہنا ہے کہ بلوچستا ن کے بگٹیوں کا سانگھڑ میں آنا تب ہوا جب نواب اکبر بگٹی کے والد نواب محراب خان بگٹی نے 1870 کی حُر بغاوت کو کچلنے کی خاطر اپنے رضاکار قبائلی جنگجؤ سانگھڑ کی طرف بھیجے تھے۔
سانگھڑ میں انگریز راج کے دوران مختلف وقتوں پر تین حُر بغاوتوں کو کچل دیا گیا تھا۔اس دور میں حُر بغاوتیں پیر پگارو خاندان کے بزرگوں کی سرپرستی میں شروع ہوئیں تھیں۔ حُر بغاوت کو کچل دینے میں مدد کرنے کا انعام بگٹی خاندان کو سانگھڑ میں ایک جاگیر کی صورت میں ملا تھا، جو اب حکومت پاکستان کی تحویل میں ہے۔ سانگھڑ کا کوٹ بگٹی اب ایک ایسی ویران جگہ بنتا جا رہا ہے جہاں زندگی کے آثار بہت کم نظر آتے ہیں۔ کوٹ کے باہر بڑے پارکنگ ایریا میں ایک بیکار جیپ کے سوا کوئی گاڑی نہیں کھڑی تھی۔ کوٹ کے اہم داخلی راستے کا بڑا دروازہ ٹوٹا ہوا تھا۔ باہر کئی سو ایکڑ زرعی زمینوں پر کوئی فصل نہیں اُگ رہی تھی اور کوٹ کے احاطے کے اندر اناج کے گودام خالی اور بنگلے کی طرح ویران پڑے تھے۔ کوٹ کے اندر پڑی مختصر کرسیوں اور چارپائیوں پر وقت کی دھول کی اتنی دبیز تحہ جم گئی ہے جسے صاف کرنے میں شاید اتنا ہی وقت لگے جتنا بلوچستان اور وفاق کے درمیان اعتماد کی فضاء قائم ہونے میں لگ جائے۔ |
اسی بارے میں ڈیرہ بگٹی میں ’مخبر‘ کا قتل24 April, 2007 | پاکستان بگٹی کے سابق منشی یا مخبر؟23 April, 2007 | پاکستان سلیم بگٹی کے منشی کا قتل19 April, 2007 | پاکستان بگٹی املاک کے لیے آئینی درخواست02 April, 2007 | پاکستان ’بگٹی کے مال مویشی نیلام‘30 December, 2006 | پاکستان بگٹی کے بیٹے پر بغاوت کا مقدمہ23 November, 2006 | پاکستان بگٹی کی ہلاکت پر 50 کروڑ کانقصان11 September, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||